Inquilab Logo Happiest Places to Work

جاپان: سات فیصد نوجوان سوشل میڈیا کے عادی، اسکرین ٹائم پر تشویش

Updated: May 07, 2026, 8:05 PM IST | Tokyo

جاپان میں ایک حالیہ سروے کے مطابق ۱۰؍ سے ۱۹؍ سال کی عمر کے تقریباً ۷؍ فیصد نوجوان خود کو سوشل میڈیا کا ’’شدید عادی‘‘ سمجھتے ہیں۔ نیشنل ہاسپٹل آرگنائزیشن کوری ہاما میڈیکل اینڈ ایڈکشن سینٹر کی تحقیق سے ظاہر ہوا کہ نوجوانوں میں اسکرین ٹائم خطرناک حد تک بڑھ رہا ہے، جس کا تعلق ذہنی صحت اور رویے کے مسائل سے جوڑا جا رہا ہے۔ حکام اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے پالیسی اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این

جاپان میں نوجوانوں کے درمیان سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال نے ایک بار پھر تشویش پیدا کر دی ہے، جہاں ایک حالیہ قومی سروے کے مطابق ۱۰؍ سے ۱۹؍ سال کی عمر کے تقریباً ۷؍ فیصد افراد خود کو سوشل میڈیا کا ’’پیتھولوجیکل‘‘ یا شدید عادی صارف سمجھتے ہیں۔ یہ تحقیق نیشنل ہاسپٹل آرگنائزیشن کوری ہاما میڈیکل اینڈ ایڈکشن سینٹر کی جانب سے کی گئی، جس میں انکشاف ہوا کہ نوجوانوں میں اسکرین ٹائم نہ صرف بڑھ رہا ہے بلکہ اس پر کنٹرول کھونا بھی ایک بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اس عمر کے گروپ میں ایسے افراد کی شرح دیگر تمام عمر کے گروپس کے مقابلے میں سب سے زیادہ پائی گئی۔

یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز بحران عالمی معیشت کا گلا گھونٹ رہا ہے: انتونیو غطریس

سروے جنوری اور فروری ۲۰۲۵ء کے دوران کیا گیا، جس میں جاپان بھر کے ۴۰۰؍ مختلف مقامات سے ۱۰؍ سے ۷۹؍ سال کی عمر کے تقریباً ۹؍ ہزار افراد کو شامل کیا گیا۔ ان میں سے ۴۶۵۰؍ افراد نے مکمل جوابات فراہم کیے، جن کی بنیاد پر نتائج اخذ کیے گئے۔ اعداد و شمار کے مطابق، جن نوجوانوں نے سوشل میڈیا کے استعمال میں مسئلہ ہونے کا اعتراف کیا، ان میں سے تقریباً ۳۰؍ فیصد نے بتایا کہ وہ ہفتے کے دنوں میں روزانہ چھ گھنٹے یا اس سے زیادہ آن لائن وقت گزارتے ہیں۔ یہ شرح ہفتے کے آخر میں مزید بڑھ جاتی ہے، جہاں ۶۲؍ فیصد نوجوان اسی حد یا اس سے زیادہ وقت سوشل میڈیا پر گزارتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کا زیادہ استعمال صرف عادت نہیں بلکہ ایک نفسیاتی انحصار کی شکل اختیار کر سکتا ہے، جس کے اثرات بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت پر پڑتے ہیں۔ مختلف مطالعات میں یہ بھی اشارہ دیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا کے بے قابو استعمال کا تعلق اضطراب، ڈپریشن، نیند کی کمی اور حتیٰ کہ بعض مجرمانہ رویوں سے بھی ہو سکتا ہے۔ یہ نتائج ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب جاپان کی وزارت داخلہ اور مواصلات اور خاندانوں اور بچوں کی فلاح و بہبود کی وزارت اس مسئلے کے ممکنہ حل پر غور کر رہی ہیں۔ حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا دیگر ممالک کی طرح سخت ضوابط متعارف کرائے جائیں یا نہیں۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: تعلیم کے بعد بھی ملازمت نہ ملنے پر آندھرا پردیش کے شخص کی خودکشی

قابل ذکر بات یہ ہے کہ آسٹریلیا اور انڈونیشیا پہلے ہی ۱۶؍ سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندیاں عائد کر چکے ہیں، جسے ایک حفاظتی اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین نے والدین کے کردار پر بھی زور دیا ہے۔ نیشنل ہاسپٹل آرگنائزیشن کوری ہاما میڈیکل اینڈ ایڈکشن سینٹرنے واضح طور پر کہا ہے کہ والدین کو ’’اچھی مثال‘‘ قائم کرنی چاہیے اور بچوں کے لیے اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ کے استعمال کے واضح اصول طے کرنے چاہئیں۔ ادارے کے مطابق، گھرانوں کو چاہیے کہ وہ پہلے سے یہ طے کریں کہ بچے کب، کہاں اور کتنی دیر تک ڈجیٹل آلات استعمال کر سکتے ہیں، اور اگر ان اصولوں کی خلاف ورزی ہو تو اس کے کیا نتائج ہوں گے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جاپان جیسے ٹیکنالوجی کے لحاظ سے ترقی یافتہ معاشرے میں یہ مسئلہ مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے، کیونکہ ڈجیٹل آلات روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکے ہیں۔ ایسے میں مکمل پابندی کے بجائے متوازن استعمال اور ڈجیٹل تعلیم کو فروغ دینا زیادہ مؤثر حکمت عملی ہو سکتی ہے۔یہ سروے اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سوشل میڈیا کا استعمال صرف ایک تفریحی سرگرمی نہیں رہا بلکہ نوجوانوں کی زندگیوں پر گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے، جس کے لیے فوری اور سنجیدہ توجہ کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK