جاپان کی وزیر اعظم سانائی تاکائچی نے اپنی زندگی کا ایک واقعہ سناتے ہوئے بتایا کہ ان کے گھر سے عملے کے ذریعے ایک کاکروچ ہٹائے جانے کے بعد حیرت انگیز طور پر انہوں نے خود کو تنہا محسوس کیا۔
EPAPER
Updated: August 25, 2026, 10:15 PM IST | Tokyo
جاپان کی وزیر اعظم سانائی تاکائچی نے اپنی زندگی کا ایک واقعہ سناتے ہوئے بتایا کہ ان کے گھر سے عملے کے ذریعے ایک کاکروچ ہٹائے جانے کے بعد حیرت انگیز طور پر انہوں نے خود کو تنہا محسوس کیا۔
جاپان کی وزیراعظم سانائی تاکائیچی نے ملک کی سرکاری رہائش گاہ سے ایک غیر متوقع ذاتی کہانی سنائی ہے۔ان کی رہائش گاہ میں موجود ایک کاکروچ جسے انہوں نے مارنے سے انکار کر دیا، آخر کار عملے نے ہٹا دیا، جس کے بعد وزیراعظم نے حیرت انگیز طور پر خود کو تنہا محسوس کیا۔تاکائیچی، جو دسمبر میں اس رہائش گاہ میں منتقل ہوئی تھیں، نے سوشل میڈیا پر صارفین کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے یہ کہانی شیئر کی۔
یہ بھی پڑھئے: معروف فلسطینی فنکار سلیمان منصور ۷۹؍ برس کی عمر میں انتقال کر گئے
بعد ازاںکئی گھنٹے کام کرنے اور اکثر ہفتے کے آخر میں سرکاری رہائش گاہ میں گزارنے کے باوجود، تاکائیچی نے کہا کہ انہیں کبھی ان بھوتوں کا سامنا نہیں ہوا جن کا اس عمارت سے تعلق بتایا جاتا ہے۔ اس کے بجائے، ان کا غیر متوقع مہمان ایک کاکروچ تھا۔تاکائیچی نے کہا کہ وہ اس وقت چونک گئیں جب کیڑا اچانک ان کے پیروں کے پاس سے بھاگا، باوجود اس کے کہ وہ رہائش گاہ کو صاف رکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔لیکن انہوں نے اسے نہ مارنے کا انتخاب کیا۔ اوسامو تیزوکا کے شاہکار مزاحیہ سلسلے ’’فینکس‘‘(Phoenix) کی دیرینہ مداح ہونے کے ناطے، تاکائیچی نے کہا کہ اس کی تناسخ (reincarnation) اور زندگیوں کے باہمی ربط کی تھیمز نے انہیں بچپن سے متاثر کیا ہے۔ انہوں نے لکھا، ’’اس کاکروچ کے بارے میں جو سرکاری رہائش گاہ میں بھاگا، میں نے سوچا کہ شاید یہ زندگی بھی تناسخ کے اس طویل سلسلے کا حصہ ہے۔‘‘تاہم انہوں نے انتظار کرنےکافیصلہ کیا کہ وہ خود بخود چلا جائے گا۔ مگر ان کے سیکریٹری کا خیال کچھ اور تھا۔اطلاعات کے مطابق، ان میں سے ایک نے اعلان کیا، یہ ناپاک ہے۔ میں اسے سنبھال لیتا ہوں۔‘‘ اس کے بعد انہوں نے وہ منصوبہ ترتیب دیا جسے تاکائیچی نے مذاقاً ’’آپریشن جنگی کارروائی‘‘ کا نام دیا۔کاکروچ کو ہٹا دیا گیا اور وزیراعظم کے مطابق، اس کے بعد وہ نظر نہیں آیا۔
بعد ازاں تاکائیچی نے لکھا، ’’مجھے راحت تو ہوئی، لیکن کچھ تنہائی بھی محسوس ہوئی، یا شاید اداسی۔ ‘‘ واضح رہے کہ تاکائیچی تنہا کام کرنے کو ترجیح دیتی ہیں۔جبکہ اس پوسٹ نے تاکائیچی کے کام کرنے کی عادات کی بھی جھلک پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ وزیراعظم کے دفتر کے بجائے سرکاری رہائش گاہ استعمال کرنا پسند کرتی ہیں کیونکہ اس سے عملے اور سیکیورٹی اہلکاروں پر بوجھ کم ہوتا ہے۔انہوں نے لکھا، ’’میں نے سرکاری رہائش گاہ کو فعال طور پر استعمال کرنے کو اپنا اصول بنا لیا ہے،‘‘ اور وضاحت کی کہ ایسا کرنے سے وہ اس میں شامل عملے اور خصوصی پولیس افسران کی تعداد کو کم سے کم رکھ سکتی ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ عام طور پر چھوٹی میٹنگیں پسند کرتی ہیں، جب ذاتی گفتگو ضروری ہوتی ہے تو صرف متعلقہ سیکریٹری یا عملے کا رکن رہائش گاہ آتا ہے۔
ذہن نشین رہے کہ ۶۵؍ سالہ وزیراعظم دیر رات اور ہفتے کے آخر تک کام کرنے کے لیے مشہور ہیں، اکثر بہت کم نیند پر گزارا کرتی ہیں۔ جولائی میں انہوں نے بتایا کہ عہدہ سنبھالنے کے بعد معمول کے مطابق صفر سے تین گھنٹے کی نیند کے بعد آخرکار وہ پانچ گھنٹے سونے میں کامیاب ہوئیں۔تاکائیچی کی یہ پوسٹس ان رپورٹس کے بعد آئیں جن میں سوال اٹھایا گیا تھا کہ وہ کتنی بار پارلیمانی اجلاسوں میں شریک ہوتی ہیں اور رہائش گاہ سے کتنا وقت کام کرتی ہیں۔فراہم کردہ معلومات کے مطابق، نیکی نے رپورٹ کیا کہ انہوں نے وزیراعظم بننے کے بعد اپنے نصف سے زیادہ ہفتے کے آخر اور عام تعطیلات رہائش گاہ پر گزاریں، جبکہ بلومبرگ نے پایا کہ انہوں نے۲۰۱۲ء کے بعد کسی بھی جاپانی وزیراعظم کے مقابلے میں سب سے کم کابینی اجلاس منعقد کیے ہیں۔
تاہم یہ رپورٹس ایسے وقت آئی ہیں جب ان کی مقبولیت کی شرح بھی گرگئی ہے۔ گزشتہ ماہ کے ایک سروے میں ان کی حمایت۴۱؍ فیصد رہی، جو ایک مہینے میں۱۰؍ فیصد پوائنٹس کم ہے اور فروری میں انتخابی فتح کے بعد پہلی بار۵۰؍ فیصد سے نیچے آ گئی ہے۔