Inquilab Logo Happiest Places to Work

فلم ’’اسپائیڈر مین: برانڈ نیو ڈے‘‘ کے خلاف فلسطین حامی کارکنوں کی بائیکاٹ مہم

Updated: August 14, 2026, 10:06 PM IST | Ankara

فلسطین کے حامی کارکنوں نے اسرائیل کی حمایت کرنے والے پروڈیوسر ایوی اراد کے خلاف ’’اسپائیڈر مین: برانڈ نیو ڈے‘‘ کے بائیکاٹ کی مہم شروع کردی ہے۔ لبنان، اردن اور دیگر عرب ممالک میں سنیما گھروں سے فلم کی نمائش روکنے اور عوام سے ٹکٹ نہ خریدنے کی اپیل کی گئی ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

لبنان، اردن اور عرب دنیا کے دیگر علاقوں میں فلسطین حامی کارکنوں نے فلم ’’اسپائیڈر مین: برانڈ نیو ڈے‘‘ کے بائیکاٹ کی اپیل کی ہے۔ یہ مہم فلم کے پروڈیوسر ایوی اراد کی اسرائیل کی حمایت اور غزہ جنگ کے دوران اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو پر کی جانے والی تنقید کو مسترد کرنے کے مؤقف کے خلاف شروع کی گئی ہے۔ لبنان میں ’’اسرائیل کے حامیوں کے بائیکاٹ کی مہم‘‘ نے عوام سے فلم کے ٹکٹ نہ خریدنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ایسے افراد کی شمولیت والی پروڈکشن کو مالی مدد فراہم کرنا، جو کھلے عام اسرائیل کی حمایت کر چکے ہیں، ’’ثقافتی معمول پر لانے‘‘ کے مترادف ہے۔ فلم کی ریلیز سے قبل سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں گروپ نے کہا، ’’کیا ہم ایسی پروڈکشن کی حمایت کرنا چاہتے ہیں جس میں ایسے افراد شامل ہوں جنہوں نے کھلے عام اسرائیل کی سیاسی حمایت کا اظہار کیا ہے؟‘‘

یہ بھی پڑھئے: یورپ میں شدید گرمی کی پانچویں لہر، برطانیہ میں پارہ ریکارڈ سطح پر پہنچا

مہم نے عوام سے فلم کی بامعاوضہ نمائشوں سے گریز کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مؤقف اسرائیل اور اس کی پالیسیوں کو معمول کا حصہ بنانے کی مخالفت پر مبنی ہے۔ اردن میں ’’تحرک‘‘ نامی اینٹی نارملائزیشن گروپ نے بھی ایک الگ بیان جاری کرتے ہوئے فلم کے بائیکاٹ اور اسے اردنی سنیما گھروں کے شیڈول سے خارج کرنے کا مطالبہ کیا۔ گروپ نے اردن کی فنکاروں کی یونین، سنیما آپریٹرز اور دیگر متعلقہ اداروں سے بھی اپیل کی کہ وہ فلم کی نمائش کے خلاف مؤقف اختیار کریں۔ بعد ازاں عرب دنیا کے دیگر ممالک میں کارکنوں اور سوشل میڈیا مواد تخلیق کرنے والوں نے بھی ان مطالبات کو آگے بڑھایا۔ 
’’اسپائیڈر مین: برانڈ نیو ڈے‘‘۳۱؍ جولائی کو بین الاقوامی سطح پر ریلیز ہوئی۔ فلم میں ٹام ہالینڈ نے پیٹر پارکر کا کردار ادا کیا ہے جبکہ اس کی ہدایت کاری ڈیسٹن ڈینیئل کریٹن نے کی ہے۔ مارول نے ایوی اراد کو کیون فائیگی، ایمی پاسکل اور ریچل او کونر کے ساتھ فلم کے چار پروڈیوسروں میں شامل کیا ہے۔ بائیکاٹ مہم میں فلم کی کہانی یا اس کے دیگر اداکاروں اور عملے کے بجائے ایوی اراد کے سیاسی ریکارڈ کو ہدف بنایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سوئزرلینڈ: خشک سالی کے دوران پانی کی سطح ریکارڈ حد تک کم ہو گئی

مارول اسٹوڈیوز کے سابق سربراہ ایوی اراد کے پاس اسرائیلی اور امریکی دونوں شہریتیں ہیں۔ انہوں نے۱۹۶۵ء سے ۱۹۶۸ءکے درمیان اسرائیلی فوج میں خدمات انجام دیں اور۱۹۶۷ء کی چھ روزہ جنگ میں بھی حصہ لیا تھا۔ تفریحی خبروں کی ویب سائٹ ’’دی ریپ‘‘ میں ۲۰۲۴ء میں شائع ہونے والے ایک خط میں اراد نے اس وقت کے امریکی سینیٹ کے اکثریتی لیڈر چک شومر کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ شومر نے نیتن یاہو کو امن کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتے ہوئے اسرائیل میں نئے انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔ اراد نے لکھا، ’’یہ آپ کی جنگ نہیں ہے۔ یہ آپ کا ملک نہیں ہے۔ اور خطرے میں آپ نہیں ہیں۔ ‘‘ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ شومر کو اسرائیل کے انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے کا کوئی حق نہیں۔ اراد نے خود کو اسرائیلی فوج کا ایک قابل فخر سابق رکن بھی قرار دیا اور جنگ بندی کے حوالے سے شومر کے مؤقف کو مسترد کر دیا۔

یہ بھی پڑھئے: ایران نے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کے امریکی دعوے کو ’بے بنیاد جھوٹ‘ قرار دیا

مہم چلانے والوں کا کہنا ہے کہ اراد کے یہ بیانات غزہ جنگ کے دوران اسرائیل کی کارروائیوں کیلئے ان کی حمایت کو ظاہر کرتے ہیں اور ان کے مطابق فلم کے ٹکٹ خریدنے سے اراد سے وابستہ پروڈکشن کو مالی فائدہ پہنچتا ہے۔ تاہم، بائیکاٹ مہم کا فلم کی مقبولیت یا ناظرین کی تعداد پر اثر ابھی واضح نہیں ہے۔ بائیکاٹ کی اپیل کے باوجود لبنان میں فلم کی نمائش جاری رہی۔ لبنانی اخبار ’’ل’اورینٹ ٹوڈے‘‘ سے فلم کی ریلیز کے کچھ ہی عرصے بعد بات کرتے ہوئے گرینڈ سنیماز چین کے ایک نمائندے نے بتایا کہ فلم کی طلب اب بھی زیادہ ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK