• Wed, 09 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل واپس آنے والے شہریوں کی تعداد میں ۵۸؍ فیصد کی کمی: کنیسیٹ کمیٹی

Updated: September 09, 2026, 1:05 PM IST | Tel Aviv

اسرائیل کی کنیسیٹ کمیٹی کی ایک رپورٹ کےمطابق اسرائیل واپس آنے والے شہریوں کی تعداد میں ۵۸؍ فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے، پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ اس نے بیرون ملک اسرائیلیوں کی واپسی کی حوصلہ افزائی کے لیے سفارشات کو نظر انداز کیا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

پیر کو ایک اسرائیلی پارلیمانی کمیٹی نے انکشاف کیا کہ ۲۰۲۵ءمیں اسرائیل واپس آنے والے شہریوں کی تعداد۲۰۰۹ء کے مقابلے میں۵۸؍ فیصد کم ہو گئی، جبکہ اندازوں کے مطابق تقریباً۱۰؍ لاکھ اسرائیلی بیرون ملک مقیم ہیں۔پارلیمنٹ کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق، یہ اعداد و شمار کنیسٹ کی کمیٹی برائے امیگریشن، انضمام اور بیرون ملک اسرائیلی امور کے اجلاس کے دوران پیش کیے گئے، جو اسرائیلیوں کے بڑھتے ہوئےترک وطن کا جائزہ لینے کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔کنیسٹ ریسرچ اینڈ انفارمیشن سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق،۲۰۲۵ء میں۴۴۸۳؍ اسرائیلی ملک واپس آئے، جبکہ۲۰۰۹ء میں یہ تعداد۱۰۹۰۳؍ تھی۔سینٹر کے مطابق،۲۰۰۵ء سے۲۰۲۴ء کے درمیان تقریباً۱۴۱۰۰۰؍ اسرائیلی بیرون ملک مقیم رہنے کے بعد واپس آئے، جس کی اوسط سالانہ تقریباً ۷۰؍ ہزار بنتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ہندو وفد کے دورے پر خواتین کو پیچھے ہٹنے کی ہدایت، ایفل ٹاور ایک دن کیلئے بند

بعد ازاں کمیٹی کو پیش کیے گئے اندازوں کے مطابق، اس وقت تقریباً۱۰؍ لاکھ اسرائیلی ملک سے باہر رہائش پذیر ہیں۔سینٹر کے تجزیے کے مطابق، واپس آنے والے اسرائیلیوں میں۴۵؍ فیصد امریکہ سے آئے، اس کے بعد۶؍ فیصد برطانیہ سے،۵؍ فیصد کنیڈا سے اور۴؍ فیصد فرانس سے آئے۔ جرمنی، روس، رومانیہ اور یوکرین میں سے ہر ایک سے۳؍ فیصد واپس آنے والے تھے، جبکہ آسٹریلیا، اٹلی اور مالڈووا میں سے ہر ایک سے۲؍ فیصد واپس آئے۔واپس آنے والو ں میں ایک چوتھائی سے زیادہ نابالغ تھے، جبکہ۴۷؍ فیصد کی عمریں۲۸؍ سے ۶۰؍ سال کے درمیان تھیں۔اعداد و شمار کے مطابق، تقریباً۷۰؍ فیصد واپس آنے والے کم از کم پانچ سال بیرون ملک رہنے کے بعد واپس آئے۔
امیگریشن، انضمام اور بیرون ملک اسرائیلی امور کی کمیٹی کے چیئرمین گیلاد کریو نے اسرائیلی حکومت پر الزام لگایا کہ اس نے بیرون ملک مقیم اسرائیلیوں کی واپسی کی حوصلہ افزائی کے لیے اقدامات کرنے میں ناکام ہے۔کریو نے کہا، چونکہ اس مسئلے پر ہماری آخری بحث ہوئی تھی، اس کے بعد اضافی اعداد و شمار شائع ہوئے ہیں جو اسرائیل واپس آنے والے اسرائیلیوں کی تعداد میں کمی کی نشاندہی کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کمیٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ بیرون ملک مقیم اسرائیلیوں کو ملک واپس لانے کے لیے پانچ سالہ منصوبہ وضع کرے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایسا ہی منصوبہ۲۰۱۰ء میں متعارف کرایا گیا تھا لیکن اس کے بعد سے اس کی تجدید نہیں کی گئی۔اور حکومت پر الزام لگایا کہ وہ اس مسئلے کی ذمہ داری لینے سے انکار کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: تحفظ کیلئے امریکہ پر انحصار کافی نہیں، قطر نے خلیجی ممالک کو خبردارکیا

علاوہ ازیںاس اجلاس میں طبی پیشہ ور افراد کی بڑھتی ہوئی نقل مکانی کو بھی اجاگر کیا گیا۔تل ابیب یونیورسٹی کے پروفیسر ایتائی آتر نے کہا، ’’ہم اسرائیل چھوڑنے والے ڈاکٹروں کی تعداد میں اضافہ اور واپس آنے کا انتخاب کرنے والوں کی تعداد میں کمی دیکھ رہے ہیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ جانے والوں میں تقریباً۲۰؍ فیصد انتہائی تجربہ کار سینئر ڈاکٹر ہیں۔اسرائیلی روزنامہ ہاریٹز نے اتوار کو تل ابیب یونیورسٹی کے ایک مطالعے کی رپورٹ دی جس میں بتایا گیا کہ۲۰۲۳ء اور۲۰۲۵ء کے درمیان کم از کم۱۳۷۰؍ ڈاکٹر اسرائیل چھوڑ گئے۔اس عرصے کے دوران جانے والے پانچ میں سے ایک ڈاکٹر کی عمر۴۵؍ سال سے زیادہ تھی، جسے مطالعے نے ’’پریشان کن‘‘ رجحان قرار دیا۔ جبکہ اسرائیلی وزارت خزانہ کی ایک سابقہ رپورٹ میں پایا گیا تھا کہ سرکاری اسپتالوں میں ماہر ڈاکٹروں کا تقریباً ۲۴؍ فیصد آئندہ سالوں میں ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچنے کی توقع ہے۔رپورٹ کے مطابق، اس وقت کام کرنے والے تقریباً ۲۵؍ فیصد ڈاکٹر ریٹائرمنٹ کی عمر پار کر چکے ہیں لیکن عملے کی کمی کی وجہ سے اپنے عہدوںپر برقرار ہیں۔ 
اس کے علاوہ رکارڈ خروجاگست کے اوائل میں شائع ہونے والی تل ابیب یونیورسٹی کی ایک اور تحقیق میں پتا چلا کہ۲۶۸۵۰۹؍ اسرائیلیوں نے۲۰۲۳ء اور۲۰۲۵ء کے درمیان کم از کم تین ماہ کے لیے ملک چھوڑا، جسے اسرائیلی پبلک براڈکاسٹر کان نے ریکارڈ قرار دیا۔اسرائیلی رپورٹوں نے بڑھتے  ہوئے ترک وطن کو غزہ جنگ کے اثرات، بڑھتی ہوئی زندگی کی لاگت اور عدلیہ کو کمزور کرنے کے لیے حکومتی کوششوں کے گرد سیاسی بحران سے منسوب کیا ہے۔کان کے لیے کینٹر کی جانب سے کی گئی اور 9 اگست کو شائع ہونے والی ایک پول کے مطابق، تقریباً ایک پانچویں اسرائیلیوں نے گزشتہ دو سالوں کے دوران ترک وطن کرنے پر غور کیا تھا۔تقریباً۱۲؍ فیصد نے کہا کہ آنے والے عام انتخابات کا نتیجہ ملک میں رہنے یا چھوڑنے کے ان کے فیصلے کو متاثر کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ادیداس کی سابق اسرائیلی فوجی کو اشتہاری مہم میں شامل کرنے پر معذرت

اس کے علاوہ اسرائیل ہایوم اخبار نے۷؍ اگست کو ٹیکس اتھارٹی کی ایک اندرونی دستاویز کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی رپورٹ کیا کہ امیر اسرائیلیوں میں ہجرت کی شرح۲۰۱۹ء اور۲۰۲۴ء کے درمیان دوگنی ہو گئی۔دستاویز کے مطابق، ان کے جانے کے نتیجے میں سالانہ ٹیکس کے نقصانات ۲۰۲۳ءاور ۲۰۲۴ء میں تقریباً۱۶۶؍ ملین ڈالر سے بڑھ کر۴۰۰؍بلین ڈالر ہو گئے۔یہ اعداد و شمار اس وقت سامنے آئے ہیں جب اسرائیل غزہ کی پٹی میں اپنی نسل کشی کی جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔ دریں اثناء یہ اعداد و شمار اسرائیل کے لبنان پر جاری حملوں اور ایران کے خلاف اس کی جاری دھمکیوں کے ساتھ بھی مطابقت رکھتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK