Inquilab Logo Happiest Places to Work

پوپ لیو کا انتباہ: خدا جنگ کرنے والوں کی دعا نہیں سنتا

Updated: March 30, 2026, 10:10 PM IST | Vatican City

پوپ لیو نے پام سنڈے کے موقع پر مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ پر سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ خدا ’’جنگ کرنے والوں کی دعا نہیں سنتا۔‘‘ انہوں نے جنگ سے متاثرہ لاکھوں افراد، خاص طور پر بے گھر ہونے والوں، کو خراج پیش کیا اور فوری جنگ بندی کی اپیل دہرائی۔ پوپ نے کہا کہ جاری تنازع کے باعث کئی لوگ مقدس مذہبی رسومات بھی ادا نہیں کر پا رہے۔

Pope Leo. Photo: INN
پوپ لیو۔ تصویر: آائی این این

ویٹیکن میں پام سنڈے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے پوپ لیو نے مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور جنگ کے خلاف ایک مضبوط اخلاقی موقف اپنایا۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ ہمارا خدا ہے… ایک ایسا خدا جو جنگ سے انکار کرتا ہے… جو جنگ کرنے والوں کی دعا نہیں سنتا۔‘‘ پوپ کے یہ الفاظ ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں متعدد محاذوں پر کشیدگی برقرار ہے اور انسانی بحران شدت اختیار کر رہا ہے۔

جنگ سے متاثرین کو خراج
اپنی تقریر کے بعد اینجلس دعا کے موقع پر پوپ نے خاص طور پر ان لوگوں کو یاد کیا جو جنگ کے اثرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم ان تمام لوگوں کو یاد کرتے ہیں جو ایک خوفناک تنازعہ کے نتائج بھگت رہے ہیں اور بہت سے معاملات میں ان مقدس ایام کی رسومات کو پوری طرح سے نہیں گزار سکتے۔‘‘ یہ بیان اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جاری لڑائی نے نہ صرف انسانی جانوں کو متاثر کیا ہے بلکہ مذہبی اور سماجی زندگی کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: یروشلم چرچ رسائی تنازع: عالمی دباؤ پر اسرائیل کا یوٹرن

جنگ بندی کی اپیل اور انسانی بحران
اس سے قبل بھی پوپ لیونے مشرق وسطیٰ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا، اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ ایک ملین سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ انہوں نے متحارب فریقوں پر زور دیا کہ وہ جنگ کو مزید طول دینے کے بجائے مذاکرات کی میز پر واپس آئیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو ہو رہا ہے، خاص طور پر وہ لوگ جو اپنے گھروں سے محروم ہو چکے ہیں اور بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔

مکالمہ ہی واحد راستہ: پوپ کا مؤقف
پوپ نے ایک بار پھر واضح کیا کہ جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے اور مکالمہ ہی واحد راستہ ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ امن کے قیام کے لیے مشترکہ کوششیں کرے اور تنازعات کو سفارتی ذرائع سے حل کرے۔ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ پوپ نے اپنے حالیہ بیانات میں کسی ایک ملک یا فریق کا نام لینے سے گریز کیا ہے، خاص طور پر اس تناظر میں جب ۲۸؍ فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا۔

یہ بھی پڑھئے: اٹلی: ۱۲؍ ٹن کٹ کیٹ چاکلیٹ چوری، ۴؍ لاکھ سے زائد چاکلیٹ کا کوئی سراغ نہیں

محتاط سفارتی زبان، مضبوط اخلاقی پیغام
اگرچہ پوپ نے براہ راست کسی فریق کو تنقید کا نشانہ نہیں بنایا، تاہم ان کا پیغام واضح طور پر جنگ کے خلاف تھا۔ مبصرین کے مطابق، یہ ایک محتاط سفارتی حکمت عملی ہے جس کے ذریعے وہ تمام فریقین کو مخاطب کرتے ہوئے امن کا پیغام دینا چاہتے ہیں۔ ان کے بیانات میں مذہبی اور اخلاقی پہلو نمایاں ہے، جس میں وہ جنگ کو نہ صرف سیاسی بلکہ انسانی اور روحانی بحران کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

وسیع تناظر: مذہب، جنگ اور عالمی ردعمل
پوپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں مذہبی رہنما اور عالمی ادارے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ جنگ کے باعث نہ صرف انسانی جانوں کا ضیاع ہو رہا ہے بلکہ مذہبی مقامات اور رسومات بھی متاثر ہو رہی ہیں، جو عالمی سطح پر تشویش کا باعث بن رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ایران کا جوہری عدم پھیلائومعاہدے سے علاحدگی پر غور

امن کی فوری ضرورت
پوپ لیو کے الفاظ ایک واضح پیغام دیتے ہیں کہ جنگ کے ذریعے امن حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا زور اس بات پر ہے کہ عالمی برادری کو فوری طور پر جنگ بندی اور مذاکرات کی طرف بڑھنا چاہیے تاکہ مزید انسانی نقصان کو روکا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK