• Tue, 10 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل ۲۰۴۸ء سے پہلے ٹوٹ سکتا ہے: سابق اسرائیلی جنرل کا غیر معمولی انتباہ

Updated: February 10, 2026, 3:07 PM IST | Tel Aviv

اسرائیل کے ایک سینئر ریٹائرڈ فوجی جنرل نے خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ سیاسی، سماجی اور اسٹریٹجک راستہ برقرار رہا تو اسرائیل اپنی ۱۰۰؍ ویں سالگرہ تک پہنچنے سے پہلے ہی اندرونی طور پر منہدم ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق ریاست کو اصل خطرہ بیرونی دشمنوں سے کم اور اندرونی تقسیم، قیادت کی ناکامی اور عالمی تنہائی سے زیادہ ہے۔

Itzhak Brik. Photo: X
ایتزاک بریک۔ تصویر: آئی این این

اسرائیل کے مستقبل سے متعلق ایک غیر معمولی اور سخت انتباہ سامنے آیا ہے، جس میں ملک کے ایک سینئر ریٹائرڈ فوجی افسر نے کہا ہے کہ اگر موجودہ حالات برقرار رہے تو اسرائیل اپنی ۱۰۰؍ ویں سالگرہ (۲۰۴۸ء) تک پہنچنے سے پہلے ہی اندرونی طور پر ٹوٹ سکتا ہے۔ یہ بیان ایتزاک بریک کا ہے جو اسرائیلی فوج میں میجر جنرل کے عہدے پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اپنے حالیہ تجزیے میں بریک نے کہا ہے کہ اسرائیل کو درپیش سب سے بڑا خطرہ کسی بیرونی فوج یا ریاست سے نہیں بلکہ خود اسرائیلی معاشرے کے اندر پیدا ہونے والی گہری تقسیم سے ہے۔ ان کے مطابق اسرائیلی سوسائٹی مختلف نظریاتی، مذہبی اور سیاسی خانوں میں اس حد تک بٹ چکی ہے کہ اجتماعی قومی مقصد کمزور پڑ گیا ہے۔ بریک کے مطابق دائیں اور بائیں بازو کی سیاست، مذہبی اور سیکولر طبقوں کی کشیدگی، اور یہودی معاشرے کے اندر مختلف نسلی و نظریاتی دھڑوں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج ریاستی استحکام کے لیے خطرناک شکل اختیار کر چکی ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ایسی ریاستیں بیرونی حملوں سے نہیں بلکہ اندرونی کھوکھلا پن سے ٹوٹتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: تھائی لینڈ انتخابات: بھوم جے تھائی پارٹی کو فیصلہ کن فتح، نیا حکومتی دور متوقع

سابق جنرل نے اسرائیلی سیاسی قیادت پر بھی سخت تنقید کی ہے۔ ان کے بقول، موجودہ قیادت قلیل مدتی سیاسی مفادات اور ذاتی بقا پر توجہ دے رہی ہے، جبکہ طویل مدتی قومی حکمتِ عملی تقریباً ناپید ہو چکی ہے۔ بریک کا کہنا ہے کہ ریاست کے بنیادی ستون،سیکوریٹی، معیشت، تعلیم اور سماجی ہم آہنگی،ایک دوسرے سے کٹ کر کمزور ہو رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسرائیل کی بین الاقوامی حیثیت اور اخلاقی ساکھ میں نمایاں کمی آئی ہے۔ بریک کے مطابق دنیا کے کئی حصوں میں اسرائیل کو اب ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو تصادم، انکار اور طاقت کے استعمال پر انحصار کرتا ہے، جس کے نتیجے میں سفارتی تنہائی بڑھ رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کوئی بھی ریاست طویل عرصے تک عالمی تنہائی میں زندہ نہیں رہ سکتی۔ بریک نے ملک سے بڑھتی ہوئی ہجرت کو بھی ایک خطرے کی علامت قرار دیا۔ ان کے مطابق حالیہ برسوں میں قابلِ تعلیم، پیشہ ور اور نوجوان اسرائیلی شہری بیرونِ ملک مواقع تلاش کر رہے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ریاست کے مستقبل پر اعتماد کم ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب ایک ملک کے شہری خود اس کے مستقبل سے مایوس ہو جائیں تو یہ محض آبادی کا مسئلہ نہیں بلکہ ریاستی بحران کی علامت ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ڈلاس پر امریکی قانون ساز کا متنازع بیان، ’اسلامائزیشن‘ کے دعوے پر شدید ردِعمل

سابق جنرل نے یہ بھی واضح کیا کہ اسرائیل کی فوجی طاقت یا جدید اسلحہ اس بحران کا حل نہیں ہے۔ ان کے مطابق، اگر ریاست کے سماجی اور اخلاقی ڈھانچے کمزور ہوں تو فوجی برتری بھی دیرپا تحفظ فراہم نہیں کر سکتی۔ انہوں نے لکھا کہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ طاقتور فوجیں بھی کمزور معاشروں کو نہیں بچا سکتیں۔ بریک کے تجزیے میں ایک اہم نکتہ نئی قیادت کی ضرورت بھی ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل کو فوری طور پر ایسے نوجوان، تعلیم یافتہ اور غیر نظریاتی لیڈرز کی ضرورت ہے جو قومی مفاد کو ذاتی یا جماعتی سیاست پر ترجیح دیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر پرانے طرز کی قیادت برقرار رہی تو ریاستی زوال کا عمل تیز ہو سکتا ہے۔ یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل اندرونی سیاسی عدم استحکام، خطے میں بڑھتی کشیدگی اور عالمی سطح پر سخت تنقید کا سامنا کر رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اگرچہ بریک کا مؤقف تمام اسرائیلی حلقوں کی نمائندگی نہیں کرتا، لیکن یہ ایک اندرونی خود احتسابی کی آواز ضرور ہے جسے نظر انداز کرنا مشکل ہوگا۔ بریک کے مطابق یہ ابھی انتباہ ہے، فیصلہ نہیں،لیکن اگر ریاست نے راستہ نہ بدلا تو تاریخ فیصلہ خود سنا دے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK