Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل کی وزارتی کمیٹی ’’اوسلو ‘‘معاہدے کو ختم کرنے کے بل پر بحث کرے گی

Updated: May 10, 2026, 10:14 PM IST | Tel Aviv

اسرائیل کی وزارتی کمیٹی’’ اوسلو‘‘ معاہدے کو ختم کرنے کے بل پر بحث کرے گی، یہ بل، جسے کنیسٹ کی ڈپٹی اسپیکر لیمور سن ہار میلیخ نے پیش کیا ہے، اسرائیل اور فلسطین کے درمیان۱۹۹۳ء کے معاہدے کو منسوخ کرنے کا خواہاں ہے، اور اس پر اتوار کو کمیٹی میں غور کیا جائے گا۔

Historical photo taken at the time of the Oslo Accords. Photo: X
اوسلو معاہدہ کے وقت لی گئی تاریخی تصویر۔ تصویر: ایکس

اسرائیلی میڈیاکی خبروں کے مطابق، اسرائیل کی ایک وزارتی کمیٹی اتوار کو ایک بل پر غور کرے گی جو اوسلو معاہدے کو ختم کرنے اور فلسطینی ریاست کے قیام کو روکنے کا خواہاں ہے۔چینل۱۲؍ نے سنیچر  کو بتایا کہ وزارتی کمیٹی برائے قانون سازی اس تجویز کا جائزہ لے گی، جس کا مقصد اسرائیل اور تنظیم آزادی فلسطین کے درمیان۱۹۹۳ء میں طے پانے والے معاہدے کو منسوخ کرنا ہے۔اسرائیل کے چینل۷؍ کے مطابق، یہ بل کنیسٹ کی ڈپٹی اسپیکر لیمور سن ہار میلیخ نے پیش کیا، جس کا دعویٰ ہے کہ اوسلو معاہدہ ’’امن کی بجائے دہشت گردی‘‘ کا سبب بنا، اور ان کے بقول اب ’’قومی اصلاح‘‘ کا وقت آ گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی نیتن یاہو کوایران کے یورینیم معاملے پرکوئی سمجھوتہ نہ کرنے کی یقین دہانی

بعد ازاں ہار میلیخ نے ایکس پر لکھا،’’ہم نے فلسطینی ریاست کے قیام کو روکنے کا وعدہ کیا تھا، اور اب وقت آگیا ہے کہ ایریا اے اور ایریا بی میں آباد کاری کی حوصلہ افزائی کی جائے اور تباہ کن اوسلو معاہدے کو منسوخ کیا جائے۔‘‘ ساتھ ہی اس مجوزہ قانون سازی کو مجموعی صورت حال کو درست کرنے کی جانب ’’ پہلا اور ضروری قدم‘‘  قرار دیا۔مقبوضہ مغربی کنارے میں ایریا اے اور ایریا بی، اوسلو فریم ورک کے تحت مختلف سطحوں پر فلسطینی اتھارٹی کی انتظامیہ کے ماتحت آتے ہیں۔واضح رہے کہ ’’اوسلو معاہدہ‘‘کے تحت، ایریا اے مکمل طور پر فلسطینی انتظامیہ اور سیکیورٹی کے تحت ہے، جبکہ ایریا بی فلسطینی انتظامیہ اور مشترکہ فلسطینی اسرائیلی سیکیورٹی کے تحت ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز کے لیے قانونی نظام کا بل تیار ہے: سینئر ایرانی قانون ساز

یاد رہے کہ باضابطہ طور پر ’’عبوری خود مختار انتظامات کے اصولوں کا اعلامیہ‘‘ کہلانے والے اوسلو معاہدے پر۱۳؍ ستمبر ۱۹۹۳ء کو واشنگٹن میں اسرائیل اور تنظیم آزادی فلسطین کے درمیان دستخط ہوئے تھے۔یہ معاہدہ مرحوم فلسطینی صدر یاسر عرفات، سابق اسرائیلی وزیر اعظم اسحاق رابن کی موجودگی میں اور اس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن کی سرپرستی میں طے پایا تھا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK