Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل نے نور شمس پناہ گزین کیمپوں میں فوجی کارروائی ۳۱؍ جولائی تک بڑھا دی

Updated: June 01, 2026, 8:08 PM IST | Jerusalem

مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی علاقے میں اسرائیلی فوج نے طولکرم اور نور شمس پناہ گزین کیمپوں میں جاری فوجی کارروائی اور قبضے کی مدت ۳۱؍ جولائی ۲۰۲۶ء تک بڑھا دی ہے۔ طولکرم کے گورنر عبداللہ کامل کے مطابق اس فیصلے سے ہزاروں بے گھر فلسطینی خاندانوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔

Netanyahu with his army.Photo: INN
نیتن یاہو اپنی فوج کے ساتھ ۔ تسویر: آئی این این

مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی حصے میں اسرائیلی فوج نے طولکرم اور نور شمس پناہ گزین کیمپوں میں اپنی جاری فوجی کارروائی اور موجودگی کو مزید ایک ماہ کے لیے بڑھاتے ہوئے ۳۱؍ جولائی ۲۰۲۶ء تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں کیمپ کئی ماہ سے فوجی آپریشن، تباہی اور بڑے پیمانے پر بے دخلی کا سامنا کر رہے ہیں۔ عبداللہ کامل، جو طولکرم کے گورنر ہیں، نے کہا کہ اسرائیلی حکام نے باضابطہ طور پر اطلاع دی ہے کہ فوجی کارروائی اور قبضہ آئندہ ماہ کے اختتام تک جاری رہے گا۔ ان کے مطابق اس فیصلے کے نتیجے میں ہزاروں فلسطینی خاندان، جو پہلے ہی اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکے ہیں، مزید غیر یقینی صورتحال اور مشکلات کا سامنا کریں گے۔

یہ بھی پڑھئے : غزہ: اسرائیل نے عید الاضحیٰ کے دنوں میں ۲۶؍ فلسطینی شہید کئے: اقوام متحدہ

اسرائیلی فوج نے ۲۱؍ جنوری ۲۰۲۵ء کو شمالی مغربی کنارے میں ایک وسیع فوجی آپریشن کا آغاز کیا تھا۔ یہ کارروائی پہلے حنین میں شروع ہوئی اور بعد ازاں طولکرم گورنری کے دو بڑے پناہ گزین کیمپوں Tulkarm Refugee Camp اور Nur Shams Refugee Camp تک پھیل گئی۔ گورنر عبداللہ کامل کے مطابق جاری فوجی کارروائی کے دوران بڑی تعداد میں رہائشیوں کو اپنے گھروں سے نکلنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی محلوں میں گھروں، تجارتی مراکز اور عوامی تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے جبکہ سڑکوں، پانی کی لائنوں، نکاسی آب کے نظام اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی تباہی نے مقامی آبادی کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے : ٹرمپ نے ماؤنٹ رشمور پر خود کی اے آئی تصویر شیئر کی، قیاس آرائیاں شروع

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی بلڈوزروں کی جانب سے کیمپوں کے اندر وسیع پیمانے پر کھدائی اور مسماری کے باعث معاشی سرگرمیاں تقریباً معطل ہو چکی ہیں۔ متعدد کاروبار بند پڑے ہیں جبکہ بے گھر ہونے والے خاندانوں کو رہائش، خوراک اور طبی سہولیات کے مسائل کا سامنا ہے۔ عبداللہ کامل نے عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی اداروں سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ کیمپوں میں انسانی صورتحال تیزی سے خراب ہو رہی ہے اور متاثرہ خاندانوں کو فوری امداد کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھئے : امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں توسیع اور نئے سرے سے جوہری مذاکرات شروع کرنے پر عارضی معاہدہ

فلسطینی حکام کے مطابق ۸؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کے بعد سے، جب غزہ میں جنگ کا آغاز ہوا، مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی تشدد اور فوجی کارروائیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ فلسطینی ذرائع کے مطابق اس عرصے کے دوران اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کے حملوں میں ۱۱۶۸؍ فلسطینی شہید، تقریباً ۱۲۶۰۰؍ زخمی اور لگ بھگ ۳۳۰۰۰؍ افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ مغربی کنارے میں جاری کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی بے دخلی نے بین الاقوامی سطح پر بھی تشویش پیدا کی ہے۔ انسانی حقوق کی کئی تنظیمیں خبردار کر چکی ہیں کہ طویل فوجی آپریشن اور نقل مکانی کے باعث متاثرہ علاقوں میں انسانی بحران مزید سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK