Inquilab Logo Happiest Places to Work

جہیز ’رسم‘ نہیں، غریب والدین کے لئے بوجھ ہے

Updated: August 27, 2026, 3:39 PM IST | Sheikh Naila Rehan Muminati | Mumbai

معاشرہ میں دکھاوے اور مقابلے کی ایسی دوڑ لگی ہوئی ہے کہ لوگ اپنی حیثیت سے بڑھ کر شادی میں خرچ کرنے پر مجبور ہیں۔ کوئی قرض لیتا ہے، کوئی زیور بیچتا ہے اور کوئی اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی صرف ایک دن کی نمائش پر لٹا دیتا ہے۔ مہندی کی لالی تو چند دنوں میں اتر جاتی ہے مگر جہیز کے قرض کا بوجھ برسوں تک پریشانی کا باعث بنا رہتا ہے۔

A marriage is truly blessed when it is marked by simplicity, love, and ease; it is through such unions that a civilized society can be built. Picture: INN
وہی نکاح بابرکت ہے جو سادگی، محبت اور آسانی کے ساتھ ہو اور اسی سے مہذب معاشرہ تشکیل پاسکتا ہے۔ تصویر: آئی این این

انسانی معاشرہ جب رسم و رواج کی زنجیروں میں جکڑ جاتا ہے تو بہت سی ایسی برائیاں جنم لیتی ہیں جو رفتہ رفتہ ناسور بن جاتی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں جہیز بھی ایک ایسی ہی لعنت اور تباہ کن رسم ہے جس نے بے شمار خاندانوں کی خوشیوں کو غم میں بدل دیا ہے۔ بظاہر یہ ایک ’رسم‘ نظر آتی ہے، مگر حقیقت میں یہ غریب والدین کیلئے ایک ایسا بوجھ ہے جو ان کی کمر توڑ دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مسائل کا حل اور اس کے ساتھ جینے کا فن!

جہیز اسلامی تعلیمات کا حصہ نہیں بلکہ دوسری قوموں کی نقالی کا نتیجہ ہے۔ غیر مسلم معاشروں میں چونکہ لڑکیوں کو جائیداد میں حصہ نہیں دیا جاتا تھا، اس لئے ’’دان دہیج‘‘ کے نام پر کچھ سامان دے کر اپنی ذمہ داری پوری کی جاتی تھی۔ اسلام نے اس تصور کو قبول نہیں کیا بلکہ عورت کو عزت، وراثت میں حق اور معاشی تحفظ عطا کیا۔ اسلام نے شادی کو آسان بنایا اور مرد کو خاندان کی کفالت کا ذمہ دار قرار دیا۔ افسوس کہ آج مسلمان معاشرہ بھی اسی غیر اسلامی رسم کا شکار ہوچکا ہے۔ ’جہیزِ فاطمی‘ کا نام لے کر اس رسم کو جواز دینے کی کوشش کی جاتی ہے، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ حضرت علیؓ حضور اکرمؐ کے چچا زاد بھائی تھے اور آپؐ کی کفالت و سرپرستی میں رہے تھے، اسلئے آپؐ نے ان کی زرہ فروخت کروا کر مہر اور گھریلو ضرورت کا انتظام فرمایا۔ یہ آج کے رائج معنوں میں جہیز نہیں تھا بلکہ ایک سرپرست کی جانب سے نکاح میں تعاون اور آسانی پیدا کرنے کی ایک مثال تھی۔

اسلامی تعلیمات کا تقاضا یہ ہے کہ شوہر اپنی بیوی کی ضروریات اور گھر کی ذمہ داری خود اٹھائے۔ آج بھی عرب معاشروں میں عمومی طور پر لڑکی والوں پر جہیز کا بوجھ نہیں ڈالا جاتا بلکہ لڑکا خود شادی اور گھر کے انتظامات کرتا ہے۔ یہی غیرت، خود داری اور اسلامی مزاج کی علامت ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جینے کیلئے کھا نا ہے یا کھانے کیلئے جینا ہے؟

اسلام میں شادی کے موقع پر لڑکے کی طرف سے لڑکی کو حق مہر (دینے کا پابند بنایا گیا ہے)۔ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’اور عورتوں کو ان کے مہر خوشدلی کے ساتھ ادا کرو۔‘‘ (سورۃ النساء، آیت۴) رسولؐ اللہ نے نکاح کو انتہائی آسان بنانے کی تلقین فرمائی ہے تاکہ معاشرے میں پاکدامنی عام ہو اور شادیاں مشکل نہ ہوں۔ آپؐ کا ارشادِ مبارک ہے: ’’سب سے بہتر نکاح وہ ہے جو سب سے زیادہ آسان ہو۔‘‘ (مشکوٰۃ المصابیح)

اسکے برعکس، جہیز کا مطالبہ یا لڑکی والوں پر مالی بوجھ ڈالنا قرآن کی تعلیمات کی صریح خلاف ورزی ہے۔ قرآن میں ظلم، ناانصافی اور دوسروں کا مال ناحق کھانے سے سختی سے منع کیا گیا ہے لیکن ہمارے یہاں صورتحال نہایت افسوسناک ہوچکی ہے۔ جہیز کی وجہ سے غریب والدین اپنی بیٹیوں کے نکاح کیلئے پریشان رہتے ہیں۔ کتنی ہی بچیاں صرف اس لئے گھروں میں بیٹھی رہ جاتی ہیں کہ ان کے والدین جہیز فراہم نہیں کرسکتے۔ معاشرہ میں دکھاوے اور مقابلے کی ایسی دوڑ لگی ہوئی ہے کہ لوگ اپنی حیثیت سے بڑھ کر خرچ کرنے پر مجبور ہیں۔ کوئی قرض لیتا ہے، کوئی زیور بیچتا ہے اور کوئی اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی صرف ایک دن کی نمائش پر لٹا دیتا ہے۔ مہندی کی لالی تو چند دنوں میں اتر جاتی ہے مگر جہیز کے قرض کا بوجھ برسوں تک پریشانی کا باعث بنا رہتا ہے۔ یہ المیہ صرف معاشی نہیں بلکہ اخلاقی بھی ہے۔ جب شادی جیسے مقدس رشتے کو دولت اور سامان سے جوڑ دیا جائے تو محبت، اخلاص اور سادگی کی روح ختم ہوجاتی ہے۔ بعض اوقات جہیز کی کمی کو بنیاد بنا کر لڑکیوں کو طعنے دیئے جاتے ہیں، ان پر ظلم کیا جاتا ہے اور کئی گھرانے برباد ہوجاتے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف غیر اسلامی ہے بلکہ انسانیت کے بھی خلاف ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اے سی سے ڈرائی آئیز کا خطرہ: اِن باتوں کا دھیان رکھیں

اب سوال یہ ہے کہ اس ناسور کے خاتمے کیلئے ہمارا کردار کیا ہونا چاہئے؟ سب سے پہلی ذمہ داری علماء اور دانشوروں کے ساتھ ساتھ خواتین کی بھی ہے کہ وہ اس برائی کیخلاف مسلسل آواز بلند کریں۔ مسجدوں کے منبروں، تعلیمی اداروں، مضامین اور تقاریر کے ذریعے لوگوں میں شعور پیدا کیا جائے کہ جہیز باعث ِ عزت نہیں بلکہ باعث ِ ذلت ہے۔ وہی نکاح بابرکت ہے جو سادگی، محبت اور آسانی کیساتھ ہو۔ جس معاشرہ میں بیٹی رحمت سمجھی جائے اور نکاح تجارت نہ بنے، وہی معاشرہ حقیقی معنوں میں اسلامی اور مہذب کہلانے کا حقدار ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب اجتماعی طور پر اس لعنت کے خلاف کھڑے ہوں۔ اپنے گھروں سے اس رسم کا خاتمہ کریں، سادہ نکاح کو فروغ دیں اور اپنے عمل سے یہ ثابت کریں کہ عزت انسان کے کردار میں ہوتی ہے، جہیز کے سامان میں نہیں۔ جب معاشرہ اپنی سوچ بدلے گا تبھی بیٹیوں کے چہروں پر حقیقی خوشیوں کی روشنی لوٹے گی اور نکاح آسان ہوگا، بوجھ نہیں۔ اللہ اس پر عمل کرنے کی تو فیق عطا فرمائے (آمین)۔

(مضمون نگار مدرسہ اسلامیہ دار ارقم، بارہ بنکی، یوپی سے وابستہ ہیں )

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK