Updated: September 22, 2026, 6:03 PM IST
| Washington
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ۳؍ میڈیا اداروں کے صحافیوں کو وہائٹ ہاؤس سے باہر رکھنے کے بعد ABC، CBS، Fox News اور NBC نے صدارتی ٹی وی پریس پول کی کوریج روک دی؛ متاثرہ اداروں نے عدالت سے رجوع کرلیا۔ علاوہ ازیں، وہائٹ ہاؤس نے یوٹیوب پر ’’ٹرمپ ٹی وی‘‘ لانچ کیا۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے CNN، MS NOW اور Politico کے صحافیوں کو وہائٹ ہاؤس میں داخلے سے روکنے کے فیصلے کے خلاف امریکی ٹی وی نیٹ ورکس نے غیر معمولی اجتماعی اقدام کرتے ہوئے صدر کی پریس پول کوریج روک دی ہے۔ ABC، CBS، Fox News اور NBC نے بھی صدارتی تقریبات کی مشترکہ ٹی وی کوریج میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا، جس کے نتیجے میں پیر کو وہائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کی ایک تقریب براہِ راست ٹی وی پر معمول کے مطابق نشر نہ ہوسکی۔ یہ تنازع ۱۸؍ ستمبر کو شروع ہوا جب ٹرمپ نے اعلان کیا کہ CNN، MS NOW اور Politico کے صحافیوں کو وہائٹ ہاؤس میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ٹرمپ نے ان اداروں پر صدر اور ان کی انتظامیہ کے بارے میں ’’جعلی خبریں‘‘ اور ’’جھوٹی باتیں‘‘ رپورٹ کرنے کا الزام لگایا۔ وہائٹ ہاؤس نے بعد میں ان اداروں کے صحافیوں کے اجازت نامے منسوخ کردیئے، جبکہ ہفتے کو تینوں اداروں کے صحافیوں کو وہائٹ ہاؤس کے احاطے میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: وہائٹ ہاؤس میں داخلہ پر پابندی کیخلاف ۳؍ میڈیا ادارے ٹرمپ پرمقدمہ کرینگے
پریس پول کے موجودہ نظام میں بڑے ٹی وی نیٹ ورکس باری باری صدر کی تقریبات، سفر اور اہم سرگرمیوں کی ویڈیو اور آڈیو ریکارڈنگ کرتے ہیں اور یہ مواد دوسرے میڈیا اداروں کو بھی فراہم کیا جاتا ہے۔ CNN کو پیر کو صدر کے نیویارک سفر کے دوران پریس پول کی ذمہ داری ادا کرنا تھی، لیکن وہائٹ ہاؤس کی جانب سے اس کے صحافیوں کو رسائی نہ ملنے کے بعد پول نے متبادل نیٹ ورک مقرر کرنے کے بجائے مجموعی کوریج روکنے کا فیصلہ کیا۔ پانچ بڑے نیٹ ورکس، ABC، CBS، CNN، Fox News اور NBC، نے مشترکہ بیان میں کہا کہ عوام کو حکومت کے بارے میں درست اور آزاد معلومات حاصل کرنے میں بنیادی دلچسپی ہے اور کسی انتظامیہ کو محض کسی ادارے کی رپورٹنگ پر اعتراض کی وجہ سے اسے محدود نہیں کرنا چاہیے۔
اس فیصلے کا فوری اثر پیر کو وہائٹ ہاؤس کے ساؤتھ لان میں نئے ہیلی پیڈ کی افتتاحی تقریب کے دوران نظر آیا۔ معمول کے پریس پول کیمرے اور مائیکروفون موجود نہ ہونے کے باعث وہائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ویڈیو میں ٹرمپ کی گفتگو واضح طور پر سنائی نہیں دے سکی۔ دیگر ٹی وی اداروں کو صدر کی تقریر کی معمول کی پول کوریج دستیاب نہیں تھی۔ اسی دوران CNN، MS NOW اور Politico نے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر کردیا۔ تینوں اداروں کا کہنا ہے کہ ان کے صحافیوں کے اجازت نامے بغیر مناسب اطلاع اور قانونی کارروائی کے منسوخ کیے گئے اور یہ اقدام امریکی آئین کی پہلی ترمیم کے تحت آزادیٔ صحافت کے تحفظات سے متصادم ہے۔ ان اداروں نے عدالت سے وہائٹ ہاؤس میں اپنے صحافیوں کی رسائی بحال کرنے کے لیے فوری حکم جاری کرنے کی درخواست بھی کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ورمونٹ کے ایک شخص کو فلسطینی طلبہ کو گولی مارنے کے جرم میں عمر قید
تینوں میڈیا اداروں نے مشترکہ طور پر کہا کہ وہ اپنے آئینی حقوق کے تحفظ اور اس اصول کے دفاع کے لیے عدالت گئے ہیں کہ حکومت یہ فیصلہ نہیں کرسکتی کہ پریس کیا رپورٹ کرے یا شائع کرے۔ ان کا مؤقف ہے کہ وہائٹ ہاؤس نے ان کے صحافیوں کے اجازت نامے اس لیے منسوخ کیے کیونکہ انتظامیہ ان کی رپورٹنگ سے اختلاف کرتی تھی۔ ٹرمپ نے مقدمے کے بعد بھی اپنے مؤقف کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا اداروں کی جانب سے کیا جانے والا احتجاج انہیں پریشان نہیں کررہا۔ ان کے مطابق وہ ادارے ان کے خلاف ’’جعلی خبریں‘‘ پھیلاتے ہیں اور وہائٹ ہاؤس میں رسائی کو ایک خصوصی سہولت کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی کہا کہ حکومت ان اداروں کو ’’خصوصی رسائی‘‘ فراہم نہیں کرے گی، تاہم ان کے مطابق یہ میڈیا کو رپورٹنگ سے روکنے کے مترادف نہیں ہے۔
وہائٹ ہاؤس نے ٹی وی نیٹ ورکس کی جانب سے پریس پول کوریج روکنے کے بعد اپنی متبادل ویڈیو نشریات کا انتظام بھی شروع کردیا۔ انتظامیہ نے ’’Trump TV‘‘ کے نام سے ۲۴؍ گھنٹے چلنے والی اسٹریمنگ فیڈ شروع کی، جس میں صدر کی تقریریں، سرکاری تقریبات، اعلانات اور منتخب ویڈیو مواد براہِ راست یا ریکارڈ شدہ شکل میں نشر کیا جائے گا۔ اس تنازع نے وہائٹ ہاؤس اور امریکی میڈیا کے درمیان آزادیٔ صحافت اور صدارتی رسائی کے اختیارات سے متعلق پرانی کشیدگی کو دوبارہ نمایاں کردیا ہے۔ عدالت اب یہ طے کرے گی کہ انتظامیہ کی جانب سے میڈیا اداروں کی رسائی محدود کرنے کا اقدام امریکی آئینی تحفظات سے کس حد تک مطابقت رکھتا ہے۔ مقدمہ زیرِ سماعت ہونے کے باعث اس قانونی تنازع کا حتمی نتیجہ ابھی سامنے نہیں آیا ہے۔