Updated: August 12, 2026, 10:08 PM IST
| Jerusalem
اسرائیل نے تقریباً۶۵۰؍ مکانات پر مشتمل ایک اور غیر قانونی آبادکاری منصوبے پر کام شروع دیا، یہ منصوبہ فلسطینی گھروں کے قریب تقریباً ۲۷؍ ایکڑ رقبے پر محیط ہوگا، یہ منصوبہ اپنے محلِ وقوع کے باعث علاقے میں مقیم فلسطینیوں کی روزمرہ زندگیمیں مشکلات کا سبب بنے گا۔
اسرائیل نے مقبوضہ مشرقی القدس کے جنوبی حصے میں تقریباً۶۵۰؍ رہائشی مکانات پر مشتمل ایک نئے غیر قانونی بستی منصوبے کو آگے بڑھانا شروع کر دیا ہے۔فلسطین کے القدس گورنر دفتر نے پیر کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی علاقائی منصوبہ بندی اور تعمیراتی کمیٹی نےنوفی راحیل نامی رہائشی بستی منصوبے کو عوامی جائزے کے لیے پیش کر دیا ہے۔ یہ منصوبہ فلسطینی گھروں کے قریب تقریباً ۲۷؍ ایکڑ رقبے پر محیط ہوگا۔گورنر کے دفتر نے خبردار کیا ہےکہ اس منصوبے کے اثرات صرف مجوزہ منصوبہ رہائشی مکانات کی تعداد تک محدود نہیں ہوں گے، بلکہ اپنے محلِ وقوع کے باعث منصوبہ علاقے میں مقیم فلسطینیوں کی روزمرہ زندگیمیں بھی مشکلات پیدا کرے گا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’غزہ میں فلسطینیوں کی جانوں کو لاحق خطرہ بڑھ رہا ہے‘‘
بعد ازاں بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ منصوبہ اسرائیل کی ان غیر قانونی آبادکاری پالیسیوں کا حصہ ہے جن کا مقصد بستیوں کو وسعت دینا، زمینی حقائق کو تبدیل کرنا اور فلسطینی آبادی کی موجودگی اور شہری توسیع کو محدود کرنا ہے۔مزید برآں پیر ہی کے دن اسرائیلی تنظیم برائے انسانی حقوق ’’عیر عمیم‘‘ نے بھی کہا ہے کہ اسرائیل نے حالیہ ہفتوں کے دوران مقبوضہ مشرقی القدس میں، مجموعی طور پر ۳۴۰۰؍ سے زائد رہائشی مکانات پر مشتمل، تین بڑے غیر قانونی بستی کے منصوبوں کو آگے بڑھایا ہے ۔
یہ بھی پڑھئے: لبنان اسرائیل کے ساتھ سرحدی نقشے پر براہِ راست مذاکرات روک دے: حزب اللہ
واضح رہے کہ اقوام متحدہ اور بیشتر ممالک، مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں تعمیر کی جانے والی، اسرائیلی بستیوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی قرار دیتے ہیں اور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ بستیاں دو ریاستی حل کے امکانات کو کمزور کررہی ہیں۔اسرائیلی تنظیم’’ پیس ناؤ‘‘ کا اندازہ ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں تقریباً ۵؍ لاکھ غیر قانونی اسرائیلی آبادکار اور مقبوضہ مشرقی القدس میں غیر قانونی بستیوں میں مزید تقریباًڈھائی لاکھ افراد آباد ہیں۔