Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران امریکہ جنگ بندی اتوار تک ختم ہونے کا امکان: اسرائیلی میڈیا

Updated: April 23, 2026, 10:05 PM IST | Tel Aviv

اسرائیلی میڈیا کے مطابق امریکہ نے اشارہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی جلد ختم ہو سکتی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے دی گئی مہلت چند دنوں میں ختم ہونے والی ہے، جبکہ اسرائیلی ذرائع امریکی پالیسی میں ’’غیر یقینی‘‘ اور واضح حکمت عملی کے فقدان پر سوال اٹھا رہے ہیں۔

Iranian Navy fast boat on patrol. Photo: X
ایرانی بحریہ کی تیز رفتار کشتی گشت لگاتے ہوئے۔ تصویر: ایکس

اسرائیلی نشریاتی ادارے کے اے این کی رپورٹ کے مطابق امریکہ نے اسرائیل کو مطلع کیا ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ توسیع شدہ جنگ بندی اتوار تک ختم ہو سکتی ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی دوبارہ بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ رپورٹ میں ایک نامعلوم سفارتی ذریعے کے حوالے سے بتایا گیا کہ ٹرمپ نے تہران کے لیے ایک محدود ٹائم فریم مقرر کیا تھا، جو اب اپنے اختتام کے قریب ہے۔ ذرائع کے مطابق، ٹرمپ کھلے مذاکرات کے بجائے کسی ممکنہ ’’مفاہمت‘‘ تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم عملی پیش رفت نہ ہونے کے برابر ہے۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ فلوٹیلا کا اعلان: راستے میں ملنے والے ہتھیار بردار اسرائیلی جہاز روکے گا

اسرائیلی ذرائع نے امریکی طرزِ عمل کو ’’کنفیوژن‘‘ سے تعبیر کیا ہے، یہ کہتے ہوئے کہ انہیں پالیسی فیصلوں کی معلومات اکثر میڈیا رپورٹس اور سوشل میڈیا کے ذریعے مل رہی ہیں، نہ کہ براہِ راست سفارتی رابطوں سے۔ اسی دوران، وہائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے فاکس نیوز کو بتایا کہ جنگ بندی ممکنہ طور پر صرف تین سے پانچ دن مزید برقرار رہ سکتی ہے۔ ایک اسرائیلی ذریعے نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ صورتحال مکمل طور پر غیر واضح ہے اور اس کا انحصار زیادہ تر امریکی صدر کے آئندہ فیصلوں پر ہے۔ منگل کو ٹرمپ نے پاکستان کی درخواست پر جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا تھا، یہ کہتے ہوئے کہ یہ اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک ایران ایک ’’متفقہ تجویز‘‘ پیش نہیں کرتا۔
یاد رہے کہ خطے میں کشیدگی کا آغاز ۲۸؍ فروری ۲۰۲۶ء کو ایران پر امریکی اسرائیلی حملے کے بعد ہوا۔ اس کے جواب میں تہران نے اسرائیل اور دیگر امریکی اتحادی ممالک میں موجود اہداف کو نشانہ بنایا، جس سے تنازعہ مزید پھیل گیا۔ بعد ازاں، پاکستان نے ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے ۸؍ اپریل کو جنگ بندی ممکن بنائی اور ۱۱؍ اور ۱۲؍  اپریل کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی۔ تاہم یہ مذاکرات کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہوئے، اور اب دوسرے دور کی کوششیں جاری ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: این بی سی پول: امریکی جین زی میں فلسطینیوں کے لیے زبردست ہمدردی

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ غیر یقینی صورتحال نہ صرف خطے کے لیے خطرناک ہے بلکہ عالمی توانائی سپلائی، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے راستے، پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔ اگر اتوار تک کوئی سفارتی پیش رفت نہ ہوئی تو امکان ہے کہ فوجی سرگرمیوں میں دوبارہ اضافہ ہو اور مشرق وسطیٰ ایک بار پھر بڑے تصادم کی طرف بڑھ جائے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK