Updated: September 01, 2026, 5:01 PM IST
| New Delhi
مرکزی حکومت نے جولائی میں نئی دہلی کے طلبہ احتجاج سے متعلق ۱۳؍ ایف آئی آر ختم کرنے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا ہے۔ ان مقدمات میں فساد، اقدامِ قتل، ڈکیتی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے جیسے الزامات شامل ہیں۔ حکومت نے ساتھ ہی دہلی پولیس کو احتجاج میں موجود ۲۸۷۳؍ ایسے افراد کے خلاف ایک نئی ایف آئی آر درج کرنے کی اجازت مانگی ہے جن کے بارے میں سنگین مجرمانہ پس منظر ہونے کا دعویٰ ہے۔
مرکزی حکومت نے پیر کو سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرکے جولائی کے نوجوانوں کے احتجاج سے متعلق دہلی میں درج ۱۳؍ ایف آئی آر ختم کرنے کی اجازت مانگی۔ حکومت نے آئین کے آرٹیکل ۱۴۲؍ کے تحت عدالت کے خصوصی اختیارات استعمال کرنے کی درخواست کی ہے۔ یہ آرٹیکل سپریم کورٹ کو مکمل انصاف کے لیے ضروری حکم جاری کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ ان ۱۳؍ مقدمات میں فساد، اقدامِ قتل، ڈکیتی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے سمیت مختلف الزامات شامل ہیں۔ حکومت نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ ان واقعات کے سلسلے میں آئندہ کوئی نئی ایف آئی آر درج نہیں کی جائے گی۔ اگر اسی نوعیت کا کوئی مقدمہ بعد میں سامنے آتا ہے تو حکومت اسے ختم کرنے کی مخالفت بھی نہیں کرے گی۔
یہ بھی پڑھئے: نیپال میں ہر روز تباہی کی نئی پرتیں کھل رہی ہیں
دہلی پولیس نے تاہم ۲۸۷۳؍ افراد کے خلاف ایک نئی ایف آئی آر درج کرنے کی اجازت مانگی ہے۔ پولیس کے مطابق ان افراد کا مجرمانہ پس منظر سنگین نوعیت کا ہے اور نئی ایف آئی آر میں احتجاج کے دوران تشدد، جسمانی نقصان اور املاک کی تباہی میں ان کے ممکنہ کردار کی تفتیش کی جائے گی۔ مرکزی حکومت کی جانب سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے چیف جسٹس سوریا کانت کی سربراہی والی بنچ کے سامنے معاملہ فوری سماعت کے لیے پیش کیا۔ عدالت نے درخواست منگل کو سننے پر رضامندی ظاہر کی۔ یہ پیش رفت ۵؍ ستمبر کو کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے انڈیا گیٹ سے دہلی پولیس ہیڈکوارٹر تک مجوزہ مارچ سے چند روز قبل سامنے آئی ہے۔ احتجاج ختم کرتے وقت ایف آئی آر واپس لینا طلبہ تحریک کے اہم مطالبات میں شامل تھا۔ تنظیم کا الزام ہے کہ حکومت نے ۲۵؍جولائی کو احتجاج ختم کرانے کے لیے کیے گئے وعدوں کو مکمل طور پر نافذ نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھئے: سی آر پی ایف کی نظر میں پیلٹ گن کا استعمال حقوق انسانی کے خلاف نہیں
طلبہ کے احتجاج کا آغاز ۶؍ جون کو جنتر منتر سے ہوا تھا، جہاں امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف مظاہرہ کیا گیا۔ ۲۰؍ جولائی کو پارلیمنٹ کی جانب مارچ کے دوران پولیس کارروائی میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔ پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے استعمال کے ساتھ پیلٹ گن چلانے کی کارروائی بھی کی، جبکہ پولیس کا کہنا تھا کہ احتجاج کے دوران تشدد ہوا تھا۔ ۱۸؍ اگست کو سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ وہ آئین کے آرٹیکل ۱۴۲؍ کے تحت صرف طلبہ کے خلاف درج ایف آئی آر ختم کرنے پر غور کرسکتی ہے۔ عدالت نے حکومت سے ملک بھر میں طلبہ کے خلاف درج مقدمات کی فہرست بھی طلب کی تھی اور واضح کیا تھا کہ سنگین مجرمانہ پس منظر رکھنے والے افراد کے معاملات الگ دیکھے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھئے: نیپال: ’اے آئی‘ سے جعلی عطیہ رسید بنا کر فراڈ کرنے والا شخص گرفتار
سپریم کورٹ نے اس سے قبل یہ بھی واضح کیا تھا کہ ’’مجرمانہ پس منظر‘‘ سے مراد معمولی مقدمات نہیں بلکہ سنگین اور شدید نوعیت کے جرائم ہیں۔ حکومت نے ایسے افراد کو طلبہ مظاہرین سے الگ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ادھر دہلی پولیس نے عدالت کو بتایا ہے کہ ۱۳؍ ایف آئی آر میں نامزد باقی مظاہرین کے خلاف کارروائی آگے نہیں بڑھائی جائے گی، جبکہ ۲۸۷۳؍ افراد کے خلاف نئی ایف آئی آر کا مقصد صرف ان کے مبینہ سنگین مجرمانہ کردار کی تحقیقات کرنا ہوگا۔