اسرائیل نے جنگی نامہ نگاری پر پابندیاں نافذ کر دیں،اس کے ساتھ ہی میزائلوں کے فوجی مقامات پر گرنے کی اطلاعات پر بھی پابندی عائد کی، صحافیوں کو حکم دیا گیا کہ وہ فوجی یا اسٹریٹجک مقامات پر گرنے والے میزائلوں کے بارے میں معلومات شائع نہ کریں۔
EPAPER
Updated: June 10, 2026, 3:01 PM IST | Tel Aviv
اسرائیل نے جنگی نامہ نگاری پر پابندیاں نافذ کر دیں،اس کے ساتھ ہی میزائلوں کے فوجی مقامات پر گرنے کی اطلاعات پر بھی پابندی عائد کی، صحافیوں کو حکم دیا گیا کہ وہ فوجی یا اسٹریٹجک مقامات پر گرنے والے میزائلوں کے بارے میں معلومات شائع نہ کریں۔
اسرائیلی فوجی سنسر نے پیر کو جاری علاقائی جنگ کی نامہ نگاری پر سخت پابندیاں عائد کرتے ہوئے صحافیوں کو حکم دیا کہ وہ ملک میں فوجی مقامات پر گرنے والے میزائلوں کے بارے میں معلومات شائع نہ کریں۔یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب اسرائیل نے اتوار کی شام لبنانی دارالحکومت بیروت پر بمباری کر کے کشیدگی کو نئی راہ دی، جس کے نتیجے میں ایران کی جانب سے جوابی میزائل حملے کیے گئے۔ اسرائیل نے جواب میں ایران کے اندر اہداف پر فضائی حملے کئے۔ بعد ازاں فوجی سنسر نے صحافیوں کو بھیجے گئے ایک حکم نامے میں کہا کہ انہیں ایران یا حزب اللہ کی طرف سے اسرائیل پر کی جانے والی فائرنگ کے حوالے سے اس کی ہدایات پر مکمل عمل کرنا ہوگا۔ہدایات میں کہا گیا،’’اسرائیل میں داغے گئے میزائلوں کی صحیح تعداد شائع نہ کریں۔ آپ عام فقرے جیسے چند میزائل،یادرجنوں استعمال کر سکتے ہیں، لیکن صحیح تعداد نہیں۔
یہ بھی پڑھئے: جنگ کے ۱۰۰؍دن : خطے نے ہزاروں جانیں گنوائیں، ایندھن کا بحران، دنیا بے حال
اس کے علاوہ ہدایات میں کہا گیا، ’’ان میزائلوں کے بارے میں خبر شائع نہ کریں جو ہدف تک پہنچنے سے پہلے گر گئے یا راستے میں تباہ ہو گئے۔ اس کے بجائے کہیں کہ وہ اپنی منزل تک نہیں پہنچی۔ ساتھ ہی سنسر شپ نے صحافیوں کو یہ بھی حکم دیا کہ وہ فوجی یا اسٹریٹجک مقامات پر یا سمندر میں گرنے والے میزائلوں کے بارے میں کوئی معلومات شائع نہ کریں۔‘‘ مزید برآں یہ ہدایت کی گئی کہ انٹرسیپٹر میزائلوں کے ہدف کو نشانہ بنانے کی کوئی ویڈیوز شائع نہ کریں۔‘‘
واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب اسرائیل نے جاری جنگ کی خبروں پر سخت سنسر شپ عائد کی ہو۔ اسرائیل نے پہلے بھی خطے میں اسرائیلی جنگوں سے اپنے اصل نقصانات پر وسیع پابندی عائد کر رکھی تھی۔اسرائیل نے ان مقامات کی تصاویر اور ویڈیوز کی گردش پر بھی پابندی لگا رکھی ہے جہاں اسرائیلی شہروں، قصبوں اور بستیوں میں میزائل اور ڈرون گرے تھے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے گرنے یا روکے جانے والے میزائلوں اور ڈرونوں سے جو انسانی اور مادی نقصانات کا اعلان کیا جاتا ہے، وہ سخت سنسر شپ کے تحت حقیقی نقصانات سے کم ہوتے ہیں۔ ذہن نشین رہے کہ یہ خطہ اس وقت سے کشیدہ ہے جب امریکہ اور اسرائیل نے فروری کے آخر میں ایران پر فضائی حملے کیے، جس کے نتیجے میں ایران نے اسرائیل اور دیگر علاقائی ممالک میں امریکی اثاثوں پر جوابی کارروائی کی۔تاہم کچھ دنوں کی عارضی جنگ بندی کے بعد جب اسرائیل نے ایران کے انتباہ کے باوجود بیروت پر حملہ کیا تو ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل پر بڑے پیمانے پر میزائل داغے، جن میں سے بیشتر اپنے ہدف تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔ جس کے نتیجے میں اسرائیل کے مختلف شہروں میں زبردست نقصان کی خبریں ہیں۔ عوام کے غصے اور اپنے فوجیوں کی حوصلہ شکنی سے بچنے کیلئے اسرائیل نے ایسی خبروں پر پابندی عائد کردی ہے۔