• Thu, 17 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں ابراہیمی مسجد کو مسلم زائرین کیلئے پھر بند کیا

Updated: September 17, 2026, 11:22 AM IST | Jerusalem

اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی شہر الخلیل میں واقع تاریخی ابراہیمی مسجد کو مسلم نمازیوں کیلئے جمعرات کی شام تک ایک بار پھر مکمل طور پر بند کر دیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے اس اقدام کی وجہ یہودی تہوار کےموقع پر غیر قانونی اسرائیلی آباد کاروں کی حفاظی تدابیرکو قرار دیا ہے۔

The historic Ibrahimi Mosque located in the southern West Bank city of Hebron. Photo: X
مغربی کنارے کے جنوبی شہر الخلیل میں واقع تاریخی ابراہیمی مسجد۔ تصویر: ایکس

اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی شہر الخلیل میں واقع تاریخی ابراہیمی مسجد کو مسلم نمازیوں کیلئے جمعرات کی شام تک ایک بار پھر مکمل طور پر بند کر دیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے اس اقدام کی وجہ یہودی تہوار کےموقع پر غیر قانونی اسرائیلی آباد کاروں کی حفاظی تدابیرکو قرار دیا ہے۔بدھ کو جاری کردہ ایک بیان میں، فلسطینی وزارتِ اوقاف و مذہبی امور نے اس اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ وزارت نے بین الاقوامی اور انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ مسجد کے خلاف جاری ’’منظم خلاف ورزیوں‘‘ کو روکنے اور مسلمانوں کی عبادات و رسائی کی آزادی کو یقینی بنانے کیلئے فوری طور پر مداخلت کریں۔

یہ بھی پڑھئے: ملائیشیا: اسرائیل جانے والے مزید تین کنٹینر ضبط، پابندیوں پر سختی کا اشارہ

 مزید برآں ابراہیمی مسجد کے ڈائریکٹر معتصم ابو سنینہ نے اس اقدام کو مسجد کے بچے کچے حصے پر قبضہ کرنے کی کوشش قرار دیا اوراس سے تنازع  بڑھانے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ابراہیمی مسجد کے تمام ہال اور صحن مکمل طور پر ایک اسلامی مقام ہیں اور اس پر پابندیاں بین الاقوامی معاہدوں کے تحت حاصل عبادات کی آزادی پر کھلم کھلا حملہ ہیں۔مسجد کی بندش کے ساتھ  اسرائیلی فورسیز نے ارد گرد کے علاقوں میں حفاظتی انتظامات سخت کر دیئے ہیں اور مسجد کی طرف جانے والے تمام چیک پوائنٹس اور الیکٹرانک گیٹوں کو بند کر دیا ہے۔ اس کارروائی کی وجہ سے قریب واقع ابراہیمی بیسک اسکول فار بوائز اور الفَیحَاء بیسک اسکول فار گرلز کے طلبہ اور اساتذہ کی آمد و رفت شدید متاثر ہوئی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: برطانیہ غزہ میں بچوں کے قتل پر اب مزید خاموش نہیں رہے گا: فرسٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ

دریں اثناء فلسطینی خبر رساں ایجنسی وفا کے مطابق، ان سخت اقدامات کی وجہ سے ابراہیمی اسکول میں تعلیمی سرگرمیاں مکمل طور پر ٹھپ ہو گئیں جبکہ الفیحاء اسکول میں بھی تعلیمی نظام میں شدید خلل پڑرہا ہے۔ واضح رہے کہ یہ تاریخی ابراہیمی مسجد، الخلیل کے پرانے شہر میں واقع ہے، جو مکمل طور پر اسرائیلی فوجی قبضے میں ہے اور جہاں تقریباً ایک ہزار ۵۰۰؍ اسرائیلی فوجیوں کی سخت سیکیورٹی کے تحت ۴۰۰؍ کے قریب غیر قانونی اسرائیلی آباد کار مقیم ہیں۔ یاد رہے کہ ۱۹۹۴ء میں ایک غیر قانونی اسرائیلی آباد کار کی جانب سے کئے گئے بھیانک قتلِ عام کے نتیجے میں ۲۹؍ فلسطینی نمازیوں کی شہادت کے بعد، اسرائیل نے اس مسجد کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا تھا، جس کے تحت اس کا ۶۳؍ فیصد حصہ یہودیوں کیلئےاور صرف۳۷؍ فیصد حصہ مسلمانوں کیلئے مختص کر دیا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK