Updated: October 13, 2026, 10:03 PM IST
| Tal Aviv
غزہ میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں فلسطینیوں کے قتلِ عام اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے فوجی کارروائیوں سے متعلق دستاویزی فلم ’’نازا‘‘ نے اسرائیلی حکومت کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ وزیرِاعظم نیتن یاہو نے فلم میں گواہی دینے والے فوجیوں اور افسران کے خلاف تحقیقات اور قانونی کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا نے پیر کواطلاع دی کہ اسرائیلی وزیرِاعظم بنجامن نیتن یاہو نے سیکوریٹی اداروں اور ملک کے اٹارنی جنرل کو ہدایت دی ہے کہ وہ تحقیقاتی دستاویزی فلم ’’نازا‘‘ (NAZA) میں انٹرویو دینے والے فوجیوں اور افسران کی شناخت کریں اور ان کے خلاف قانونی کارروائی شروع کریں۔ اس فلم میں غزہ میں عام شہریوں کے بڑے پیمانے پر قتلِ عام سے متعلق حقائق پیش کئے گئے ہیں۔ اخبار ’ہاریٹز‘ کے مطابق، نیتن یاہو نے فوج کے سربراہ ایال زامیر، شن بیت کے سربراہ ڈیوڈ زینی اور اٹارنی جنرل گالی بہاراو میارا کو لکھے گئے خط میں دستاویزی فلم میں حصہ لینے والوں پر ’’معلومات کی سکیورٹی سے متعلق سنگین خلاف ورزیوں اور مجرمانہ ہتکِ عزت‘‘ کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان افراد کے اقدامات سے ’’اسرائیل کے سفارتی اور سیکوریٹی مفادات‘‘ کو نقصان پہنچا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: تفریحی پارک میں رولر کوسٹر حادثہ، ایک شخص ہلاک، متعدد زخمی
ایوارڈ یافتہ اس دستاویزی فلم میں غزہ کے خلاف اسرائیل کی نسل کشی پر مبنی جنگ کے دوران مخصوص اہداف کو نشانہ بنانے اور فوجی کارروائیوں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور خودکار نگرانی کے نظام کے استعمال کا جائزہ لیا گیا ہے۔ فلم کا عنوان ’’نازا‘‘ اسرائیلی فوجی انٹیلی جنس میں استعمال ہونے والی ایک اصطلاح کے مخفف سے ماخوذ ہے، جو کسی فضائی حملے میں متوقع طور پر ہلاک ہونے والے شہریوں کی تعداد ظاہر کرنے کیلئے استعمال ہوتی ہے۔ اکتوبر۲۰۲۳ء سے جاری جنگ کے دوران اسرائیلی فوج نے۷۴؍ ہزار سے زائد فلسطینیوں کو ہلاک اور ایک لاکھ۷۵؍ ہزار سے زیادہ افراد کو زخمی کیا ہے۔ اس وحشیانہ فوجی کارروائی نے غزہ کی پوری پٹی کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آئن لائن سیل میں ۲؍دنوں میں ۲۴؍ ہزار کروڑ کی فروخت
نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ فلم میں ’’غلط، گمراہ کن اور جانبدارانہ بیانیہ‘‘ پیش کیا گیا ہے، جو اسرائیل اور اس کی فوج کی بدنامی کا سبب بن رہا ہے اور عالمی سطح پر ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ انہوں نے خط میں کہا، ’’یہ خدشہ ہے کہ اس بدنامی کا باعث بننے والی فلم میں شامل افراد نے انتہائی خفیہ معلومات افشا کرکے اور ایک نہایت حساس انٹیلی جنس یونٹ کی معلوماتی سکیورٹی کو نقصان پہنچا کر سنگین مجرمانہ جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ ‘‘ اسرائیل کے۲۴؍ فوجیوں اور انٹیلی جنس اہلکاروں کی گواہیوں پر مبنی اس فلم نے گزشتہ ماہ وینس فلم فیسٹیول میں خصوصی جیوری ایوارڈ حاصل کیا تھا۔ فلم کو ایوارڈ ملنے کے بعد اسرائیل کے وزیرِ ثقافت میکی زوہر نے وزارتِ داخلہ سے فلم کے تخلیق کاروں کی شہریت منسوخ کرنے کے امکان پر غور کرنے کی درخواست کی تھی۔ انہوں نے دستاویزی فلم کو ’’قابلِ نفرت‘‘ قرار دیتے ہوئے اس کے تخلیق کاروں پر ’’غداری‘‘ کا الزام عائد کیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: ۱۰؍ ماہ میں مزید ۳؍ لاکھ کروڑغیر ملکی سرمایہ نکال لیا گیا
اخبار ’ہاریٹز‘ کے مطابق، فوجی سربراہ ایال زامیر نے الگ سے فوجی انٹیلی جنس، فوج کے قانونی امور کے شعبے اور اسرائیلی فضائیہ کو ہدایت دی کہ فلم میں دکھائے گئے فوجیوں کی شناخت کی جائے اور معلوم کیا جائے کہ آیا وہ حاضر سروس فوجی، مستقل فوجی افسر یا ریزرو اہلکار ہیں۔ اس معاملے پر ہونے والی بات چیت کے دوران فوج کے ایڈوکیٹ جنرل ایتائی اوفیر نے کہا کہ جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ فلم میں شامل افراد نے معلومات کی سیکوریٹی کی خلاف ورزی کی یا خفیہ مواد افشا کیا، ان کے خلاف فوجداری کارروائی کی کوئی قانونی بنیاد نہیں بنتی۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ فوجی احکامات کی خلاف ورزی ثابت ہونے پر ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی جا سکتی ہے یا کمان کی سطح پر اقدامات کئے جا سکتے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ غزہ میں اہداف کو نشانہ بنانے کے اپنے طریقۂ کار سے متعلق دستاویزی فلم میں پیش کی گئی تفصیلات میں ’’اہم حقائق کی غلطیاں ‘‘ موجود ہیں۔ دوسری جانب، دستاویزی فلم تیار کرنے والے برطانوی اخبار ’دی گارجین‘ نے اس کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ گواہیوں کی ساکھ جانچنے کا طریقۂ کار انتہائی سخت تھا۔ اس میں خفیہ دستاویزات، مخصوص فضائی حملوں کی تصدیق اور دیگر خفیہ ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کی تائید شامل تھی۔ اخبار نے بتایا کہ اس نے غزہ جنگ کے دوران استعمال ہونے والے اسرائیلی فوجی نظام سے واقف۱۰۰؍ سے زائد افراد کے انٹرویو کئے، جن میں حملوں کی منظوری دینے والے اعلیٰ فوجی کمانڈر بھی شامل تھے۔ نومبر۲۰۲۴ء میں بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے غزہ میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کے تحت اسرائیلی وزیرِاعظم بنجامن نیتن یاہو اور سابق وزیرِ دفاع یوآو گیلنٹ کے وارنٹِ گرفتاری جاری کئے تھے۔ ادھر اقوامِ متحدہ کی اعلیٰ ترین عدالتی شاخ، بین الاقوامی عدالتِ انصاف (آئی سی جے)، میں بھی جنوبی افریقہ کی جانب سے دائر کردہ مقدمے کی سماعت جاری ہے، جس میں اسرائیل پر غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ کئی دیگر ممالک بھی اس مقدمے میں جنوبی افریقہ کا ساتھ دے رہے ہیں۔