Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیلی فوج کو فوری مزید سپاہیوں کی ضرورت، چیف آف اسٹاف ایال ضمیر کا اعتراف

Updated: May 11, 2026, 9:41 PM IST | Tel aviv

اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف ایال ضمیر نے کہا ہے کہ فوج کو ’’فوری طور پر‘‘ مزید سپاہیوں کی ضرورت ہے کیونکہ اسرائیل بیک وقت غزہ، لبنان اور ایران سمیت کئی محاذوں پر کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ کنیسٹ کی خارجہ امور و سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں انہوں نے واضح کیا کہ فوجی دباؤ بڑھ رہا ہے اور اضافی افرادی قوت ناگزیر ہو چکی ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق تقریباً ۱۵؍ ہزار مزید فوجیوں کی ضرورت ہے، جن میں بڑی تعداد جنگی سپاہیوں کی ہے۔

Photo : X
تصویر: ایکس

اسرائیل کے چیف آف اسٹاف ایال ضمیر نے اعتراف کیا ہے کہ اسرائیلی فوج کو فوری طور پر مزید سپاہیوں کی ضرورت ہے، کیونکہ ملک بیک وقت کئی محاذوں پر فوجی کارروائیوں میں مصروف ہے۔ یہ بیان اسرائیلی پارلیمنٹ، کنیسٹ، کی خارجہ امور اور سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں سامنے آیا، جہاں ضمیر نے فوجی دباؤ اور افرادی قوت کی کمی پر تفصیلی گفتگو کی۔ رپورٹس کے مطابق انہوں نے کہا، ’’میں سیاسی یا قانون سازی کے عمل میں شامل نہیں ہوں، میری توجہ کثیر محاذ جنگ اور دشمن کو شکست دینے پر مرکوز ہے۔ اس مشن کو جاری رکھنے کے لیے اسرائیلی فوج کو فوری طور پر مزید فوجیوں کی ضرورت ہے۔‘‘ اسرائیل اس وقت غزہ، لبنان اور ایران سمیت مختلف محاذوں پر عسکری کارروائیوں میں مصروف ہے۔

یہ بھی پڑھئے : اسرائیل نے غزہ جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے دو کارکنوں کو رہا کر دیا

اگرچہ بعض علاقوں میں جنگ بندی کے معاہدے موجود ہیں، تاہم اسرائیلی کارروائیوں اور سرحدی کشیدگی کے باعث صورتحال مسلسل کشیدہ بنی ہوئی ہے۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان ایفی دیفرین کے مطابق فوج کو تقریباً ۱۵؍ ہزار اضافی سپاہیوں کی ضرورت ہے، جن میں ۷؍ سے ۸؍ ہزار کے درمیان جنگی دستوں کے اہلکار شامل ہیں۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’’بھرتی کا قانون نافذ کرنا ضروری ہے‘‘، جس سے واضح اشارہ حریدی یہودی برادری کی لازمی فوجی خدمت سے متعلق تنازع کی جانب تھا۔ حریدی یا الٹرا آرتھوڈوکس یہودی اسرائیل کی تقریباً ۹ء۹؍ ملین آبادی کا لگ بھگ ۱۳؍ فیصد حصہ ہیں۔

یہ برادری طویل عرصے سے مذہبی تعلیم اور تورات کے مطالعے کو بنیاد بنا کر فوجی خدمات سے استثنیٰ حاصل کرتی رہی ہے۔ تاہم اسرائیل میں بڑھتے ہوئے جنگی دباؤ اور طویل فوجی تعیناتیوں کے باعث اس معاملے پر سیاسی اور سماجی تناؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اسرائیلی قانون کے مطابق ۱۸؍ سال سے زائد عمر کے بیشتر شہریوں کے لیے فوجی خدمت لازمی ہے، لیکن حریدی استثنیٰ کئی دہائیوں سے ایک حساس اور متنازع سیاسی مسئلہ رہا ہے۔ ایال ضمیر اس سے قبل مارچ میں بھی خبردار کر چکے ہیں کہ اگر حکومت بھرتی اور ریزرو سروس سے متعلق اصلاحات نہ کر سکی تو ’’اسرائیلی فوج اندر سے منہدم ہو رہی ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے : اسرائیل کی وزارتی کمیٹی ’’اوسلو ‘‘معاہدے کو ختم کرنے کے بل پر بحث کرے گی

انہوں نے لازمی فوجی خدمت کی مدت ۳۶؍ ماہ تک بڑھانے اور حریدی برادری کی بھرتی کو منظم کرنے کے لیے قانون سازی پر زور دیا تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق غزہ جنگ کے طویل ہونے، لبنان کی سرحد پر کشیدگی اور ایران کے ساتھ بڑھتے تصادم نے اسرائیلی فوج پر غیر معمولی دباؤ ڈال دیا ہے۔ فوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلسل جنگی تیاریوں نے ریزرو فورسز اور مستقل اہلکاروں دونوں کو شدید تھکن اور افرادی قلت کے بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اگر حکومت حریدی بھرتی کے معاملے پر کوئی فیصلہ کن قدم اٹھاتی ہے تو اس سے داخلی سیاسی بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے، کیونکہ مذہبی جماعتیں اس مسئلے پر سخت موقف رکھتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK