Updated: July 06, 2026, 9:52 PM IST
| New Delhi
ساٹو نے نشان دہی کی کہ جے ای ای (JEE) میں قبولیت کی شرح ایک فیصد سے بھی کم ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا اسکور کسی آئی آئی ٹی (IIT) کیلئے کوالیفائی کرنے کے قریب بھی نہیں تھا۔ اس کے باوجود دنیا کی تین معتبر ترین یونیورسٹیاں انہیں داخلہ دینے کیلئے تیار تھیں۔ انہوں نے اس کی وجہ ہندوستانی اور امریکی اداروں کے ذریعے طلبہ کو جانچنے کے بنیادی فرق کو قرار دیا۔
فزکس کے طالب علم جسٹن ساٹو کی ایک لنکڈان (LinkedIn) پوسٹ وائرل ہوگئی ہے جس میں انہوں نے انکشاف کیا کہ ’جوائنٹ انٹرنس ایگزامینیشن‘ (JEE) میں ۳۶۰ میں سے صرف ۵۳ نمبر (تقریباً ۱۵ فیصد مارکس) حاصل کرنے کے باوجود انہیں کیلٹیک (Caltech)، پرنسٹن (Princeton) اور اسٹینفورڈ (Stanford) جیسی مایہ ناز یونیورسٹیوں میں داخلے کی پیشکش ہوئی تھی۔ اس پوسٹ نے ہندوستان کے صرف امتحانات پر مرکوز تعلیمی نظام کے مقابلے، دنیا کی معروف یونیورسٹیوں کے ہمہ جہت داخلہ طریقۂ کار پر ایک وسیع بحث چھیڑ دی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستانی ملازمین صرف ۲۵۰؍ روپے فی گھنٹہ کیلئے اپنا مستقبل امریکی کمپنیوں کو فروخت کررہے ہیں
ساٹو نے نشان دہی کی کہ جے ای ای (JEE) میں قبولیت کی شرح ایک فیصد سے بھی کم ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا اسکور کسی آئی آئی ٹی (IIT) کیلئے کوالیفائی کرنے کے قریب بھی نہیں تھا۔ اس کے باوجود دنیا کی تین معتبر ترین یونیورسٹیاں انہیں داخلہ دینے کیلئے تیار تھیں۔ انہوں نے اس کی وجہ ہندوستانی اور امریکی اداروں کے ذریعے طلبہ کو جانچنے کے بنیادی فرق کو قرار دیا۔ ساٹو کے مطابق، جے ای ای ایک ہی ہائی پریشر امتحان میں فزکس، کیمسٹری اور ریاضی کے گہرے علم کا امتحان لیتا ہے۔ اس کے برعکس، اسٹینفورڈ، کیلٹیک اور پرنسٹن جیسی یونیورسٹیاں تعلیمی کارکردگی کے ساتھ ساتھ ریسرچ ورک (تحقیقی کام)، ذاتی پروجیکٹس، رضاکارانہ خدمات (والینٹیئر کنٹری بیوشنز) اور وقت کے ساتھ مجموعی ترقی کو مدِنظر رکھتی ہیں۔
ساٹو نے اپنے پوسٹ میں مزید لکھا کہ ”ہندوستان میں ٹیکنیکل ٹیلنٹ غیر معمولی ہے۔“ انہوں نے اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا کہ ہندوستان میں پیدا ہونے والے افراد گوگل، مائیکروسافٹ، مائیکرون اور ماسٹر کارڈ سمیت دنیا کی چند نمایاں کمپنیوں کی قیادت کر رہے ہیں۔ انہوں نے دلیل دی کہ یہ ٹیلنٹ پول اس سے کہیں زیادہ بڑا ہے جسی کی شناخت کوئی ایک امتحان کر سکے۔ ریسرچ اور اسٹارٹ اپس میں نمایاں شراکت کی صلاحیت رکھنے والے بہت سے افراد صرف جے ای ای میں کم اسکور کی وجہ سے ریس سے باہر ہو جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: سروے کے مطابق زیادہ ہندوستانی پیشہ ور افراد امریکہ سے واپس آ رہے ہیں
ساٹو کی پوسٹ ایک وسیع تر تشویش کو اجاگر کرتی ہے کہ کسی طالب علم کی صلاحیت کو محض ایک مسابقتی امتحان کے نتیجے تک محدود کرنے کا ہندوستانی نظام شاید بڑے ٹیلنٹ کو نظر انداز کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ ساٹو نے کہا کہ وہ اب ہندوستان منتقل ہو رہے ہیں اور انٹرنز (interns) کو ملازمت پر رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اسی ٹیلنٹ پول میں براہِ راست مواقع دیکھ رہے ہیں جسے نظام اکثر پہچاننے میں ناکام رہا ہے۔ ساٹو کی کہانی کو بڑے پیمانے پر پزیرائی مل رہی ہے جو اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ صرف نمبر ہی کسی طالب علم کی صلاحیت یا مستقبل کا فیصلہ نہیں کرتے۔