Inquilab Logo Happiest Places to Work

اٹلی پارلیمانی الیکشن ۲۰۲۷ء: میلونی کی پارٹی نوجوانوں، خاص طور پر جین زی میں سب سے زیادہ غیرمقبول

Updated: August 16, 2026, 1:07 PM IST | Rome

اطالوی وزیرِاعظم جارجیا میلونی کی قیادت والی حکومت کی نوجوان ووٹرز کے درمیان مقبولیت میں تیزی سے کمی آرہی ہے۔ یہ رجحان، سال ہونے والے قومی انتخابات سے قبل میلونی اور ان کی پارٹی کیلئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ۲۰۲۲ء میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے میلونی نے نوجوانوں کیلئے مواقع بڑھانے کے معاشی محاذ پر بہت کم کام کیا ہے۔

Giorgia Meloni. Photo: X
جارجیا میلونی۔ تصویر: ایکس

رائے عامہ کے جائزوں پر مبنی ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ اطالوی وزیرِاعظم جارجیا میلونی کی قیادت والی حکومت کی نوجوان ووٹرز کے درمیان مقبولیت میں تیزی سے کمی آرہی ہے۔ یہ رجحان، سال ہونے والے قومی انتخابات سے قبل میلونی اور ان کی پارٹی کیلئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ۲۰۲۲ء میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے میلونی نے نوجوانوں کیلئے مواقع بڑھانے کے معاشی محاذ پر بہت کم کام کیا ہے، جبکہ امن و امان کے ایسے اقدامات منظور کئے ہیں جو اکثر غیر متناسب طور پر انہی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی میڈیا: ٹرمپ کا آبنائے ہرمز امریکی علاقہ قرار دینا مذاق تھا، ایران کا طنز

پولنگ ایجنسی ’یو ٹرینڈ‘ (Youtrend) کے سربراہ لورینزو پریگلیاسکو کے مطابق، میلونی کا اتحاد، جس میں ان کی پارٹی ’برادرز آف اٹلی‘ (ایف ڈی آئی)، ماتیو سالوینی کی ’لیگ‘ اور انتونیو تاجانی کی ’فورزا اٹالیا‘ شامل ہیں، کی مقبولیت کی شرح، ۳۵ سال سے کم عمر کے افراد میں ۳۰ فیصد سے بھی کم رہ گئی ہے۔ اس کے مقابلے ڈیموکریٹک پارٹی، ۵-اسٹار موومنٹ اور لیفٹ-گرین الائنس کی قیادت میں قائم اپوزیشن بلاک کو تقریباً ۵۰ فیصد حمایت حاصل ہے۔ ۲۰۲۳ء میں اپنی مقبولیت کے عروج پر، اکیلی میلونی کی پارٹی کو تقریباً اتنی ہی نوجوانوں کی حمایت حاصل تھی جتنی آج ان کے پورے اتحاد کو مل رہی ہے۔

رائے عامہ کے جائزوں کے نتائج میں صنفی فرق بھی واضح ہے: بوکونی یونیورسٹی کے ایک مطالعے سے معلوم ہوا کہ ۱۸ سے ۲۹ سال کی عمر کے مردوں میں ایف ڈی آئی کی حمایت ۱۵ فیصد ہے لیکن اسی عمر کی خواتین میں صرف ۲ء۴ فیصد ہے، جبکہ ۵-اسٹار موومنٹ کو ۱۸ فیصد نوجوان خواتین اور صرف ۱ء۵ فیصد نوجوان مردوں کی حمایت حاصل ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: پولینڈ میں بڑا سائبر حملہ، ۱۹؍ ملین افراد کی طبّی معلومات چوری

ماہرِ سیاسیات لورینزو ڈی سیو نے اس مخالفت کی وجہ حکومت کے معاشی جمود کو قرار دیا۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ یورو زون میں ۱۵ سے ۲۴ سال کی عمر کے افراد میں روزگار کی شرح اٹلی میں سب سے کم ہے۔ ۳۵ سال سے کم عمر کے افراد میں میلونی کی مجموعی مقبولیت کی شرح محض ۲۵ فیصد ہے، جبکہ عام آبادی میں یہ ۳۵ فیصد ہے۔

حکومت کے سیکوریٹی اقدامات، جن میں ریو پارٹیز (rave parties)، کینابس (بھنگ) کی پیداوار، سڑکوں پر مظاہروں اور نابالغوں کے جرائم کے خلاف کارروائیاں شامل ہیں، نے نوجوانوں کو غیر متناسب طور پر متاثر کیا ہے جس کی وجہ سے گزشتہ نومبر میں ملک گیر سطح پر ”نو میلونی ڈے“ کا احتجاج شروع ہوا۔ میلونی سرکار کے ذریعے گزشتہ ماہ پیش کیا گیا ایک بل بھی اس کے پیچھے ایک اہم وجہ ہے جو ۱۴ سے ۱۷ سال کی عمر کے نابالغوں کو جرائم کا مکمل طور پر فوجداری ذمہ دار بنا دے گا اور ان کیلئے دستیاب موجودہ تحفظات کو ختم کر دے گا۔ یہ بل ۲۰۲۳ء کے ایک ایسے فرمان کے بعد سامنے آیا ہے جس نے پہلے ہی نوعمروں کی قید میں ۵۰ فیصد اضافہ کر دیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: فلم ’’اسپائیڈر مین: برانڈ نیو ڈے‘‘ کے خلاف فلسطین حامی کارکنوں کی بائیکاٹ مہم

ووٹرز کی بے حسی نے اکثر اس عدم اطمینان پر پردہ ڈال رکھا ہے، لیکن میلونی کی عدالتی اصلاحات پر مارچ میں ہونے والے ریفرنڈم میں اس کے برعکس منظر دیکھنے ملا۔ اس میں ۳۵ سال سے کم عمر کے ۶۷ فیصد افراد نے ووٹ دیا جن میں سے ۶۰ فیصد نے اصلاحات کو مسترد کردیا۔ ڈی سیو نے کہا کہ ”ریفرنڈم نے دکھا دیا کہ اگر نوجوان بڑی تعداد میں ووٹ دیں تو وہ نتائج پر کس قدر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔“ ان کا کہنا ہے کہ نوجوان ۲۰۲۷ء کے پارلیمانی انتخابات میں میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK