Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل نے ایران پر حملوں سے قبل عراقی صحرا میں خفیہ فوجی اڈہ قائم کیا: رپورٹ

Updated: May 11, 2026, 9:59 PM IST | washington

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے ایران کے خلاف فضائی کارروائیوں کی تیاری کے لیے فروری میں عراقی صحرا میں ایک خفیہ فوجی اڈہ قائم کیا تھا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ اڈہ اسرائیلی فضائیہ کے لیے لاجسٹک مرکز اور سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز کے لیے استعمال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اسرائیلی فورسیز نے اڈے کی رازداری برقرار رکھنے کے لیے عراقی فوجی یونٹوں پر فضائی حملے بھی کیے۔ اسرائیلی فوج نے اس رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا جبکہ عراقی حکام نے اس وقت حملوں کو ’’غیر مجاز کارروائی‘‘ قرار دیا تھا۔

Jet plane: Photo INN
جیٹ طیارہ : تسویر آئی این این

دی وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف اپنی فضائی مہم کی حمایت کے لیے فروری میں عراقی صحرا میں ایک خفیہ فوجی اڈہ قائم کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق یہ اڈہ ۲۸؍ فروری کو ایران پر امریکی اسرائیلی حملوں سے کچھ عرصہ قبل قائم کیا گیا اور اسے اسرائیلی فضائیہ کی کارروائیوں کے لیے ایک لاجسٹک مرکز کے طور پر استعمال کیا گیا۔ امریکی حکام اور دیگر ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اس اڈے پر اسرائیلی اسپیشل فورسیز اور سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں بھی تعینات تھیں، جن کا مقصد ممکنہ طور پر مار گرائے جانے والے اسرائیلی پائلٹوں کو بچانا تھا۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ مارچ کے اوائل میں عراقی فورسیز کو اس خفیہ اڈے کی موجودگی کا شبہ ہوا، جس کے بعد اسرائیلی فوج نے مبینہ طور پر ان یونٹوں پر فضائی حملے کیے تاکہ مزید تحقیقات روکی جا سکیں۔ ان حملوں میں ایک عراقی فوجی ہلاک ہوا تھا۔ اس وقت عراق کی حکومت نے حملے کو ’’بغیر اجازت اور بغیر رابطے کے کی گئی لاپروا کارروائی‘‘ قرار دیا تھا۔ ابتدائی طور پر بغداد نے ان حملوں کا الزام امریکہ پر عائد کیا تھا، تاہم بعد میں ذرائع نے وال اسٹریٹ جرنل کو بتایا کہ امریکہ اس کارروائی میں شامل نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھئے : اسرائیل نے غزہ جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے دو کارکنوں کو رہا کر دیا

رپورٹ میں ایک عراقی فوجی افسر کے حوالے سے کہا گیا کہ ’’ایسا لگتا تھا کہ زمین پر ایک خصوصی فورس موجود تھی، جو فضائی مدد کے ساتھ ہماری یونٹوں کی صلاحیت سے کہیں زیادہ مربوط کارروائی انجام دے رہی تھی۔‘‘ عراقی میڈیا نے اس دوران ایک مقامی چرواہے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ اس نے دور دراز صحرائی علاقے میں ’’غیر معمولی فوجی سرگرمی‘‘، ہیلی کاپٹروں کی نقل و حرکت اور فائرنگ دیکھی تھی۔ اسرائیلی فوج نے رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ تاہم، رپورٹ میں اسرائیلی فضائیہ کے اُس وقت کے سربراہ میجر جنرل تومر بار کے مارچ میں دیے گئے ایک بیان کا حوالہ دیا گیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ فضائیہ کے خصوصی یونٹس ’’غیر معمولی مشن‘‘ انجام دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے : اسرائیل کی وزارتی کمیٹی ’’اوسلو ‘‘معاہدے کو ختم کرنے کے بل پر بحث کرے گی

انہوں نے کہا تھا، ’’فضائیہ کے خصوصی دستے ایسے آپریشنز کر رہے ہیں جو کسی کے بھی تصور کو حیران کر سکتے ہیں۔‘‘ دفاعی ماہرین کے مطابق عراق کا مغربی صحرا اپنی کم آبادی اور وسیع و عریض علاقے کے باعث خفیہ فوجی سرگرمیوں کے لیے موزوں سمجھا جاتا ہے۔ ہورائزن اینجج انٹیلی جنس فرم کے سربراہ مائیکل نائٹس نے اخبار کو بتایا کہ ’’بڑے فوجی آپریشنز سے پہلے ایسے مقامات کا استعمال اور تیاری غیر معمولی بات نہیں۔‘‘ رپورٹ کے مطابق اوپن سورس انٹیلی جنس (OSINT) تجزیہ کاروں نے حالیہ سیٹیلائٹ تصاویر میں کربلا سے تقریباً ۱۸۰؍  کلومیٹر جنوب مغرب میں ایک خشک جھیل کے کنارے عارضی ہوائی پٹی جیسی ساخت کی نشاندہی بھی کی ہے۔ اس انکشاف نے خطے میں جاری کشیدگی اور خفیہ فوجی سرگرمیوں سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان تناؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK