• Fri, 09 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کارنجہ: ثاقب شیخ اورشیام ساوئی کی حاضردماغی اور مستعدی سے بڑا حادثہ ٹل گیا

Updated: October 09, 2026, 12:20 PM IST | Agency | Washim

سب ڈسٹرکٹ اسپتال کے پاس ڈی پی باکس میں آگ بھڑک اٹھی تھی جس پر فوراً قابو پالیا گیا۔

Mahawatan Lineman Saqib Sheikh. Photo: INN.
مہاوتن کے لائن مین ثاقب شیخ۔ تصویر: آئی این این

کارنجہ میں گزشتہ روز سب ڈسٹرکٹ اسپتال کے پاس ایک بڑا حادثہ ٹل گیا۔ اسپتال سے بالکل لگ کر ڈی پی میں آگ بھڑک اٹھی۔ اس دوران لائن مین ثاقب شیخ اور سماجی کارکن شیام ساوئی نے حاضر دماغی اور مستعدی کا ثبوت دیتے ہوئے حالات پر قابو پالیا۔ ’آواز دی وائس ‘ کی رپورٹ کے مطابق واشم ضلع کے کارنجا لاڈ کے سب ڈسٹرکٹ اسپتال کے بالکل قریب نصب بجلی کے ڈی پی باکس میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ اچانک ہی دھوئیں کے گہرے بادل اٹھے، بھڑکتی آگ اور اس سے محض چند قدم کے فاصلے پر سیکڑوں بیمار مریض۔ صورتحال ایسی تھی کہ چند لمحوں کی تاخیر بھی بڑے سانحے کا سبب بن سکتی تھی۔واقعے کے بعد پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ آگ شدت اختیار کر رہی تھی اور اس بات کا خدشہ بڑھ رہا تھا کہ بجلی کے ڈی پی میں زبردست دھماکہ ہوسکتا ہے جس سے اسپتال میں داخل سیکڑوں مریضوں کی جان خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مالیگاؤں: پاور لوم کاروبار بند کا تیسرا دن، کپڑے کی قیمت میں گراوٹ

ترنگا چوک کے قریب  اسپتال سے متصل بجلی کے ڈی پی سے اچانک چنگاریاں نکلنے لگیں اور دیکھتے ہی دیکھتے اس میں  آگ بھڑک اٹھی۔ سرو دھرم آپتکالین سنستھا کے سربراہ شیام ساوئی نے  صورتحال کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے بجلی کمپنی مہاوترن کے لائن مین ثاقب غنی شیخ کو مطلع کیا۔ جس وقت ثاقب کو یہ ہنگامی فون آیا تب وہ اپنے گھر پر کھانا کھانے بیٹھے ہی تھےاورپہلا لقمہ اٹھایا ہی تھا کہ یہ اطلاع ملی۔ثاقب یہ سن کر فوراً دسترخوان سے اٹھے اور جائے حادثہ کی طرف روانہ ہوگئے۔وہاں پہنچتے ہی انہوں نے سب سے پہلے پورے علاقے کی بجلی کی سپلائی بند کردی۔ ان کی اس  کارروائی سے ممکنہ برقی دھماکہ ٹل گیا اور اسپتال میں موجود سیکڑوں مریضوں کی جان بچانے میں مدد ملی۔ اس ریسکیو آپریشن میں ہر شخص نے اپنی استطاعت کے مطابق مدد کی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK