Updated: October 20, 2026, 10:06 PM IST
| Tokyo
مریخ کے چاند فوبوس سے پہلی مرتبہ مٹی اور چٹانوں کے نمونے جمع کرکے زمین پر لانے کی کوشش شروع ہوگئی، جاپانی خلائی ایجنسی جاکسا کے مشن میں فرانسیسی جرمن روور بھی شامل، سائنس دانوں کو امید ہے کہ اس تحقیق سے مریخ کے دونوں چاندوں کی پیدائش اور نظامِ شمسی کی ابتدائی تاریخ کے اہم سوالات کے جواب مل سکیں گے۔
جاپان نے خلا کی تحقیق میں ایک تاریخی پیش رفت کرتے ہوئے مریخ کے چاند سے نمونے جمع کرکے زمین پر واپس لانے کے لیے دنیا کا پہلا مشن روانہ کردیا ہے۔ جاپان ایرو اسپیس ایکسپلوریشن ایجنسی (جاکسا) کا تیار کردہ ’مارشین مونز ایکسپلوریشن‘ (ایم ایم ایکس) خلائی جہاز منگل کی صبح جاپان کے تانیگاشیما خلائی مرکز سے ایچ تھری راکٹ کے ذریعے روانہ ہوا۔ مشن کا بنیادی ہدف مریخ کے بڑے چاند فوبوس کی سطح سے مٹی اور چٹانوں کے نمونے حاصل کرنا اور انہیں زمین پر واپس لانا ہے۔ سائنس دانوں کو امید ہے کہ ان نمونوں کے مطالعے سے یہ معلوم کرنے میں مدد ملے گی کہ فوبوس اور مریخ کا دوسرا چاند ڈیموس کیسے وجود میں آئے اور ان کی تشکیل میں مریخ کی اپنی تاریخ کا کیا کردار رہا۔ خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق جاکسا نے تصدیق کی ہے کہ راکٹ سے علیحدگی کے بعد خلائی جہاز اپنے مقررہ مدار میں داخل ہوگیا۔ مشن کے پروجیکٹ منیجر ماکوتو اریتا نے بتایا کہ خلائی جہاز نے غیر معمولی درستگی کے ساتھ اپنا مقررہ مدار حاصل کیا۔ تقریباً ۴۴۸۰؍ کلوگرام وزنی یہ خلائی جہاز اگست ۲۰۲۷ء میں مریخ کے قریب پہنچنے کی توقع ہے، جہاں وہ سرخ سیارے اور اس کے دونوں چاندوں کا مطالعہ کرے گا۔ منصوبے کے مطابق نمونے جمع کرنے کے بعد خلائی جہاز زمین کی جانب واپسی کا سفر اختیار کرے گا اور نمونوں کی واپسی جولائی ۲۰۳۱ء میں متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مراکش کی نئی وزیر اعظم نے دو ریاستی حل کو خارجہ پالیسی کا مرکز قرار دیا
اس مشن کی اہمیت اس لیے غیر معمولی ہے کہ اب تک کسی خلائی مشن نے مریخ کے کسی چاند کی سطح سے نمونے جمع کرکے زمین پر نہیں پہنچائے۔ مریخ پر متعدد روبوٹک مشن بھیجے جاچکے ہیں، لیکن اس کے چاندوں فوبوس اور ڈیموس کی اصل ساخت اور ان کی پیدائش کے بارے میں اب بھی کئی بنیادی سوالات موجود ہیں۔ فوبوس کی سطح سے حاصل ہونے والے نمونوں کو زمین کی جدید تجربہ گاہوں میں جانچا جاسکے گا، جہاں ان کی کیمیائی اور معدنیاتی ساخت کا تفصیلی تجزیہ ممکن ہوگا۔ فوبوس مریخ کے دونوں چاندوں میں بڑا ہے، لیکن اس کے باوجود اس کا حجم بہت چھوٹا ہے۔ اس کی پیمائش تقریباً ۲۷؍ بائی ۲۲؍ بائی ۱۸؍ کلومیٹر ہے اور یہ مریخ کی سطح سے لگ بھگ ۶؍ ہزار کلومیٹر کی بلندی پر گردش کرتا ہے۔ یہ چاند مریخ کے گرد تقریباً ایک دن میں تین چکر مکمل کرتا ہے۔ اس کی بے قاعدہ شکل اور سطحی ساخت اسے نظامِ شمسی کے ان اجسام میں شامل کرتی ہے جن کے بارے میں سائنس دان مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ تحقیق کا ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ فوبوس اور ڈیموس دراصل کہاں سے آئے۔ ایک نظریے کے مطابق یہ دونوں چاند ایسے سیارچوں کی باقیات ہوسکتے ہیں جنہیں مریخ کی کششِ ثقل نے اپنی جانب کھینچ کر مدار میں قید کرلیا تھا۔ دوسرے نظریے کے مطابق مریخ سے کسی بڑے جسم کے ٹکرانے کے نتیجے میں ملبہ خلا میں پھیلا اور اسی مواد سے یہ چاند تشکیل پائے۔ ان دونوں امکانات کے درمیان فرق سمجھنے کے لیے ان کی سطح پر موجود مواد کی کیمیائی ساخت اور معدنیاتی خصوصیات کا مطالعہ ضروری ہے۔ فوبوس سے حاصل ہونے والے نمونے اس بحث میں براہِ راست شواہد فراہم کرسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ سعودی عرب کو ہر ممکن مدد فراہم کریں گے‘‘
ایم ایم ایکس مشن میں ایک فرانسیسی جرمن روور بھی شامل ہے جس کا نام ’ایڈیفکس‘ رکھا گیا ہے۔ یہ روور فوبوس کی سطح پر اتر کر زمین کی ساخت، سطحی حالات اور نمونے جمع کرنے کے لیے موزوں مقامات کا جائزہ لے گا۔ اس کی حاصل کردہ معلومات جاپانی خلائی جہاز کو محفوظ انداز میں سطح کے قریب پہنچنے اور نمونے جمع کرنے کی کارروائی کی تیاری میں مدد دیں گی۔ فوبوس کی انتہائی کم کششِ ثقل کے باعث وہاں اترنا اور حرکت کرنا عام سیاروی مشنوں کے مقابلے میں مختلف تکنیکی تقاضے رکھتا ہے، اسی لیے اس مشن میں سطح کی جانچ اور لینڈنگ کی منصوبہ بندی کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔ منصوبے کے مطابق خلائی جہاز مریخ کے نظام میں پہنچنے کے بعد فوبوس کے گرد رہ کر اس کی تفصیلی مشاہداتی تحقیق کرے گا۔ اس مرحلے میں چاند کی سطح، ساخت اور دیگر خصوصیات کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس کے بعد روور کو سطح پر بھیجا جائے گا اور جاپانی خلائی جہاز دو مرتبہ سطح پر اتر کر نمونے جمع کرنے کی کارروائی انجام دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ہدف کم از کم ۱۰؍ گرام مواد زمین پر واپس لانا ہے۔ یہ مقدار بظاہر بہت کم ہے، لیکن جدید سائنسی آلات کی مدد سے اس میں موجود معدنیات اور کیمیائی اجزا کا تفصیلی مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: روس اور خلیجی ممالک کا آبی راستوں کی حفاظت یقینی بنانے پر زور
یہ مشن بین الاقوامی تعاون کی بھی ایک اہم مثال ہے۔ جاکسا اس کی قیادت کررہی ہے، جب کہ امریکی خلائی ادارہ ناسا، یورپی خلائی ایجنسی اور فرانس و جرمنی کے متعلقہ خلائی ادارے بھی اس میں شریک ہیں۔ مختلف ممالک کی جانب سے آلات، تکنیکی معاونت اور سائنسی مہارت فراہم کی گئی ہے۔ اس اشتراک کا مقصد مریخ کے نظام سے متعلق ایسے سوالات کی تحقیق کرنا ہے جن کے جواب حاصل کرنے کے لیے طویل مدتی مشاہدات اور زمین پر نمونوں کا تجزیہ دونوں ضروری ہیں۔ جاپان کے لیے یہ مشن اس کی سابقہ کامیاب سیارچہ نمونہ واپسی مہمات کے تجربے کو مزید آگے بڑھانے کا موقع بھی ہے۔ تاہم مریخ کے چاند سے نمونے حاصل کرنا ایک زیادہ پیچیدہ مرحلہ ہے، کیونکہ اس میں طویل خلائی سفر، کم کششِ ثقل والے جسم کے گرد مدار میں رہنا، سطح پر اترنا، نمونے جمع کرنا اور پھر انہیں زمین تک واپس لانا شامل ہے۔ مشن کی کامیابی مستقبل میں دوسرے سیاروں اور ان کے چاندوں سے نمونے حاصل کرنے کی ٹیکنالوجی کو بہتر بنانے میں بھی مدد دے سکتی ہے۔ محققین کے لیے فوبوس سے حاصل ہونے والا مواد صرف ایک چھوٹے چاند کی تاریخ جاننے کا ذریعہ نہیں ہوگا۔ اس کے مطالعے سے مریخ کی تشکیل، ابتدائی نظامِ شمسی میں ہونے والے تصادموں اور سیاروی اجسام کی ارتقائی تاریخ کے بارے میں بھی نئی معلومات مل سکتی ہیں۔ اگر نمونوں کی ساخت کسی ایک نظریے کی مضبوط تائید کرتی ہے تو اس سے مریخ کے چاندوں کی پیدائش سے متعلق طویل عرصے سے جاری بحث کو نئی سمت مل سکتی ہے۔ جاپانی مشن کی اصل سائنسی کامیابی اسی وقت سامنے آئے گی جب نمونے زمین پر پہنچیں گے اور دنیا بھر کے محققین ان کا تفصیلی تجزیہ کرسکیں گے۔