Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیلی فوج بحران میں، افرادی قوت کی کمی، اندرونی ٹوٹ پھوٹ کے خدشات

Updated: March 27, 2026, 10:06 PM IST | Tel Aviv

ایران اور لبنان کے ساتھ جاری جنگ کے درمیان اسرائیل کے اندر فوجی اور سیاسی دباؤ بڑھ گیا ہے۔ افرادی قوت کی کمی کے باعث حکومت لازمی فوجی خدمات بڑھانے پر غور کر رہی ہے، جبکہ فوجی قیادت نے اندرونی ٹوٹ پھوٹ کے خدشات ظاہر کئے ہیں۔ اسی دوران مقامی سطح پر بھی ناراضگی سامنے آئی ہے اور بعض رہنماؤں نے حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

(۱) اسرائیلی میئر کا بیان، ’’ایسا لگتا ہے ہم اپنے ہی خلاف لڑ رہے ہیں‘‘
اسرائیل کے ایک میئر نے حکومت اور فوجی حکمت عملی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے: ’’مجھے لگتا ہے کہ اسرائیل مجھ سے لڑ رہا ہے، حزب اللہ سے نہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ موجودہ پالیسیوں سے شہریوں کو نقصان پہنچ رہا ہے اور صورتحال کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنگی کارروائیاں تیز ہو چکی ہیں اور شہری علاقوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ یہ ردعمل ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیل کے اندر بھی جنگی پالیسی پر اختلاف پایا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: تہران: پاکستانی سفارتخانے کے قریب دھماکے، پاکستان کی سخت وارننگ

(۲) نیتن یاہو کا فیصلہ، لازمی فوجی خدمات میں توسیع
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ حکومت لازمی فوجی خدمات (conscription) کی مدت میں توسیع کرنے پر غور کر رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ افرادی قوت کی کمی کے باعث کیا جا رہا ہے۔ ذرائع نے کہا کہ ’’فوج کو مزید افراد کی ضرورت ہے تاکہ جاری جنگی آپریشنز کو برقرار رکھا جا سکے۔‘‘ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل متعدد محاذوں پر مصروف ہے۔ یہ فیصلہ داخلی سطح پر مزید بحث کا باعث بن سکتا ہے۔

(۳) اسرائیلی فوجی چیف کی وارننگ، ’’فوج اندرونی طور پر ٹوٹ سکتی ہے‘‘
اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف ایال ضمیر نے خبردار کیا ہے کہ اگر افرادی قوت کی کمی دور نہ کی گئی تو فوج اندرونی طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اگر ہم نے اس مسئلے کو حل نہ کیا تو فوجی ڈھانچہ متاثر ہو سکتا ہے۔‘‘ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی فوج مسلسل کارروائیوں میں مصروف ہے۔ یہ وارننگ ظاہر کرتی ہے کہ جنگی دباؤ نے فوجی نظام پر اثر ڈالنا شروع کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: نصف سے زائد امریکیوں کو ٹرمپ کی ایران پالیسی پر اعتماد نہیں: سروے

(۴) اسرائیلی فوج اور اپوزیشن کی وارننگ، لبنان محاذ خطرناک مرحلے پر
اسرائیلی فوج اور اپوزیشن رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ لبنان پر حملے کے نتیجے میں فوج خطرناک صورتحال کا شکار ہو سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق کچھ فوجی حکام نے کہا ہے کہ موجودہ حکمت عملی خطرناک ہو سکتی ہے۔ اپوزیشن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ جنگی فیصلوں پر نظرثانی کرے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حزب اللہ کے ساتھ کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ اسرائیل کے اندر جنگی پالیسی پر شدید دباؤ موجود ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK