یہ پہلی قسط تھی۔ امسال تعلیم کی مد میں۴۰؍ لاکھ اور میڈیکل کے طلبہ کیلئے ۳۰؍ لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں۔
جمعیۃ علماء مہاراشٹر کی جانب سے اسکالر شپ کا چیک دیا جارہا ہے-تصویر:آئی این این
طلباء و طالبات میں جمعیۃ علماء مہاراشٹر کی جانب سے اتوار کو ایک تقریب میں اسکالر شپ کے ۲۰؍ لاکھ روپے چیک تقسیم کئے گئے۔ اسکالر شپ کی پہلی فہرست میں۳۵۰؍؍ درخواستیں منظور کی گئیں، ان میں۲۱؍ غیر مسلم طلبہ اور۱۹؍ ایل ایل بی اور ایل ایل ایم کے طلبہ شامل ہیں۔ اسکالر شپ کی یہ رقم مفتی کفایت اللہ میموریل ٹرسٹ (ممبئی) جو کہ جمعیۃ علماء مہاراشٹر کا ایک ذیلی ادارہ ہے، کی جانب سے جاری کی گئی۔ یہ ادارہ ہر سال ہونہار طلباء و طالبات کو اسکالر شپ دیتا ہے تاکہ وہ یکسوئی کے ساتھ اپنا علمی سفر جاری رکھ سکیں۔اس موقع پر یہ بھی واضح کیا گیا کہ پوسٹ گریجویشن، پروفیشنل کورسیز اور میڈیکل کے طلباء و طالبات کے لئے فارم کے اجراءکا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔
اس تعلق سے نمائندہ انقلاب نے جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر مولانا حلیم اللہ قاسمی سے ۳؍ سوالات کئے ۔ اوّل یہ کہ آخر اتنی تاخیر سے کیوں اسکالر شپ دی جاتی ہے، بہت سے طلبہ قرض وغیرہ لے کر فیس ادا کرنے پر مجبور ہوتے ہیں ۔ دوسرے یہ کہ تعلیم اور میڈیکل کی مد میں رواں تعلیمی سال کیلئے کتنی رقم اسکالر شپ کیلئے مختص کی گئی ہے اور تیسرے یہ کہ بقیہ اسکالر شپ کب تقسیم کی جائے گی تو مولانا نے بتایا کہ دراصل کالج کے طلبہ کیلئے کچھ مسئلہ ہوتا ہے مگر جب تک فیس کا صحیح علم نہ ہو، رقم کیسے دی جاسکتی ہے۔ اگر کوئی طالب علم ایسا کوئی مسئلہ بتاتا ہے تو اسے پہلے ہی یہ رقم اس کے اکاؤنٹ میں ڈال دی جاتی ہے۔ اسی طرح ابھی میڈیکل اور کچھ اور شعبوں میں داخلے کیلئے راؤنڈ جاری ہے، جب ان کی فیس کا علم ہوگا تب ہی انہیں اسکالر شپ دی جائے گی۔ جہاں تک اسکالر شپ کی مجموعی رقم کی بات ہے تو امسال ۴۰؍ لاکھ روپے تعلیم کیلئے اور۳۰؍ لاکھ روپے میڈیکل کی مد میں مختص کئے گئے ہیں۔
مولانا نے دوسری قسط جاری کرنے کے تعلق سے بتایا کہ اگست کے وسط یا اخیر تک جاری کی جائے گی۔ اس کے علاوہ اگر ضرورت ہوئی تو تعلیم کی مد میں اسکالر شپ کا مزید اضافہ بھی کیا جائے گا ۔
رکن پارلیمان اروند ساونت نے کہا کہ تعلیم ہی وہ طاقت ہے جو افراد اور قوموں کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ انہوں نے مفتی کفایت اللہ میموریل ٹرسٹ کی خدمات کو سراہا۔ رکن اسمبلی امین پٹیل نے کہا کہ معاشرے کی ترقی کیلئے تعلیم میں معاونت اور سرمایہ فراہم کرنا سب سے اہم اور بہتر ہے۔ نظام الدین راعین نے کہا کہ بلاامتیاز مذہب و ملت مستحق طلبہ کی مدد کرنا انسانیت کی حقیقی خدمت ہے۔ سابق رکن اسمبلی الحاج بشیر موسیٰ پٹیل نے بھی ٹرسٹ کی خدمات کو سراہا ۔