Inquilab Logo Happiest Places to Work

زیر حراست فلسطینیوں کی پیشانیوں پر اسرائیلی فوج نے نمبر لکھے، شدید ناراضگی

Updated: August 19, 2026, 10:03 PM IST | Tal Aviv

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کے چھاپے کے دوران فلسطینی زیرِ حراست افراد کی پیشانیوں اور بازوؤں پر نمبر لکھنے کا واقعہ سامنے آیا ہے، جس کی اسرائیلی فوج نے بھی تصدیق کی ہے۔ اس اقدام پر شدید ردِعمل سامنے آیا ہے اور ناقدین نے اسے فلسطینیوں کی تذلیل اور انسانیت سے محرومی کی علامت قرار دیا ہے۔

Ahmed al-Hathnawi, one of the detainees, had the number 44 written on his forehead. Photo: X
زیرِ حراست افراد میں شامل احمد الحثناوی کی پیشانی پر۴۴؍ نمبر لکھا گیا تھا۔ تصویر: ایکس

مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک فوجی چھاپے کے دوران اسرائیلی فورسیز نے فلسطینی زیرِ حراست افراد کی پیشانیوں اور بازوؤں پر نمبر لکھ دیئے، جبکہ تل ابیب نے بھی اس واقعے کی تصدیق کردی ہے۔ یہ واقعہ پیرکو جنین کے قریب واقع قباطیہ میں پیش آیا، جہاں اسرائیلی فورسز نے چھاپے کے دوران درجنوں فلسطینی باشندوں کو حراست میں لے لیا۔ اسرائیلی میڈیا نے اس کی اطلاع دی۔ زیرِ حراست افراد میں شامل احمد الحثناوی کی پیشانی پر۴۴؍ نمبر لکھا گیا تھا۔ انہوں نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ چھاپے کے دوران خواتین سمیت کم از کم۵۰؍ افراد کو حراست میں لیا گیا اور اسرائیلی فورسیز انہیں اور دیگر افراد کو تفتیش کیلئے لے گئیں۔ الحثناوی نے کہا: ’’یہ پہلی بار ہے کہ انہوں نے مجھ پر اس طرح کے نمبر لکھے ہیں۔ ‘‘انہوں نے کہا: ’’بنیادی طور پر وہ یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اگر آبادکار اس علاقے میں آتے ہیں تو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا اور آبادکار یہاں طویل عرصے تک رہیں گے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: امریکہ نے آئی سی سی کی صدر اور سنیئر وکیل پر پابندیاں عائد کیں، شدید ردعمل

اسرائیلی فورسیز نے تصدیق کی کہ فوجیوں نے زیرِ حراست فلسطینیوں پر نمبر لکھے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کارروائی میں ڈوو دیوان یونٹ شامل تھی، جس نے قباطیہ میں تقریباً۱۰۰؍ عمارتوں کی تلاشی لی اور متعدد افراد کو پوچھ گچھ کیلئے حراست میں لیا۔ اس عمل پر کنیسٹ کے رکن احمد طیبی نے شدید مذمت کی۔ انہوں نے اسے ’’حیران کن اور گھناؤنا‘‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ فلسطینیوں کی انسانیت سے محرومی کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے ایکس پر لکھا: ’’یہ ایسی تصویر ہے جو تاریک ادوار کی یاد دلاتی ہے اور ہر شخص کو صدمے سے دوچار کر دینا چاہئے۔ ‘‘لوگوں کے جسموں پر نمبر لکھنے کے عمل کی خاص تاریخی اہمیت ہے، کیونکہ یہ ہولوکاسٹ کے دوران نازی حکام کی جانب سے حراستی اور قتل گاہوں کے کیمپوں میں قیدیوں کے جسموں پر شناختی نمبر گودنے کی یاد دلاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: دیویندر فرنویس کی وزراء پر قدغن لگانے کی کوشش؟

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی چھاپوں کے دوران اس طرح کے عمل کی اطلاعات پہلے بھی سامنے آچکی ہیں۔ اپریل میں اسرائیلی فورسیز نے جنین کی فلسطینی خواتین کے بازوؤں پر بھی نمبر لکھے تھے۔ ۲۰۲۴ء میں اسرائیلی فورسیزنے الخلیل سے تعلق رکھنے والے فلسطینی زیرِ حراست افراد کی پیشانیوں پر بھی نمبر لکھے تھے۔ قباطیہ کے قریب گزشتہ ہفتے ایک اور غیر قانونی اسرائیلی بستی گانِم قائم کی گئی۔ اسرائیل نے۱۹۶۷ء سے مغربی کنارے پر قبضہ کر رکھا ہے۔ بین الاقوامی قانون کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی تمام بستیاں غیر قانونی ہیں، اور وزیرِ اعظم بنجامین نیتن یاہو کی حکومت کے دور میں ان کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK