Updated: August 12, 2026, 12:02 PM IST
| Rome
ہندوستانی پروفیسر دیپک دھر کو ۲۰۲۶ء کا طبیعیات کے اعلیٰ ترین اعزازات میں سے ایک، ۲۰۲۶ کا ڈیرک میڈل دیا گیا ہے، یہ اعزاز ان سائنسدانوں کو ،’’متوازن شماریاتی میکانیات میں ان کے نمایاں کارناموں اور اس کے تصورات و طریقات کو غیرمتوازن شماریاتی میکانیات، اصلاح کے مسائل، نظریاتی عصبی سائنس، اور مصنوعی ذہانت تک وسعت دینے‘‘ کے لیے دیا جاتا ہے۔
پروفیسر دیپک دھر(دائیں)۔ تصویر: ایکس
پیر کوانٹرنیشنل سینٹر فار تھیوریٹیکل سائنسز (آئی سی ٹی ایس) نے اعلان کیا کہ اس کے پروفیسر دیپک دھر کو معتبر ۲۰۲۶ء ڈیرک میڈل سے نوازا گیا ہے، جو شماریاتی میکانیات اور پیچیدہ نظامات میں ان کی خدمات کا اعتراف ہے۔انسٹی ٹیوٹ کی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک پوسٹ کے مطابق، پروفیسر دھر، جو آئی سی ٹی ایس میں انڈین نیشنل سائنس اکیڈمی (آئی این ایس اے) کے ممتاز پروفیسر ہیں، یہ اعزاز شماریاتی میکانیات کے تین دیگر ماہرین برنارڈ ڈیریڈا، مارک میزارڈ، اور ہیم سومپولینسکی کے ساتھ شریک ہیں۔آئی سی ٹی ایس کے مطابق، یہ اعزاز ان چار سائنسدانوں کو ’’متوازن شماریاتی میکانیات میں ان کے اہم کارناموں اور اس کے تصورات و طریقوں کو غیرمتوازن شماریاتی میکانیات، اصلاحی مسائل، نظریاتی عصبی سائنس، اور آخر میں مصنوعی ذہانت تک وسعت دینے‘‘کے لیے دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: شام: معزول صدر بشارالاسد اور دیگرعہدیداروں کو سزائے موت
واضح رہے کہ ڈیرک میڈل ہر سال انٹرنیشنل سینٹر فار تھیوریٹیکل فزکس (آئی سی ٹی پی) کی جانب سے طبیعیات دان پال ڈیرک کے اعزاز میں دیا جاتا ہے۔آئی سی ٹی پی کے ڈائریکٹر آتیش دابھولکر نے تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ ۲۰۲۶ء کے ڈیرک میڈل یافتگان کے کام نے نظریاتی طبیعیات، خاص طور پر شماریاتی میکانیات، کو ایک طاقتور فریم ورک کے طور پر قائم کرنے میں مدد دی ہے جو روایتی دلچسپی کے دائرے سے بہت آگے ،حیاتیات، کمپیوٹر سائنس اور مصنوعی ذہانت تک وسیع تر سوالات سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: فلسطین کی حمایت مہنگی پڑی، خبیب نورماگومیدوف کا انکشاف: ہم نے اسپانسرشپ کھودی
پروفیسر دھر کی خدمات کے اعزاز کے حوالے سے کہا گیا، ’’دیپک دھر نے یہ دکھایا کہ سادہ تعاملات بڑے نظام میں پیچیدہ اور کبھی کبھی غیر متوقع رویے کا باعث کیسے بن سکتے ہیں۔‘‘مثال کے طور پر، ریت کے ڈھیر (سینڈپائل) کے نمونے پر ان کے اہم کام کے ذریعے، انہوں نے ایک مانوس مظہر کی وضاحت کی: جیسے جیسے ریت کے دانے ڈھیر پر ڈالے جاتے ہیں، اکثر کوئی تبدیلی نہیں ہوتی یا صرف چھوٹے چھوٹے گراو ہوتے ہیں، جبکہ کبھی ایک دانہ بہت بڑے گراو کا سبب بن سکتا ہے۔‘‘یہ نظریہ ظاہر کرتا ہے کہ’’ ریت کا ڈھیر، بہت سے دوسرے پیچیدہ نظام کی طرح، خود بخود خود کو ایک بحرانی حالت (کریٹیکل ریجیم) میں رکھتا ہے جہاں چھوٹے اثرات کبھی اچانک بڑے واقعات کو جنم دے سکتے ہیں، اور اسے زلزلوں، ٹریفک جاموں اور مالیاتی منڈیوں کے اتارچڑھاؤ جیسے بظاہر مختلف نظامات کی ماڈلنگ کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔‘‘