دونوں ممالک نےمل کر ایران نواز گروہوں کے ٹھکانوں کونشانہ بنایا ، اس دوران عراق کےحشد الشعبی کے۲۰؍ جنگجو ہلاک ہوگئے۔
EPAPER
Updated: July 30, 2026, 10:40 AM IST | Washington
دونوں ممالک نےمل کر ایران نواز گروہوں کے ٹھکانوں کونشانہ بنایا ، اس دوران عراق کےحشد الشعبی کے۲۰؍ جنگجو ہلاک ہوگئے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام)نے ایران نواز گروہوں پر حملے کی تصدیق کی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سینٹ کام کا کہنا ہے کہ اس نے سعودی عرب کی افواج کے ساتھ مل کر عراق میں ایران نواز گروہوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔سینٹ کام کا دعویٰ ہے کہ ان ایران نواز گروہوں نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی ہدایات پر امریکی افواج اور سعودی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا تھا۔
سینٹ کام نے کہا ہے کہ امریکی اور سعودی لڑاکا طیاروں نے گزشتہ۷۲؍ گھنٹوں کے دوران مشرقی عراق میں دہشت گردوں کے متعدد لاجسٹک اور اسلحہ ذخائر کو نشانہ بنایا ہے، یہ کارروائی پاسدارانِ انقلاب کی ہدایت پر کئے گئے۳۰؍ سے زائد فضائی ڈرون حملوں کے جواب میں کی گئی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے کئے گئے حملے بلاجواز تھے جو اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے۔
سینٹ کام کے مطابق فروری سے اپریل کے درمیان عراق میں ایران نواز مسلح گروہوں نے امریکی شہریوں اور تنصیبات پر ۶۰۰؍ سے زائد حملوں کی کوشش کی۔بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب اور اس کے پراکسی گروہوں کو یہ حملے بند کرنے ہوں گے، بصورتِ دیگر امریکہ مزید فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔ ادھر سعودی عرب نے بھی عراق میں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیاؤں پر حملوں کی تصدیق کی۔
سعودی عرب کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ یہ کارروائی حالیہ ڈرون حملوں کے جواب میں امریکی سینٹرل کمانڈ کے ساتھ مل کر کی گئی۔وزارت کے مطابق جوابی کارروائی بین الاقوامی قانون کے تحت حاصل حق دفاع کی بنیاد پر کی گئی۔
سعودی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ سعودی عرب مزید کشیدگی نہیں چاہتا لیکن اگر مستقبل میں اس پر مزید حملے کئے گئے تو وہ اپنی خود مختاری، شہریوں اور قومی اثاثوں کے تحفظ کے لئے تمام ضروری اقدامات کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔
عراق کے نیم فوجی گروپ’ حشد الشعبی ‘ نے تصدیق کی ہے کہ ملک بھر میں ان کے ہیڈ کوارٹرز کو نشانہ بنایا گیا۔ حشد الشعبی مختلف مسلح گروہوں پر مشتمل ایک اتحاد ہے جن میں سے متعدد گروہ ایران سے وابستہ سمجھے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ انتظامیہ: پناہ کے متلاشیوں کو براہ راست ڈیپورٹیشن کورٹ میں بھیجا جا سکتا ہے
حشد الشعبی کے عہدیدار کے مطابق امریکی سعودی حملوں میں سب سے بڑا حملہ شمالی صوبے نینوا میں ہوا، جنوبی عراقی صوبے بصریٰ میں بھی اس کے ہیڈ کوارٹرز کو نشانہ بنایا گیا۔حشد الشعبی کے ذرائع کے مطابق عراق کے۷؍صوبوں میں امریکی اور سعودی مشترکہ فضائی حملوں میں۲۰؍ اہلکار مارے گئے جبکہ ان حملوں میں۳۰؍ سے زائد جنگجو زخمی بھی ہوئے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں تیل تنصیبات پر ڈرون حملہ ناکام بنا دیا گیا تھا۔ عراق سے داغے گئے متعدد ڈرونز کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کردیا گیا تھا۔ادھر ایرانی میڈیا کے مطابق سعودی عرب پر دیگر ممالک سے کئے جانے والے حملوں سے ایران کا کوئی تعلق نہیں ہے۔