Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیلی تجزیہ کار نے ایرانی حکام کےبچوں کو نشانہ بنانےکا مطالبہ کیا، غزہ نسل کشی کی مثال سامنے رکھی

Updated: March 28, 2026, 10:13 PM IST | Tel Aviv

اسرائیلی تجزیہ کار نے ایرانی لیڈران جیسے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمانی اسپیکر قالیباف کے بچوں کو نشانہ بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کیلئے انہوں نے بچوں کو نشانہ بنانے کی اس مجوزہ چال کو واضح طور پر غزہ میں دو برس سے جاری نسل کشی سے جوڑ کر پیش کیا۔

Orit Perlov and her controversial X post. Photo: X
اوریت پرلوو اور ان کا متنازع پوسٹ۔ تصویر: ایکس

سوشل میڈیا پر ایک اسرائیلی تجزیہ کار کا متنازع پوسٹ وائرل ہو رہا ہے جس میں انہوں نے ایران کے ساتھ کشیدگی کے درمیان ریاستی سطح کی حکمتِ عملیوں کو ”سفاکانہ مذہبی نقطہ نظر“ میں بدلنے کی وکالت کرتے ہوئے ایرانی حکام کے بچوں کو نشانہ بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ 

تل ابیب یونیورسٹی سے منسلک تھنک ٹینک ’انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سیکوریٹی اسٹڈیز‘ (INSS) کی تجزیہ کار اوریت پرلوو (Orit Perlov) نے ۲۲ مارچ کو ۲۰۲۶ء کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں یہ مطالبہ کیا تھا جسے انہوں نے سخت عوامی ردعمل کے بعد ڈیلیٹ کر دیا۔ عبرانی زبان میں کئے گئے اس پوسٹ کا اسکرین شاٹ اور اس کا انگریزی ترجمہ کئی صارفین نے شیئر کیا ہے اور اسرائیلی تجزیہ کار کی مذمت کی ہے۔

اوریت پرلوو نے اپنے پوسٹ میں لکھا:

”ہمیں ریاستی نقطہ نظر کی بجائے سفاکانہ مذہبی نقطہ نظر اپنانے کی ضرورت ہے۔ [ایران کے] پاور پلانٹ پر حملے کرنے کے بجائے، ’پہلوٹھی بچوں کی وبا‘ (plague of the firstborn) لائیں۔۔۔ کل شام وحیدی، عراقچی اور قالیباف کے بچوں کا خاتمہ کر دیں۔ اگر ہم والدین تک نہیں پہنچ سکتے، تو ہمیں ان کے بچوں کو نقصان پہنچانا چاہئیں۔ ان کے بچوں پر بم گرائیں، ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے بچوں کو مرنے دیں۔ ہمیں غزہ میں ایسا کرنے میں دو سال لگے۔ ہم نے ابھی تک لبنان میں ایسا نہیں کیا گیا ہے۔

یہ مذہبی پیٹنٹ (طریقے) ہیں۔ اس وقت کوئی ریاستی معقولیت کام نہیں آ رہی ہے۔ ”پاگل مکان مالک“ کے بجائے، ہمیں ”سفاک مکان مالک“ کا رویہ اپنانے کی ضرورت ہے۔ ٹرمپ جہنم کا وعدہ نہیں کر سکتے۔۔۔ وہ بالکل یہی چاہتے ہیں۔ پاور پلانٹس کو نشانہ بنانا الٹا نقصان دہ ہوگا۔ اگر وہ ہمیں باکسنگ میچ اور پنگ پونگ کے کھیلوں میں گھسیٹتے ہیں تو ہم ہار جائیں گے۔“

یہ بھی پڑھئے: امریکی اداکار نے مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی قتل اور زمین قبضے کی مذمت کی

اوریت پرلوو نے اپنے پوسٹ میں ایرانی لیڈران جیسے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر قالیباف کے بچوں کو نشانہ بنانے کا مطالبہ کیا۔ اس کیلئے انہوں نے بائبل سے ”پہلوٹھی کے بچوں کی وبا“ کی علامت کا حوالہ دیا۔ ’پہلوٹھی‘ کسی شخص کے پہلے بچے کو کہا جاتا ہے۔ پرلوو نے بچوں کو نشانہ بنانے کی اس مجوزہ چال کو واضح طور پر غزہ میں دو برس سے جاری نسل کشی سے جوڑ کر پیش کیا۔ واضح رہے کہ غزہ میں اسرائیلی فوج ہزاروں معصوم فلسطینی بچوں کو موت کے گھاٹ اتار چکی ہیں۔ 

سوشل میڈیا صارفین کا ردعمل

اس پوسٹ پر صارفین نے شدید ردعمل کا اظہار کیا اور اسرائیلی تجزیہ کار کی سخت مذمت کی۔ ایک صارف نے لکھا: ”خدایا، یہ لوگ خود کو روک ہی نہیں سکتے۔ انہیں بار بار یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ وہ کتنے سفاک، بگڑے ہوئے اور بدطینت ہیں۔“ ایک اور صارف نے کہا: ”اگر وہ اسے عوامی طور پر پوسٹ کر رہے ہیں تو ذرا تصور کریں کہ وہ خفیہ طور پر کیا منصوبہ بندی کرتے ہوں گے۔“ تیسرے نے تبصرہ کیا: ”نارمن فنکلسٹین صحیح تھے۔ یہ صرف نیتن یاہو نہیں ہیں۔ اسرائیلیوں کی پوری اکثریت نسل کشی کی حامی جنونی ہے۔“ 

یہ بھی پڑھئے: فلسطینی بچے پر تشدد پر اسرائیل کے خلاف عالمی سطح پر غصہ کی لہر، احتساب کا مطالبہ

ایک صارف نے زور دیا کہ ”بچوں کو نشانہ بنانا کبھی حکمتِ عملی نہیں بلکہ ایک جنگی جرم ہے،“ اور ”یہی وجہ ہے کہ ہم اسرائیلی تعلیمی اداروں کا بائیکاٹ کرتے ہیں۔“ کئی صارفین نے پرلوو کی پوسٹ کے اسکرین شاٹس کو اسرائیلی بیان بازی کی تاریخی مثالوں کے ساتھ شیئر کیا اور اسرائیلی تعلیمی اداروں کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK