Updated: October 02, 2026, 9:02 PM IST
| Washington
وینس نے انتظامیہ کی جانب سے ایچ-ون بی پر عائد کردہ ایک لاکھ ڈالر کی فیس کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ ان کے، صدر ٹرمپ اور مشیر اسٹیفن ملر کے درمیان اس نتیجے پر پہنچنے کے بعد ہونے والی گفتگو کے بعد سامنے آیا کہ کانگریس اس پروگرام میں اصلاحات نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس فیس کا مقصد کمپنیوں کو محض تنخواہوں میں کٹوتی کیلئے ایچ-ون بی ویزوں کے استعمال سے باز رکھنا تھا۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایچ-ون بی (H-1B) ویزا پروگرام کو ”مکمل طور پر ناکارہ“ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اسے ختم کرنے کے فیصلے کی مکمل حمایت کریں گے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ امریکی کمپنیوں نے امریکی ورکرز کو سستے غیر ملکی لیبر سے تبدیل کرنے کیلئے اس پروگرام کا غلط فائدہ اٹھایا ہے۔ وینس نے جمعرات کے روز ’ریئل امریکہز وائس‘ کو دیئے گئے ایک لائیو اسٹریم انٹرویو میں کہا کہ ”میری رائے یہ ہے کہ ایچ-ون بی پروگرام مکمل طور پر ناکارہ ہو چکا ہے اور میں اسے مکمل طور پر ختم کرنے کی بھرپور حمایت کروں گا۔ لیکن جب تک یہ موجود ہے، ہمیں امریکی ورکرز کے تحفظ کو یقینی بنانا ہوگا۔“
یہ بھی پڑھئے: مادورو کی گرفتاری سے قبل ٹرمپ نے اے آئی چیٹ بوٹ ’گروک‘ سے مشورہ لیا: رپورٹ
وینس نے کہا کہ نہ صرف ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے بلکہ اکاؤنٹنگ فرمز اور دیگر اداروں کی طرف سے بھی اس پروگرام کا ”پورا پورا ناجائز فائدہ اٹھایا گیا ہے“ جو ”بنیادی طور پر امریکی ورکر کے ساتھ دھوکہ کر رہے ہیں۔“ انہوں نے واقعی باصلاحیت غیر ملکی پیشہ ور افراد کی خدمات حاصل کرنے اور لیبر کے اخراجات کم کرنے کیلئے ویزوں کے استعمال کے درمیان فرق واضح کرتے ہوئے ایک فرضی مثال پیش کی، جس میں ۶۰۰۰۰ ڈالر کے امریکی اکاؤنٹنٹ کو ۴۵۰۰۰ ڈالر کے غیر ملکی ملازم سے تبدیل کیا جاتا ہے: انہوں نے کہا کہ ”یہ کسی نابغہ روزگار کو لانے کیلئے پروگرام کا استعمال نہیں ہے۔ یہ امریکی ملازمتوں کو تباہ کرنا اور امریکی عوام کے ساتھ دھوکہ کرنا ہے۔“
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی ایران کو سخت دھمکی، مشرق وسطیٰ میں ۹؍ ہزار امریکی فوجی بھیجے
وینس نے انتظامیہ کی جانب سے ایچ-ون بی پر عائد کردہ ایک لاکھ ڈالر کی فیس کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ ان کے، صدر ٹرمپ اور مشیر اسٹیفن ملر کے درمیان اس نتیجے پر پہنچنے کے بعد ہونے والی گفتگو کے بعد سامنے آیا کہ کانگریس اس پروگرام میں اصلاحات نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس فیس کا مقصد کمپنیوں کو محض تنخواہوں میں کٹوتی کیلئے ایچ-ون بی ویزوں کے استعمال سے باز رکھنا تھا۔ ٹرمپ جونیئر نے ایکس پر یہ انٹرویو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ وہ اس سے متفق ہیں اور صرف ”کھلی سرحدوں کے حامی جو سستا لیبر چاہتے ہیں“ ہی اس سے اختلاف کریں گے۔
یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو کی انتخابی حمایت پر ٹرمپ کا واضح مؤقف سے گریز، اسرائیل کی حمایت برقرار
ایچ-ون بی ویزوں پر لگائی گئی فیس کو مسلسل قانونی چیلنجز کا سامنا ہے۔ یکم اکتوبر کو ایک وفاقی مجسٹریٹ نے اس پر روک لگا دی اور کہا کہ انتظامیہ نے قواعد سازی کے ضروری طریقہ کار پر عمل نہیں کیا۔ آکلینڈ میں ایک دوسرے جج، ہی ووڈ گیلیم نے بھی بدھ کو اس فیس پر روک لگائی اور کہا کہ یونینوں، آجروں اور غیر منافع بخش تنظیموں کے ایک اتحاد کی جانب سے مقدمہ دائر کئے جانے کے بعد یو ایس سی آئی ایس (USCIS) اور محکمہ خارجہ ضروری طریقہ کار پر عمل کرنے میں ناکام رہے۔ علیحدہ طور پر ۱۸ ستمبر کا ایک صدارتی حکم نامہ متعلقہ اداروں کو ہدایت دیتا ہے کہ وہ ایچ-ون بی کی درخواستوں کا جائزہ لیتے وقت امریکی کارکنوں کی حالیہ یا متوقع برطرفیوں کو مدنظر رکھیں۔
یہ بھی پڑھئے: فلائی دبئی طیارے کے ہائی جیکنگ خدشے پر نیتن یاہو پر انتخابی حربے کا الزام
ایچ-ون بی سے مستفید ہونے والوں میں ہندوستانی شہریوں کا ایک بڑا تناسب شامل ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اس پروگرام میں کسی بھی تبدیلی سے امریکی ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ کے شعبوں میں کام کرنے والے یا ملازمت کے خواہشمند بھارتی پیشہ ور افراد نمایاں طور پر متاثر ہو سکتے ہیں۔