اسرائیل کے فوجی سربراہ ایال زامیر نے ’NAZA‘ اور اس سے وابستہ افراد کے خلاف ممکنہ قانونی کارروائی کا جائزہ لینے کا حکم دیا؛ فلم کو وینس فلم فیسٹیول میں خصوصی جیوری انعام ملا اوع ۲۵؍ منٹ تک کھڑے ہوکر تالیاں بجائی گئیں۔
EPAPER
Updated: September 15, 2026, 8:02 PM IST | Tel Aviv
اسرائیل کے فوجی سربراہ ایال زامیر نے ’NAZA‘ اور اس سے وابستہ افراد کے خلاف ممکنہ قانونی کارروائی کا جائزہ لینے کا حکم دیا؛ فلم کو وینس فلم فیسٹیول میں خصوصی جیوری انعام ملا اوع ۲۵؍ منٹ تک کھڑے ہوکر تالیاں بجائی گئیں۔
اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زامیر نے غزہ جنگ پر بننے والی دستاویزی فلم ’NAZA‘ اور اس سے وابستہ افراد کے خلاف ممکنہ قانونی کارروائی کا جائزہ لینے کا حکم دیا ہے۔ فوج کے مطابق زامیر نے فوج کے اعلیٰ قانونی افسر کو ہدایت کی کہ فلم اور اس میں شامل افراد کے خلاف قانونی اقدامات کے امکانات کا جائزہ لیا جائے۔ فوج نے فلم میں اسرائیلی فوجیوں سے متعلق عائد الزامات کو ’’جھوٹے دعوے‘‘ قرار دیا ہے۔ زامیر نے ایک بین الادارہ جاتی اور کثیر شعبہ جاتی ٹیم تشکیل دینے کی بھی ہدایت دی ہے، جس کی سربراہی فوج کے منصوبہ بندی ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ کریں گے۔ فوج کے مطابق ٹیم میں اسرائیل اور بیرونِ ملک کے ماہرین شامل ہوں گے اور اس کا مقصد فلم کے خلاف مؤثر اقدامات اور ’’درست معلومات‘‘ پیش کرنے کے طریقے تیار کرنا ہے۔ فوجی وکیل کو فلم میں استعمال ہونے والی خفیہ معلومات کے ممکنہ افشا اور اس میں ملوث افراد سے متعلق قانونی پہلوؤں کی بھی جانچ کا حکم دیا گیا ہے۔
Yuval Abraham and Rachel Szor look drawn and solemn amid strong applause for Golden Lion Contender ‘NAZA’ exposing Israeli targeting of civilians in Gaza #VeniceFilmFestival pic.twitter.com/hqyzoZhwHM
— Deadline (@DEADLINE) September 10, 2026
یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کرگیا جب ’NAZA‘ نے ۸۳؍ ویں وینس فلم فیسٹیول میں خصوصی جیوری انعام حاصل کیا۔ اسرائیلی فلم ساز یووال ابراہم اور ریچل سور کی بنائی ہوئی اس فلم کو نمائش کے بعد تقریباً ۲۵؍ منٹ تک مسلسل تالیاں ملیں، جسے فیسٹیول کی تاریخ کی طویل ترین پذیرائی قرار دیا گیا۔ فلم میں فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں اور اہداف کے انتخاب کے طریقہ کار پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ فلم سازوں نے تقریباً ۳؍ سال کی تحقیق کے دوران اسرائیلی فوج اور خفیہ اداروں سے وابستہ ۲۴؍ افراد کے انٹرویوز کیے۔ ان افراد کی شناخت خفیہ رکھی گئی اور ان کے چہرے اور آوازیں تبدیل کی گئیں۔ فلم میں ان کے بیانات کی بنیاد پر غزہ میں نگرانی، اہداف کی شناخت، مصنوعی ذہانت سے مدد لینے والے نظام اور فضائی حملوں میں متوقع شہری ہلاکتوں کے بارے میں دعوے پیش کیے گئے ہیں۔ فلم سازوں کا کہنا ہے کہ ان کی توجہ انفرادی فوجیوں کے مبینہ جرائم کے بجائے فوجی احکامات، پالیسیوں اور ان طریقوں پر ہے جن کے ذریعے یہ کارروائیاں ممکن ہوئیں۔
یہ بھی پڑھئے: پنک نے میکلمور پر تنقید کا دفاع کیا، کہا ’اپنے لوگوں کے لیے آواز اٹھائی‘
فلم کا عنوان NAZA اسرائیلی فوجی اصطلاح سے لیا گیا ہے جس کے بارے میں فلم میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسے کسی حملے میں متوقع شہری ہلاکتوں کی تعداد ظاہر کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ فلم میں ’’Lavender‘‘ نامی مصنوعی ذہانت سے معاون نظام کے بارے میں بھی سابق فوجی اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں کی گواہیاں شامل ہیں۔ اسرائیلی فوج نے ان گمنام ذرائع کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی شناخت، فوجی حیثیت اور بیانات کی آزادانہ تصدیق نہیں کی جاسکتی۔ اس معاملے میں اسرائیلی حکومت کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے فلم کو ’’اشتعال انگیزی‘‘ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ یہ دنیا بھر میں یہود مخالف جذبات کو ہوا دینے والی مہم کا حصہ ہے۔ تاہم فلم کے ہدایت کار یووال ابراہم نے اپنی رپورٹنگ اور فلم میں شامل گواہیوں کا دفاع کیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے بھی واضح کیا ہے کہ وہ فلم میں عائد الزامات کو قبول نہیں کرتی۔
اس سے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے اسرائیل کے وزیر ثقافت میکی زوہر نے ابراہم اور سور کی اسرائیلی شہریت منسوخ کرنے کی دھمکی بھی دی ہے اور دونوں پر ’’ریاست سے غداری‘‘ کا الزام لگایا ہے۔ تاہم شہریت منسوخ کرنا محض وزیر کے اعلان سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے اسرائیلی قانون کے تحت باضابطہ قانونی عمل درکار ہوگا۔ دوسری جانب ۲۰۰؍ سے زیادہ اسرائیلی فلم سازوں نے ابراہم اور سور کی حمایت میں ایک عرضداشت پر دستخط کیے ہیں۔ ان میں معروف ہدایت کار بھی شامل ہیں۔ عرضداشت میں کہا گیا ہے کہ فن اور صحافت کا بنیادی کردار معاشرے کو اس کے اپنے اعمال کا عکس دکھانا ہے۔ یہ حمایت اس وقت سامنے آئی ہے جب فلم کے خلاف اسرائیل میں سرکاری سطح پر شدید تنقید اور ممکنہ قانونی کارروائی کی بات کی جارہی ہے۔
ابراہم اور سور اس سے قبل فلسطینی شریک ہدایت کاروں کے ساتھ بنائی گئی دستاویزی فلم ’No Other Land‘ کے لئے ۲۰۲۵ء میں آسکر جیت چکے ہیں۔ ’NAZA‘ اسی صحافتی سلسلے کو غزہ کی جنگ تک لے جاتی ہے، جہاں فلم سازوں نے اسرائیلی فوج اور خفیہ اداروں سے وابستہ ذرائع کے ذریعے جنگ کے دوران اختیار کیے گئے طریقہ کار کی تصویر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔