• Thu, 15 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران مظاہرین کی حمایت، غزہ پر خاموشی: جے کے رولنگ پھر شدید تنقید کی زد میں

Updated: January 15, 2026, 10:12 PM IST | London

متنازع برطانوی مصنفہ جے کے رولنگ نے ایران میں حکومت مخالف مظاہرین کی حمایت کا اظہار کیا، جس کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے اسرائیل کے محصور غزہ میں فلسطینیوں پر جاری جنگ اور ہلاکتوں پر ان کی خاموشی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

J.K. rowling. Photo: INN
جے کے رولنگ۔ تصویر: آئی این این

معروف مگر متنازع برطانوی مصنفہ جے کے رولنگ ایک بار پھر عالمی سطح پر تنقید کی زد میں آ گئی ہیں۔ گزشتہ ہفتے انہوں نے ایکس پر ایک پوسٹ کے ذریعے ایران میں حکومت مخالف مظاہرین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔ تاہم اس پوسٹ کے فوراً بعد صارفین نے اسرائیل کے محصور غزہ میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں اور تباہی پر ان کی مسلسل خاموشی کو اجاگر کرتے ہوئے شدید ردِعمل ظاہر کیا۔ رولنگ نے اپنے پوسٹ میں ان افراد کو تنقید کا نشانہ بنایا جو ایران میں آزادی کے لیے آواز اٹھانے والوں کے حق میں سامنے نہیں آتے۔ انہوں نے لکھا کہ ’’اگر کوئی انسانی حقوق کی حمایت کا دعویٰ کرتا ہے لیکن ایران میں آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی نہیں کر سکتا، تو اس کا مطلب ہے کہ اسے صرف اسی وقت اعتراض ہوتا ہے جب ظلم اس کے مخالفین کی جانب سے ہو۔‘‘ اس پوسٹ کے ساتھ ایک اے آئی سے تیار کردہ تصویر بھی شامل تھی، جس میں ایک خاتون کو سگریٹ جلاتے ہوئے دکھایا گیا تھا اور پس منظر میں ایک ایرانی لیڈر کی جلتی ہوئی تصویر موجود تھی۔ بعد ازاں یہ بات سامنے آئی کہ خاتون کی تصویر ایران میں نہیں بلکہ کنیڈا میں لی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: ایران کی جانب سے امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کیلئے جوابی کارروائی کا منصوبہ تیار

سوشل میڈیا صارفین نے فوری ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ’’یہی آواز اس وقت کہاں تھی جب غزہ میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں اسپتال تباہ ہو رہے تھے، بچے ملبے تلے دب رہے تھے اور لاکھوں افراد محاصرے اور فاقہ کشی کا شکار تھے۔‘‘ متعدد صارفین نے یاد دلایا کہ رولنگ نے غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف جاری کارروائیوں اور مبینہ نسل کشی پر کبھی کھل کر موقف اختیار نہیں کیا۔

یہ بھی پڑھئے: ایسی جنگ بندی بے معنی ہے جس میں بچوں کی ہلاکتیں جاری ہیں: یونیسف

واضح رہے کہ ایران میں دسمبر کے آخر سے مظاہرے جاری ہیں، جن کی بنیادی وجہ ایرانی ریال کی قدر میں شدید کمی اور خراب معاشی حالات بتائے جا رہے ہیں۔ یہ مظاہرے ۲۸؍ دسمبر کو تہران کے گرینڈ بازار کے قریب شروع ہوئے اور بعد ازاں دیگر شہروں تک پھیل گئے۔ ایرانی حکام نے ان احتجاجات کے پیچھے امریکہ اور اسرائیل پر بدامنی کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا ہے اور سیکوریٹی فورسیز نے سخت کارروائی کی وارننگ دی ہے۔ اس دوران موساد کی جانب سے فارسی زبان میں ایک غیر معمولی پیغام بھی سامنے آیا، جس میں مظاہرین کے ساتھ کھڑے ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: تھائی لینڈ میں چلتی ٹرین پر کرین گر گیا، ۲۹؍افراد ہلاک ، ۶۴؍ سے زائد افرادزخمی

ناقدین کا کہنا ہے کہ رولنگ کو جس ردِعمل کا سامنا ہے وہ ایرانی عوام کی جدوجہد کی مخالفت نہیں بلکہ ان کے اخلاقی مؤقف کی ساکھ پر سوال ہے۔ ان پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ انسانی حقوق اور نسوانیت کی بات صرف اس وقت کرتی ہیں جب متاثرین مغربی بیانیے کے مطابق ہوں، جبکہ فلسطینی خواتین اور بچوں کی ہلاکتوں پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔ مبصرین نے اس رویے کو ’’انتخابی نسوانیت‘‘ اور بعض نے ’’امپیریل فیمنزم‘‘ قرار دیا ہے۔ سیاسی اور سماجی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تنازع دراصل اخلاقی مستقل مزاجی کا امتحان بن چکا ہے، جہاں عوام اب عالمی شخصیات سے ہر انسانی المیے پر یکساں اور غیر جانبدار مؤقف کی توقع کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK