Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیلی آبادکاروں نے مقبوضہ علاقہ کی ۲؍ مساجد میں آگ لگادی

Updated: July 27, 2026, 9:51 AM IST | Ramla

دونوں مساجد کو کافی نقصان پہنچا۔ حملہ آوروں نے مساجد کی دیواروں پر عبرانی زبان میں نعرے بھی تحریر کئے جن میں انتقام کا لفظ بھی شامل تھا۔ مغربی کنارے میں کشیدگی برقرار۔ آبادکاروں کے تشدد اور ۴؍ فلسطینیوں کی موت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کے دوران تل ابیب میں ۹؍ افراد گرفتار۔

A mosque that was set on fire also has slogans written in Hebrew on its walls. Photo: INN
ایک مسجد جس میںآگ لگ لگائی گئی تھی، کی دیوار وں پرعبرانی زبان میںنعرے بھی تحریر ہیں۔ تصویر: آئی این این

مقبوضہ مغربی کنارے میں رات گئے اسرائیلی آبادکاروں نے ۲؍ مساجد میں آگ لگا دی۔عرب میڈیا کے مطابق فلسطینی اتھاریٹی کے زیر انتظام مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے حملے بدستور جاری ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق نابلس کے جنوب میں واقع قصبے قصرہ کے میئر عبدالعظیم وادی نے بتایا کہ آبادکاروں نے قصبے کے جنوبی حصے میں زیرتعمیر ایک مسجد میں آگ لگادی۔انہوں نے کہا کہ آگ کے باعث مسجد کا داخلی حصہ مکمل طور پر جل گیا جبکہ اس کی پتھریلی دیواروں کو بھی نقصان پہنچا۔ حملہ آوروں نے مسجد کی دیواروں پر عبرانی زبان میں نعرے بھی تحریر کئےجن میں انتقام کا لفظ بھی شامل تھا۔فلسطینی وزارتِ اوقاف و مذہبی امور کے مطابق اسرائیلی آبادکاروں نے طولکرم کے قریب واقع گاؤں کور میں بھی ایک مسجد کو آگ لگا دی اور اس کی دیواروں پر نسل پرستانہ نعرے تحریر کئے۔ 

یہ بھی پڑھئے: امریکی وسط مدتی انتخابات میں ۱۰۰؍دن، صدر ٹرمپ کو سخت سیاسی امتحان کا سامنا

فلسطینی نوجوانوں اور اسرائیلی آبادکاروں میں چھڑپیں

مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی نوجوانوں اور اسرائیلی آبادکاروں کے درمیان گزشتہ روز ایک بار پھر جھڑپیں ہوئیں جبکہ یہ واقعات ایک روز قبل قصبہ تلّ میں ہونے والی خونریز جھڑپوں کے بعد پیش آئے جن میں ۴؍ فلسطینیوں اور ۲؍ اسرائیلیوں کی موت ہوگئی  ۔اسرائیلی فوج کے مطابق جنوبی مغربی کنارے میں واقع سوسیا نامی اسرائیلی بستی کے قریب فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان پتھراؤ ہوا۔ بعد ازاں ایک فلسطینی نوجوان نے ایک اسرائیلی شہری سے اسلحہ چھین لیا جس کے بعد فضا میں فائرنگ کی گئی۔  اس واقعے میں ایک اسرائیلی زخمی ہوا   جبکہ حملہ آور کی تلاش کیلئے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے اور متعدد چیک پوسٹ قائم کر دی گئی ہیں۔

دوسری جانب فلسطینی حکام کی جانب سے اس واقعے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ واضح رہے کہ اکتوبر۲۰۲۳ء میں غزہ جنگ   کے بعد سے مقبوضہ مغربی کنارے میں تشدد کے واقعات اور فلسطینیوں پر اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ٹیکساس کا شہر کارپس کرسٹی شدید آبی بحران کی زد میں، ماہرین کا انتباہ

تشدد کے خلاف تل ابیب میںاحتجاج

   اسرائیلی میڈیا اور احتجاج کے منتظمین کے مطابق اسرائیلی پولیس نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد کے خلاف تل ابیب میں ہونے والے ایک مظاہرے کے دوران ۹؍ افراد کو گرفتار کر لیا۔ خبروںکے مطابق سنیچر کو سیکڑوں افراد تل ابیب کی کاپلان اسٹریٹ پر جمع ہوئے اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں آبادکاروں کے تشدد اور اسرائیلی فوجی حکمرانی کے خلاف احتجاج کیا۔ یہ مظاہرہ بائیں بازو کی جماعت حداش اور اس کی اتحادی تنظیموں کی جانب سے منعقد کیا گیا تھا۔ ’مدرز اگینسٹ وائلنس‘ نامی تنظیم نے دعویٰ کیا کہ احتجاج میں ۲۰۰؍ سے زائد افراد شریک ہوئے اور الزام لگایا کہ پولیس نے مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا،جن میں وہ ۹؍ افراد بھی شامل ہیں جنہیں گرفتار کیا گیا۔ اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرہ پیشگی اجازت کے بغیر کیا جا رہا تھا۔یہ احتجاج ایک روز بعد سامنے آیا جب اسرائیلی فورسیز نے نابلس کے قریب قصبہ تل میں آبادکاروں کی دراندازی کے دوران ۴؍ فلسطینیوں کو گولی ماردی۔ اس تصادم میں۲؍ اسرائیلی بھی مارے گئے۔مقامی فتح رہنما عصام سیفی کے مطابق جمعہ کو تقریباً ۳۰؍ اسرائیلی آبادکار غیر قانونی اسرائیلی بستی ہوات گلعاد سے متصل قصبہ تل میں داخل ہوئے اور ۲؍گھروں میں زبردستی گھسنے کی کوشش کی۔ مقامی باشندوں نے مزاحمت کی جس پر آبادکاروں نے فائرنگ شروع کر دی۔سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں ایک فلسطینی شخص کو ایک آبادکار سے رائفل چھین کر اس پر فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جس کے بعد اسرائیلی فوجیوں نے اسے گولی مار دی۔ اس واقعے میں مزید ۳؍ فلسطینیوں کی موت  ہوگئی اور ۴؍ زخمی ہوئے۔  چاروں فلسطینیوں کی نماز جنازہ سخت پابندیوں کے درمیان علی الصباح ادا کی گئی۔ راملہ سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے کارکن عبی العبودی نے الجزیرہ کو بتایا کہ اس واقعے سے ایک ہفتہ قبل آبادکاروں نے تل میں ایک گھر کو اس وقت آگ لگا دی تھی جب خاندان کے افراد اس کے اندر موجود تھے۔   مقامی  افراد نے  انہیں بچالیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK