Inquilab Logo Happiest Places to Work

شدید گرمی سے بچانے کیلئے جاپان کا انوکھا ’’ہیومن ریفریجریٹر‘‘ متعارف

Updated: July 20, 2026, 9:03 PM IST | Tokyo

دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی گرمی اور ہیٹ ویو کے خطرات کے درمیان جاپان کی ایک کمپنی نے انسانوں کو شدید درجہ حرارت سے فوری ریلیف فراہم کرنے کے لیے ایک منفرد ’’ہیومن ریفریجریٹر‘‘ تیار کیا ہے۔ ڈو ہیمون باکس (Do Himon Box) نامی یہ خصوصی کولنگ بوتھ چند منٹ میں جسم کو ٹھنڈا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ نظام خاص طور پر بیرونی ماحول میں کام کرنے والے افراد کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ اس کی بجلی کی کھپت بھی روایتی اسپاٹ ایئر کنڈیشنر کے مقابلے میں تقریباً نصف ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث بڑھتی ہوئی گرمی اور ہیٹ ویو کے خطرات کے پیشِ نظر جاپان کی ایک کمپنی نے انسانوں کو فوری طور پر ٹھنڈک پہنچانے کے لیے ایک منفرد ’’ہیومن ریفریجریٹر‘‘ متعارف کرایا ہے، جسے شدید گرمی میں کام کرنے والے افراد کے لیے ایک نئی ٹیکنالوجی قرار دیا جا رہا ہے۔ ڈو ہیمون باکس (Do Himon Box) نامی یہ خصوصی کولنگ بوتھ جاپان کی ریفریجریشن اور وینڈنگ مشینیں بنانے والی کمپنی SDRS نے تیار کیا ہے۔ کمپنی کے مطابق اس کا تصور جاپان بھر میں نصب ریفریجریٹڈ وینڈنگ مشینوں سے متاثر ہو کر پیش کیا گیا۔ یہ بوتھ بظاہر ایک بڑے ریفریجریٹر جیسا دکھائی دیتا ہے، جس کے اندر ایک کرسی نصب ہے تاکہ ایک شخص آرام سے بیٹھ سکے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران کے حملوں میں امریکہ کا بھاری جانی ومالی نقصان

بوتھ کے اندرونی حصے کا درجہ حرارت پہلے سے ۱۵؍ ڈگری سینٹی گریڈ پر برقرار رکھا جاتا ہے۔ جیسے ہی کوئی شخص کرسی پر بیٹھتا ہے، تقریباً ۵؍ ڈگری سینٹی گریڈ ٹھنڈی ہوا اس کے سر، گردن، کندھوں اور کمر کی جانب خارج ہونا شروع ہو جاتی ہے، جس سے چند لمحوں میں جسم کو ٹھنڈک اور سکون محسوس ہونے لگتا ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ صرف پانچ منٹ کے استعمال کے بعد جسم میں واضح ٹھنڈک محسوس ہونے لگتی ہے، جبکہ تقریباً دس منٹ تک بوتھ میں رہنے سے جسمانی درجہ حرارت تیزی سے کم ہو سکتا ہے، جس سے گرمی کی شدت اور ہیٹ ایکزاسشن (Heat Exhaustion) کی علامات میں کمی آنے کا امکان ہوتا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ ٹیکنالوجی خاص طور پر ان افراد کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہے جو طویل وقت تک کھلی دھوپ یا شدید گرمی میں کام کرتے ہیں، جیسے تعمیراتی کارکن، فیکٹری ملازمین اور دیگر بیرونی شعبوں سے وابستہ افراد۔ ڈو ہیمون باکس کی ایک نمایاں خصوصیت اس کی کم توانائی کی کھپت بھی ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ نظام روایتی اسپاٹ ایئر کنڈیشنر کے مقابلے میں تقریباً آدھی بجلی استعمال کرتا ہے۔ اس میں ٹھنڈک اور ہوا کے بہاؤ کی تین مختلف سیٹنگز موجود ہیں، جبکہ زیادہ دیر تک ٹھنڈک سے بچانے کے لیے یہ آلہ ۲۰؍ منٹ بعد خودکار طور پر بند ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں پہیے بھی نصب کیے گئے ہیں، جس کی وجہ سے اسے ایک جگہ سے دوسری جگہ آسانی سے منتقل کیا جا سکتا ہے اور اس کی تنصیب کے لیے کسی مستقل ڈھانچے یا خصوصی انتظامات کی ضرورت نہیں ہوتی۔

یہ بھی پڑھئے: روس نے وسطی علاقوں میں گوداموں اور تیل کے ایک مرکز کو نشانہ بنایا: یوکرین

رپورٹ کے مطابق اپریل میں فروخت کے آغاز کے بعد سے یہ ’’ہیومن ریفریجریٹر‘‘ جاپان میں خاصی توجہ حاصل کر چکا ہے اور کئی عوامی مقامات پر بھی نصب کیا جا چکا ہے۔ گنما پریفیکچر کے میباشی سٹی ہال میں آنے والے شہری اس کولنگ بوتھ کو مفت استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جاپان شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے۔ ٹوکیو سمیت کئی علاقوں میں درجہ حرارت ۴۰؍ ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر چکا ہے، جبکہ ۱۵؍  جولائی کو ہیٹ اسٹروک کے باعث ۴۸؍ افراد کو اسپتال منتقل کرنا پڑا تھا۔ کمپنی نے اس آلے کی معیاری قیمت ۱۵؍ لاکھ ین مقرر کی ہے، جو تقریباً ۹۳۲۶؍ امریکی ڈالر یا ۹؍ لاکھ ہندوستانی روپے کے برابر بنتی ہے، تاہم اس میں ٹیکس شامل نہیں۔ فی الحال یہ جدید کولنگ بوتھ صرف کاروباری اداروں، سرکاری تنظیموں اور دیگر ادارہ جاتی صارفین کے لیے دستیاب ہے، جبکہ عام صارفین کے لیے اس کی فروخت کا ابھی کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK