Updated: May 12, 2026, 7:03 PM IST
| Tel aviv
اسرائیل کے شہری ہوابازی کے سربراہ شموئیل ذکی نے خبردار کیا ہے کہ بین گوریون ایئرپورٹ پر بڑھتی ہوئی امریکی فوجی موجودگی نے اسے مؤثر طور پر ’’امریکی فوجی اڈہ‘‘ بنا دیا ہے، جس سے شہری فضائی آپریشن شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ حکام کے مطابق غیر ملکی ایئر لائنز کی واپسی میں تاخیر، اسرائیلی ایئر لائنز کے مالی مسائل اور ٹکٹوں کی بڑھتی قیمتیں صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔
اسرائیل کے مرکزی بین الاقوامی ہوائی اڈے Ben Gurion Airport کے بارے میں ایک غیر معمولی انتباہ سامنے آیا ہے، جہاں اسرائیلی سول ایوی ایشن اتھاریٹی کے سربراہ شموئیل ذکی نے دعویٰ کیا ہے کہ ہوائی اڈہ عملی طور پر ’’امریکی فوجی اڈہ‘‘ بن چکا ہے۔ ذکی نے یہ انتباہ اسرائیلی وزیر ٹرانسپورٹ میری ریجیو اور وزارت کے ڈائریکٹر جنرل موشے بن زاکن کو بھیجے گئے پیغام میں دیا، جس میں انہوں نے کہا کہ فوجی سرگرمیوں میں اضافے نے شہری پروازوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ خیال رہے کہ حالیہ ہفتوں میں اسرائیلی میڈیا میں ایسی تصاویر منظر عام پر آئیں جن میں درجنوں امریکی فوجی طیارے، بشمول ایندھن بھرنے والے جہاز، بین گوریون ہوائی اڈے پر موجود دکھائی دیے۔ یہ تعیناتی اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکہ ایران کے خلاف جاری کشیدگی میں اسرائیل کی فوجی حمایت کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے : آسٹریلیا: مسجد میں نمازیوں کو اے کے ۴۷؍ سے حملے کی دھمکی، شدید مذمت
ذکی کے مطابق، غیر ملکی ایئر لائنز پہلے ہی علاقائی خطرات کے باعث محتاط ہیں، لیکن ہوائی اڈے کی بڑھتی عسکری نوعیت نے صورتحال مزید خراب کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل سے نہ صرف غیر ملکی کمپنیوں کی اسرائیل واپسی متاثر ہو رہی ہے بلکہ مقامی ایئر لائنز کے مالی استحکام کو بھی خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ۲۸؍ فروری کو ایران کے ساتھ جنگی صورتحال شروع ہونے کے بعد اسرائیلی ایئر لائنز نے اپنے کئی طیارے بیرون ملک منتقل کر دیے تھے، جن میں سے بعض اب تک واپس نہیں آئے۔ ذکی نے الزام لگایا کہ اسرائیلی فوجی اسٹیبلشمنٹ شہری ہوا بازی کے شعبے پر پڑنے والے معاشی اور عملی اثرات کو پوری طرح سمجھنے میں ناکام رہی ہے۔
انہوں نے کہا، ’’بین گوریون اب ایک ایسا فوجی اڈہ بن گیا ہے جہاں شہری سرگرمیاں محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔‘‘ اسرائیلی ایئر لائن کے چیف ایگزیکٹو یوری سرکیس نے بھی کنیسٹ کی اکنامک افیئرز کمیٹی میں انکشاف کیا کہ کمپنی، جو عام حالات میں ۱۷؍ طیارے بین گوریون ہوائی اڈے پر رکھتی تھی، اب وہاں صرف چار طیارے رکھنے کی اجازت رکھتی ہے۔ ان کے مطابق اس پابندی نے نہ صرف فضائی کرایوں میں اضافہ کیا ہے بلکہ اسرائیلی ایئر لائنز کی آپریشنل صلاحیت بھی محدود کر دی ہے۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیل کے جنوبی شہر ایلیت میں بھی امریکی فوجیوں کی بڑھتی موجودگی کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔ اسرائیلی چینل ۲۴؍ نے رپورٹ کیا کہ سیکڑوں اسرائیلی شہریوں کو ہوٹل بکنگ منسوخی کے نوٹس موصول ہوئے کیونکہ امریکی فوجیوں کی رہائش کے لیے کمروں کو مختص کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے : ہنٹا وائرس سے متاثر کروز جہاز اسپین کی بندرگاہ ٹینیرائف پہنچ گیا، انخلا کا آغاز
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی غیر یقینی کیفیت کا شکار ہے۔ ۸؍ اپریل کو پاکستانی ثالثی کے ذریعے جنگ بندی تو نافذ ہوئی تھی، تاہم بعد کی بات چیت مستقل معاہدے تک نہیں پہنچ سکی۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بعد میں جنگ بندی میں غیر معینہ مدت تک توسیع کا اعلان کیا، لیکن حالیہ دنوں میں ایران کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو ’’مکمل طور پر ناقابل قبول‘‘ قرار دے کر مسترد کر دیا گیا۔ اسی تناظر میں اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے ساتھ ممکنہ نئے تصادم کے خدشے کے پیش نظر اپنی فوجی الرٹ سطح میں اضافہ کر دیا ہے۔