Inquilab Logo Happiest Places to Work

کلیان: معذور طلبہ کے مقابلوں کا انعقاد گرمی میں کروانے پر اساتذہ و سرپرست برہم

Updated: March 27, 2026, 9:57 AM IST | Ejaz Abdul Gani | Mumbai

ضلع تھانے کے محکمہ برائے بااختیار معذور کی مبینہ لاپروائی اور غیر دانشمندانہ فیصلے نے سینکڑوں معذور طلبہ کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا۔ دسمبر کے خوشگوار موسم میں منعقد ہونے والے کھیلوں کے سالانہ مقابلے مارچ کی چلچلاتی دھوپ میں منعقد کرانے پر اساتذہ اور سرپرستوں نے انتظامیہ کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔

Disorganization was also seen in the matter of food for the students and their accompanying guardians. Photo: INN
طلبہ اور ان کے ساتھ آنیوالے سرپرستوںکیلئےطعام کے معاملے میں بھی بدنظمی دیکھی گئی۔ تصویر: آئی این این

ضلع تھانے کے محکمہ برائے بااختیار معذور کی مبینہ لاپروائی اور غیر دانشمندانہ فیصلے نے سینکڑوں معذور طلبہ کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا۔ دسمبر کے خوشگوار موسم میں منعقد ہونے والے کھیلوں کے سالانہ مقابلے مارچ کی چلچلاتی دھوپ میں منعقد کرانے پر اساتذہ اور سرپرستوں نے انتظامیہ کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔ سبھاش میدان میں بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی اور بدنظمی کے باعث کئی بچوں کی طبیعت بگڑنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: گیس سلنڈر کی شدید قلت سے مدارس کے ذمہ دارانفکرمند

تفصیلات کے مطابق محکمہ برائے معذور کی جانب سے کلیان(مغرب) کے سبھاش میدان میں خصوصی بچوں کے لیے کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد کیا گیا تھا۔ روایت کے مطابق یہ پروگرام ہر سال ۳؍ دسمبر کو عالمی یومِ معذور کے موقع پر منعقد کیا جاتا ہے ۔ تاہم اس بار انتظامیہ نے ان مقابلوں کو مارچ کے آخری ہفتے تک مؤخر کر دیا جب درجہ حرارت اپنے عروج پر ہے۔میدان میں موجود عینی شاہدین کے مطابق تپتی ہوئی زمین اور چلچلاتی دھوپ کے باوجود معذور بچوں کے لیے بیٹھنے کے لیے نہ تو کوئی شیڈ موجود تھا اور نہ ہی پینے کے ٹھنڈے پانی کا کوئی معقول انتظام۔ حد تو یہ ہے کہ سارا دن میدان میں گزارنے والے ان بچوں کے لیے کھانے کا بہتر بندوبست کیا گیا اور نہ ہی رفع حاجت کے لیے بیت الخلا کی سہولت میسر تھی۔ اس موقع پر موجود اسپورٹس کوچ کانتی لال پردیشی نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں گزشتہ ۲۰ برسوں سے معذور بچوں کی تربیت کر رہا ہوں۔ یہ پہلی بار ہے کہ اتنے حساس بچوں کو اس تپتی دھوپ میں لایا گیا ہے۔ یہ میدان ان بچوں کے لیے کسی بھی لحاظ سے محفوظ نہیں ہے۔یہاں نہ کوئی ذمہ دار افسر موجود ہے اور نہ ہی انسانی ہمدردی کا کوئی پہلو نظر آ رہا ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK