Updated: April 06, 2026, 9:58 PM IST
| Jerusalem
یروشلم کے حکام نے ان واقعات کو ”خطرناک اشتعال انگیزی“ قرار دیا۔ گورنریٹ نے مزید دعویٰ کیا کہ منظم گروپ آن لائن مہمات کے ذریعے ان اقدامات کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں اور حامیوں کو متحرک کرنے کیلئے ویڈیوز اور اے آئی سے تیار کردہ مواد کا استعمال بھی کیا جارہا ہے۔
یروشلم گورنریٹ نے اطلاع دی ہے کہ اس سال یہودیوں کے تہوار ’عیدِ فسح‘ کے دوران ۷؍ مرتبہ مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں قربانی کے جانور لانے کی کوشش کی گئی۔ یہ ۱۹۶۷ء کے بعد سے اب تک ریکارڈ کی گئی ایسی کارروائیوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
اتوار کو جاری کردہ بیان میں گورنریٹ نے بتایا کہ کم از کم دو معاملات میں، یہودی، مسجد کے احاطے کے اندر مذہبی رسومات ادا کرنے کے مقصد سے جانوروں کے ساتھ یروشلم کے قدیم شہر کے قریبی علاقوں تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔ یہ مقام، جسے بعض لوگ ’ٹیمپل ماؤنٹ‘ بھی کہتے ہیں، دیرینہ مذہبی اور سیاسی تناؤ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غیرقانونی آبادکاروں کا مغربی کنارے میں حملہ، ۱۰؍فلسطینی زخمی، کئی گھر نذر آتش
یروشلم کے حکام نے ان واقعات کو ”خطرناک اشتعال انگیزی“ قرار دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس طرح کے اقدامات احاطے کے اندر نئے حقائق مسلط کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ گورنریٹ نے مزید دعویٰ کیا کہ منظم گروپ آن لائن مہمات کے ذریعے ان اقدامات کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں، جن میں حامیوں کو متحرک کرنے کیلئے ویڈیوز اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ مواد کا استعمال بھی کیا جارہا ہے۔
بیان میں مقدس مقام پر عائد کردہ پابندیوں کو بھی اجاگر کیا گیا۔ اسرائیلی حکام نے سیکوریٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے اسلام کے تیسرے مقدس ترین مقام، مسجدِ اقصیٰ کو گزشتہ ۳۷ دنوں سے مسلسل بند رکھا ہوا ہے۔ فلسطینی حکام نے الزام لگایا کہ اس بندش کو احاطے پر کنٹرول سخت کرنے اور مسلمان نمازیوں کی رسائی کو محدود کرنے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔
گورنریٹ کے مطابق، ۱۹۶۷ء کے بعد نویں بار ایسا ہوا ہے کہ مسجد کو جمعہ کے دن بند کیا گیا ہو۔ مسجد کے صحن نمازیوں سے خالی تھے اور وہاں صرف اسلامی وقف کے عملے کی محدود تعداد موجود تھی۔ مسجد میں گزشتہ پانچ ہفتوں سے جمعہ کی نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ کے مستقبل پر مصر میں حماس کے وفد کی میٹنگ
پابندیوں کا دائرہ کار مسجدِ اقصیٰ سے باہر بھی پھیل چکا ہے۔ اسرائیلی پولیس نے کہا ہے کہ وہ ’چرچ آف دی ہولی سیپلکر‘ میں نماز کیلئے صرف محدود رسائی کی اجازت دیں گے، یہ فیصلہ کئی یورپی ممالک کی جانب سے پام سنڈے کی تقریبات میں مسیحی لیڈران کی شرکت پر عائد پابندیوں پر تنقید کے بعد سامنے آیا ہے۔
گورنریٹ نے مسجد اقصیٰ میں قربانی کے جانوروں کو لانے کے مزید واقعات کو روکنے، مسجد کو دوبارہ کھولنے اور یروشلم میں مقدس مقامات کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے فلسطینی حکومت، عرب ممالک اور بین الاقوامی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔