Inquilab Logo Happiest Places to Work

فلسطین کی حمایت مہنگی پڑی، خبیب نورماگومیدوف کا انکشاف: ہم نے اسپانسرشپ کھودی

Updated: August 10, 2026, 9:58 PM IST | New York

سابق یو ایف سی لائٹ ویٹ چیمپئن خبیب نورماگومیدوف نے انکشاف کیا ہے کہ فلسطین کے حق میں عوامی طور پر آواز اٹھانے کی انہیں مالی قیمت بھی ادا کرنا پڑی۔ ایک حالیہ گفتگو میں خبیب نے دعویٰ کیا کہ فلسطین کے بارے میں سوشل میڈیا پر اظہارِ خیال کرنے والے بعض کھلاڑیوں کے ساتھ اسپانسرز نے معاہدے ختم کیے، اور ان کے بقول وہ خود، یو ایف سی ویلٹر ویٹ چیمپئن اسلام مخاچیف اور ان کے ساتھی عثمان نورماگومیدوف بھی مالی نقصان اٹھا چکے ہیں۔ خبیب نے کہا کہ بعض اسپانسرز ایسے کھلاڑیوں کے ساتھ کام نہیں کرنا چاہتے جو فلسطین کی حمایت کرتے ہیں۔

Khabib Nurmagomedov. Photo: INN
خبیب نورماگومیدوف۔ تصویر: آئی این این

فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے والے سابق یو ایف سی چیمپئن خبیب نورماگومیدوف نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ اور فلسطین کے بارے میں کھل کر اظہارِ خیال کرنے والے کھلاڑیوں کو مالی نقصان بھی اٹھانا پڑ رہا ہے۔ خبیب کے مطابق خود انہیں، یو ایف سی ویلٹر ویٹ چیمپئن اسلام مخاچیف اور عثمان نورماگومیدوف کو بھی اسپانسرشپ اور معاہدوں کے معاملے میں نقصان پہنچا ہے۔یہ انکشاف خبیب کی ایک حالیہ گفتگو کے دوران سامنے آیا، جس کا ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کر رہا ہے۔ خبیب نے اسپانسرشپ کے ممکنہ اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ معروف کھلاڑیوں کے لیے فلسطین کے معاملے پر بات کرنا ہمیشہ بے ضرر نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ ، ’’مثال کے طور پر، میں ایک مشہور کھلاڑی ہوں۔ کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ جب آپ ان کے بارے میں پوسٹ کرتے ہیں تو آپ معاہدے اور اسپانسرشپ کھو دیتے ہیں؟ بہت سے اسپانسرز ایسے کھلاڑیوں کے ساتھ کام نہیں کرنا چاہتے جو فلسطین کی حمایت کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ حمایت نہ بھی کریں، صرف کچھ کہہ دیں تو وہ معاہدے منسوخ کر دیتے ہیں۔‘‘

 
 
 
 
 
View this post on Instagram
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by BRICS NEWS (@brics_countries)

خبیب نے اس کے بعد کہا کہ معاملہ صرف ان تک محدود نہیں رہا۔ ان کے الفاظ میں، ’’آپ سمجھتے ہیں کہ میرے ساتھ ایسا نہیں ہوا یا اسلام اور عثمان کے ساتھ نہیں ہوا؟ ہمارے ساتھ ہوا ہے، ہم نے بھی پیسے کھوئے ہیں۔ لیکن جانوں کے مقابلے میں پیسہ کچھ نہیں۔‘‘ خبیب نے اس گفتگو میں کسی مخصوص کمپنی، برانڈ یا معاہدے کی مالی مالیت ظاہر نہیں کی۔ اسی طرح دستیاب رپورٹوں میں بھی ان معاہدوں کی مکمل تفصیلات یا منسوخی کی الگ الگ دستاویزی وجوہات سامنے نہیں آئی ہیں۔ اس لیے خبیب کا بیان ان کا ذاتی دعویٰ ہے اور اسے کسی مخصوص کمپنی کی جانب سے فلسطین کی حمایت پر اسپانسرشپ ختم کرنے کے حتمی ثبوت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ 

یہ بھی پڑھئے: اگست میں عرب دنیا کے آسمان پر برہنہ آنکھوں سے کہکشاں کا نظارہ کیا جاسکے گا

’’خاموش نہ رہیں‘‘، خبیب کی کھلاڑیوں سے اپیل
خبیب نے فلسطین کے معاملے پر اپنی سوشل میڈیا سرگرمی کی وجہ بھی بیان کی۔ ان کے مطابق ان کے پاس ایک بڑا پلیٹ فارم ہے اور اس کے ساتھ ایک ذمہ داری بھی وابستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص براہِ راست مدد نہیں کر سکتا تو کم از کم لوگوں کو صورتحال سے آگاہ کر سکتا ہے۔ خبیب کے مطابق، ’’میرا پلیٹ فارم، جو میرے پاس سوشل میڈیا پر ہے، ایک بڑی ذمہ داری ہے کہ کم از کم لوگوں کے ساتھ یہ بات شیئر کروں۔ آپ کچھ نہیں کر سکتے تو بھی خاموش نہ رہیں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ لوگ حالات کو برا سمجھ کر دیکھتے ہیں اور پھر آگے بڑھ جاتے ہیں، جبکہ ان کے نزدیک یہ رویہ افسوس ناک ہے۔ خبیب نے اسی لیے اپنے پلیٹ فارم کے ذریعے فلسطینیوں کی صورتحال کے بارے میں بات جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ’’مکہ معاہدہ کسی ملک کیخلاف نہیں، اس میں مصر کی بھی شمولیت متوقع ہے‘‘

خبیب، اسلام اور عثمان پہلے بھی فلسطین پر آواز اٹھاتے رہے ہیں
خبیب کا فلسطین کے حق میں موقف نیا نہیں ہے۔ وہ گزشتہ برسوں کے دوران متعدد مواقع پر غزہ اور فلسطینیوں کی صورتحال پر بات کر چکے ہیں۔ اسلام مخاچیف نے بھی فلسطین کے حوالے سے اپنے خیالات عوامی سطح پر ظاہر کیے ہیں، جبکہ عثمان نورماگومیدوف بھی اسی ڈگستانی فائٹنگ کیمپ سے وابستہ ہیں جس کے ساتھ خبیب اور مخاچیف کا تعلق ہے۔ جنوری ۲۰۲۵ء میں عثمان نورماگومیدوف کی فتح کے بعد خبیب نے آئرلینڈ میں فلسطین کے لیے عوامی حمایت کا بھی ذکر کیا تھا۔ انہوں نے اس موقع پر آئرلینڈ کے عوام اور حکومت کو فلسطین کے ساتھ حمایت پر سراہا تھا۔ 

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کو امن منظور نہیں، ٹرمپ کا پلان مسترد کر دیا، یاہو نے غزہ خالی نہ کرنے کا اعلان کیا

غزہ میں خبیب کا ایک خواب بھی
خبیب نے ماضی میں فلسطین کے مستقبل کے حوالے سے اپنے ایک خواب کا بھی ذکر کیا تھا۔ امریکی ریاست میں Miftaah Institute کے زیر اہتمام ایک کمیونٹی پروگرام میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں فلسطینیوں کا اپنا ملک ہو اور غزہ میں ایک خوبصورت ہوائی اڈہ قائم ہو۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر موقع ملا تو وہ غزہ میں ’’Khabib Gym‘‘ قائم کرنا چاہیں گے، جہاں اچھے کوچز کے ذریعے نوجوانوں کو تربیت دی جائے۔ ان کے مطابق فلسطین سے ایسے باصلاحیت کھلاڑی سامنے آ سکتے ہیں جو دنیا بھر میں اپنے ملک کی نمائندگی کریں۔

یہ بھی پڑھئے: مقبوضہ مغربی کنارہ: یہودی آبادکاروں کی نئی تعمیر شدہ غیر قانونی بستی میں منتقلی

مالی نقصان یا انسانی جان؟ خبیب نے ترجیح واضح کردی
خبیب کا تازہ بیان دراصل کھیل، کاروبار اور سیاسی و انسانی معاملات کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلق کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ آج عالمی سطح کے کھلاڑی صرف کھیل کے میدان تک محدود نہیں رہتے؛ ان کی سوشل میڈیا موجودگی انہیں بڑے سماجی اور سیاسی مباحث کا حصہ بنا دیتی ہے۔ ایسے میں کسی حساس عالمی مسئلے پر موقف اختیار کرنا بعض اوقات ان کے تجارتی تعلقات پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ تاہم خبیب نے اپنے بیان میں مالی نقصان کو ثانوی قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں کی جانوں کے نقصان کے سامنے اسپانسرشپ یا رقم کی اہمیت نہیں۔ ان کا پیغام واضح تھا کہ اگر کسی انسانی مسئلے پر آواز اٹھانے کی قیمت مالی نقصان بھی ہو، تو وہ اسے خاموش رہنے کی وجہ نہیں سمجھتے۔ 
خبیب کا یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ان کی شخصیت کھیل سے کہیں آگے ایک عالمی مسلم عوامی شخصیت کے طور پر بھی نمایاں ہے۔ ان کے حالیہ الفاظ نے ایک بار پھر یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ بڑے کھلاڑیوں اور مشہور شخصیات کے لیے انسانی بحرانوں پر کھل کر موقف اختیار کرنے کی قیمت کیا ہوتی ہے اور کیا مالی مفادات کسی انسانی المیے کے سامنے خاموشی اختیار کرنے کی کافی وجہ ہو سکتے ہیں۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK