پاورلوم کاروبار بند کا تیسرے دن کپڑا قیمتوں میں زبردست کمی واقع ہوئی اور خام مال کے داموں میں ہوش رُبا اضافے کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
ایک پاور لوم کارخانے کی فائل فوٹو۔ تصویر: آئی این این
پاورلوم کاروبار بند کا تیسرے دن کپڑا قیمتوں میں زبردست کمی واقع ہوئی اور خام مال کے داموں میں ہوش رُبا اضافے کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ پوری ریاست میں مالیگاؤں میں ۷؍ دنوں کا بند اس لئے کیا گیا کہ معاشی خسارے پر قابو پانے کیلئے پروڈکشن کنٹرول کیا جائے۔بند کے ساتھ ہی کپڑے کی قیمتوں میں گراوٹ اور یارن کے بھاؤ میں اضافے کا سلسلہ اور تیز ہوگیا۔ یوسف الیاس نے کہا کہ پاپلین کوالیٹی کے کپڑے کی قیمت فی میٹر ایک روپیہ پچہتر پیسے کم ہوئی۔پہلے فی میٹر ایک روپیہ گراوٹ تھی۔ مالیگاؤں بند کے تیسرے دن اس گراوٹ میں مزید پچہتر پیسے بڑھ گئے۔پاپلین کے علاوہ کیمرک،پالیسٹر اور دوسری اقسام کے کپڑوں کی قیمتیں ایک روپیہ فی میٹر سے ڈھائی روپے فی میٹر تک کم ہوگئی ہیں۔
مالیگاؤں کے تانبا کانٹا مارکیٹ سے منسلک افراد نے گفتگو کے دوران کہا کہ الگ الگ قسموں کے یارن (سُوت/پالیسٹرکے دھاگوں) کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔۵؍ سے ۷؍ روپے فی کلو بھاؤ بڑھا ہے۔ایسے حالات میں جب پروڈکشن کنٹرول پالیسی پر پارچہ بافوں نے عمل آوری شروع کی یارن تاجروں کی لابی نے نئی چال چل دی ہے۔اتنے مہنگے داموں میں خام مال خریدنے کیلئے کارخانے دار تیار نہیں ہوں گے۔واضح رہے کہ مالیگاؤں ریاست مہاراشٹر کا وہ اکیلا پاورلوم مرکز ہے جہاں ۶؍ سے ۱۲؍ اکتوبر تک کارخانے بند رکھے جارہے ہیں۔مالیگاؤں کے علاوہ ایولہ،بھیونڈی،اِچل کرنجی،سانگلی ،کامٹی وغیرہ پاورلوم مراکز پر حسب معمول تجارتی کاروباری سرگرمیاں جاری ہیں۔