کلیان مشرق کے متعدد علاقوں میں گزشتہ کئی مہینوں سے جاری پانی کی شدید قلت نےشہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ حالات اس قدر خراب ہو چکے ہیں کہ کئی گھروں میں روزمرہ ضروریات کے لئے بھی پانی دستیاب نہیں جس کے باعث چھوٹے بچے نہائے بغیر اسکول جارہے ہیں۔
پانی کی شدید قلت کے خلاف شہریوں نے’ڈی‘ وارڈ کے باہر زبردست دھرنادیا- تصویر:آئی این این
کلیان مشرق کے متعدد علاقوں میں گزشتہ کئی مہینوں سے جاری پانی کی شدید قلت نےشہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ حالات اس قدر خراب ہو چکے ہیں کہ کئی گھروں میں روزمرہ ضروریات کے لئے بھی پانی دستیاب نہیں جس کے باعث چھوٹے بچے نہائے بغیر اسکول جارہے ہیں۔اسی سنگین صورتحال کے خلاف سیکڑوں خواتین سڑکوں پر نکل آئیں اور کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن( کے ڈی ایم سی) کے ڈی) وارڈ آفس کے باہر زبردست احتجاجی دھرنا دیا۔
تفصیلات کے مطابق کلیان مشرق کے کھڈے گولولی، کیلاش نگر اور آشیڑے پاڑہ جیسے علاقوں میں پانی کی سپلائی گزشتہ کئی مہینوں سے بے قاعدہ ہو گئی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ کئی دنوں تک نلوں میں پانی نہیں آتا جس کے باعث انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اسی مسئلے کیخلاف بی جے پی اور شیو سینا (شندے) کے کارپوریٹروں نے پیر کے روز میونسپل انتظامیہ کے خلاف ایک احتجاجی مورچہ نکالا جو کے ڈی ایم سی کےڈی وارڈ افس پہنچا۔
مظاہرین نے محکمہ آب کے ڈپٹی انجینئر راجیش گوئل کے دفتر میں داخل ہو کر ان کا گھیراؤ کر لیا۔ اس دوران سیکڑوں خواتین تقریباً ۲؍ گھنٹے تک دفتر کے باہر ڈٹی رہیں اور میونسپل انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ مشتعل خواتین نے افسران سے سخت لہجے میں جواب طلبی کرتے ہوئے کہا کہ اگر پانی فراہم نہیں کیا جا سکتا تو ہمارا زندہ رہنے کا کیا فائدہ۔ احتجاج کے دوران بعض خواتین نے غصے میں یہ تک کہہ دیا کہ اگر پانی نہیں مل رہا تو ہمیں مار ڈالو۔ میونسپلٹی کی ٹنکی میں زہر ڈال دو تاکہ ہمارا مسئلہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے۔
بعد ازاں ڈپٹی انجینئر راجیش گوئل نے مظاہرین کو پانی کی قلت کی تکنیکی وجوہات سے آگاہ کرنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق باروے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ سےمناسب مقدار میں پانی فراہم نہیں ہو پا رہا ہے۔ اس کے علاوہ بار بار بجلی کی سپلائی منقطع ہونے سے پمپنگ کا عمل متاثر ہو رہا ہے جبکہ شدید گرمی کے باعث الہاس ندی میں پانی کی سطح بھی کم ہو گئی ہے۔ مزید یہ کہ ندی کے پانی میں کچرا آنے کے سبب اس کی صفائی اور پیوریفیکیشن کے عمل میں زیادہ وقت لگ رہا ہے۔