Updated: October 18, 2026, 2:00 PM IST
| Tokyo
بدھ، ۱۴ اکتوبر کو پارلیمنٹ میں گفتگو کرتے ہوئے تاکائیچی نے کہا کہ وہ خواتین سے وابستہ توقعات، بشمول گھریلو کام کاج اور میک اپ، کے باعث سابق وزرائے اعظم کے مقابلے میں زیادہ طویل گھنٹے کام کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”صبح کے وقت میں غسل کرتی ہوں، ناشتہ بناتی ہوں اور برتن دھوتی ہوں، پھر میک اپ کرتی ہوں۔“ ان کا اندازہ ہے کہ یہ معاملات ان کے دن میں تین سے چار گھنٹے کا اضافہ کر دیتے ہیں۔
جاپانی وزیرِ اعظم سانائے تاکائیچی کے پارلیمنٹ میں اس بیان کے بعد کہ وہ ایک خاتون ہونے کے ناطے ایسے اضافی بوجھ اٹھاتی ہیں جن کا سامنا ان کے مرد پیش روؤں کو کبھی نہیں کرنا پڑا، صنفی کرداروں پر ایک قومی بحث چھڑ گئی ہے۔ بدھ، ۱۴ اکتوبر کو پارلیمنٹ میں گفتگو کرتے ہوئے تاکائیچی نے کہا کہ وہ خواتین سے وابستہ توقعات، بشمول گھریلو کام کاج اور میک اپ، کے باعث سابق وزرائے اعظم کے مقابلے میں زیادہ طویل گھنٹے کام کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”صبح کے وقت میں غسل کرتی ہوں، ناشتہ بناتی ہوں اور برتن دھوتی ہوں، پھر میک اپ کرتی ہوں۔“ ان کا اندازہ ہے کہ یہ معاملات ان کے دن میں تین سے چار گھنٹے کا اضافہ کر دیتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے معاونین کو یہ سمجھنے میں وقت لگا کہ انہیں کیمرے کے سامنے آنے سے پہلے اضافی تیاری کی ضرورت ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آذربائیجان نے اسکولوں میں اسکارف پر پابندی لگانے کا حکم دیا، ترکی کے ساتھ تعلقات کشیدہ
ناقدین کا سخت ردِعمل
تاکائیچی کے اس بیان پر فوری ردعمل سامنے آیا۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ ان سے دقیانوسی صنفی کرداروں کو تقویت ملی اور کام کے حد سے زیادہ طویل اوقات کی تعریف کی گئی، جسے جاپان میں طویل عرصے سے ایک مسئلہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ خواتین گھریلو کاموں پر روزانہ تقریباً پانچ گھنٹے صرف کرتی ہیں، جبکہ مردوں کیلئے یہ وقت تقریباً ۴۰ منٹ ہے۔ سوشل میڈیا صارفین نے نشان دہی کی کہ بچوں کی پرورش کرنے والی یا بوڑھے والدین کی دیکھ بھال کرنے والی بہت سی ملازمت پیشہ خواتین کو وزیرِ اعظم سے کہیں زیادہ سخت تقاضوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پیشے سے وکیل فوساکو میوا نے لکھا کہ تاکائیچی کیلئے زیادہ وقت درکار ہونا قابلِ قبول ہے جب تک کہ وہ اپنا کام انجام دے رہی ہیں، لیکن میک اپ کو بطور عذر استعمال کرنا اور اس پر رعایت یا معافی چاہنا قطعی ناقابلِ قبول ہے۔
گزشتہ سال عہدہ سنبھالنے کے بعد سے تاکائیچی گھریلو فرائض کی وجہ سے رات کو صرف تین گھنٹے سونے کا تذکرہ کرتی رہی ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے پارلیمنٹ میں اپنی حاضری کم کر دی ہے اور وہ رات کو اور اختتامِ ہفتہ (ویک اینڈز) پر زیادہ تر اپنی رہائش گاہ پر ہی رہتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی قانون سازوں نے روبیو پر دورۂ ہند کے دوران سی جے پی احتجاج کا معاملہ اٹھانے پر زور دیا
اصلاحات کے مطالبات
جونیئر اتحادی شراکت دار، جاپان انوویشن پارٹی کے فومیتاکے فوجیتا نے ان گھنٹوں پر محیط پارلیمانی اجلاسوں کو مختصر کرنے کی تجویز پیش کی جن میں وزراء تقریباً روزانہ شرکت کرتے ہیں۔ این ایکس جے آئی (NXJI) ریسرچ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے نشان دہی کی کہ جاپان کے وزیرِ اعظم نے ۲۰۲۲ء میں ۷۲ دن پارلیمنٹ میں شرکت کی، جبکہ برطانیہ میں یہ تعداد ۵۰ اور جرمنی میں ۱۳ تھی۔ رپورٹ میں سرکاری رہائش گاہ کیلئے باورچیوں اور ہاؤس کیپنگ عملے کی خدمات حاصل کرنے کی بھی تجویز دی گئی۔ تاکائیچی نے تسلیم کیا کہ اپنے شیڈول کو سنبھالنا مشکل ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ جاپان کے مستقبل کی سمت پر غور و فکر کیلئے وقت نکالنا تک کٹھن ہے۔