اسرو کے اوشن سیٹ۳؍ نے مشاہدہ کیا کہ موجودہ ال نینو کے مکمل واقعہ سے پہلے ہی حالیہ مہینوں میں خط استوا کے بحر الکاہل میں سمندری نباتیات میں کمی درج کی گئی، اور اسے سمندروں کے گرم ہونے سے جوڑا ہے۔
EPAPER
Updated: September 14, 2026, 2:07 PM IST | New Delhi
اسرو کے اوشن سیٹ۳؍ نے مشاہدہ کیا کہ موجودہ ال نینو کے مکمل واقعہ سے پہلے ہی حالیہ مہینوں میں خط استوا کے بحر الکاہل میں سمندری نباتیات میں کمی درج کی گئی، اور اسے سمندروں کے گرم ہونے سے جوڑا ہے۔
ال نینو خط استوا کے بحر الکاہل میں سمندر کی سطح کے درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ ہے۔ یہ اضافی گرم ہوا اور سمندری لہروں کے بہاؤ کے پیٹرن کو بدل دیتی ہے اور عالمی موسم کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ال نینو کا تعلق شدید موسم، ہیٹ ویو، زیادہ درجہ حرارت اور کم بارش سے ہے۔ ۲۰۲۲ءمیں لانچ کیا گیا، اسرو کا اوشن سیٹ-۳؍ جسے ارتھ آبزرویشن سسٹم بھی کہا جاتا ہے) سمندر کے حیاتیاتی اور طبعیپیرامیٹرکے مشاہدے کے ساتھ فضا کی عالمی نگرانی کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس میں اوشن کلر مانیٹر-3 (OCM-3) اور سکیٹرومیٹر سینسرز سے ملٹی سینسر ڈیٹا جمع کرنے کی صلاحیت ہے۔بعد ازاں حیدرآباد میں اسرو کے مرکز نیشنل ریموٹ سینسنگ سینٹر (NRSC) نے ان سینسرز کا استعمال کرتے ہوئے حاصل کی گئی کلوروفل-اے (پودوں میں سبز رنگ جو فوٹو سنتھیسز میں مدد دیتا ہے) کے مشاہدات درج کیے۔ یہ پیمائش اور اس کے بعد کا تجزیہ۲۰۲۳ء، ۲۰۲۴ء ، ۲۰۲۵ء اور ۲۰۲۶ء کے اپریل، مئی اور جون کے لیے ٹراپیکل بحر الکاہل میں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: مراٹھواڑہ کے ساتھ حکومت کا سوتیلا سلوک، ترقی سے کوئی سروکار نہیں: امباداس دانوے
جون ۲۰۲۴ء اور جون ۲۰۲۵ء کے سیٹلائٹ مشاہدات نے غیر جانبدار ENSO حالات کی تصدیق کی۔لیکن جون۲۰۲۶ء کے مشاہدات، جو ال نینو کے بننے کے منظر نامے میں ہیں، نے سطحی کلوروفل-اے میں نمایاں کمی ظاہر کی۔ یہ کمی سمندر کی سطح کی ہواؤں کے الٹ جانے کے ساتھ ملتی ہے - مشرقی ہواؤں سے مغربی ہواؤں میں تبدیلی جیسا کہ ال نینو کے سالوں میں متوقع ہے۔ موجودہ ہواؤں کا یہ کمزور ہونا اور الٹ جانا، اپریل-جون۲۰۲۶ء کے دوران کلوروفل والے علاقے کے مغرب کی طرف سکڑنے کے ساتھ، بنتے ہوئے ال نینو واقعے کی مزید تائید کرتا ہے۔سمندری پیداوار میں کمی، خاص طور پر کلوروفل کی شکل میں، بالواسطہ طور پر سمندروں میں سمندری حیات کے لیے خوراک میں کمی کا مطلب بھی ہو سکتا ہے، اس طرح ممکنہ طور پر ان کے وجود کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ناگپور میں ڈی جے کی پابندیوں پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایت
NRSC کے ماہرین نے کہاکہ،’’ ال نینو واقعے کے دوران، کمزور خط استوا کی تجارتی ہوائیں اور سمندر کی سطح کے درجہ حرارت میں زبردست تبدیلی، ٹھنڈے، غذائیت سے بھرپور پانی کی اوپر کی طرف نقل و حمل کو کم کر دیتی ہے جو فائٹو پلانکٹن کو خوراک فراہم کرتا ہے۔ جیسے جیسے غذائیت کی کمی والا پانی سورج کی روشنی والی سمندر کی اوپری سطح پر پہنچتا ہے، فائٹو پلانکٹن کی نشوونما دب جاتی ہے یا ایک چھوٹے سے علاقے میں مرکوز ہو جاتی ہے۔ نتیجے کے طور پر، سطحی کلوروفل-اے کی کم مقدار اور اس طرح سمندری پیداوار میں کمی واقع ہوتی ہے۔‘‘
دریں اثناء متعدد عالمی موسمیاتی ایجنسیوں نے اس سال ستمبر-نومبر کے دوران بہت مضبوط ال نینو کی تشکیل کی وارننگ دی ہے اور یہ واقعہ فروری۲۰۲۷ء تک برقرار رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، اسرو نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے مہینوں میں بحر الکاہل میں کم کلوروفل والا علاقہ مزید نمایاں ہو سکتا ہے۔