• Thu, 17 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

منی پور میں پھر تشدد،۲؍کوکی خواتین کا قتل، مکانات نذر ِ آتش

Updated: September 17, 2026, 11:21 AM IST | Agency | Imphal

مسلح جنگجوؤں نے تامینگ لونگ ضلع میں چند دنوں کے وقفہ سے پھر گاؤں کو نشانہ بنایا، گزشتہ حملے میں ۴؍ افراد کو ہلاک کیا گیا تھا، تازہ حملہ کے بعد گاؤں کے کئی افراد لاپتہ۔

Following the violence in Manipur, attackers set several houses on fire. Photo: INN
منی پور میں تشدد کےبعد حملہ آوروں نے کئی مکانات کو نذر آتش کردیا۔ تصویر: آئی این این

منی پور میں چند ہی دنوں کے وقفہ سے  منگل کو پھر مسلح جنگجوؤں نے تامینگ لونگ ضلع  کے ایک گاؤں کو نشانہ بنایا  اور ۲؍ خواتین کو قتل کرنے کےبعد کئی مکانات اور فارم ہاؤسیز کو نذر آتش کرکے فرار ہوگئے۔  حکام نے مقامی افراد  کے حوالے سے بتایا کہ کوکی برادری سے تعلق رکھنے والی دونوں خواتین لکڑیاں جمع کرنے کیلئے اندرونی علاقے کے لیسانگ پھائی گاؤں میں واقع ایک الگ تھلگ کھیت میں گئی تھیں جہاں مسلح افراد نے انہیں گولی مار کر ہلاک کردیا۔۳؍ مئی ۲۰۲۳ء سے منی پور تشدد کا شکار ہے اور مودی سرکار حالات کو درست کرپانے میں ناکام ہے۔ 

 حملے کے بعد گاؤں کے کئی افراد لاپتہ

مقتول خواتین کی شناخت چونگا سیتلھو(۶۰؍سال) اور کمبوئی سنگسن (۳۰؍سال) کے طور پر ہوئی ہے۔ دونوں کی لاشیں  کھیت میں پڑی ملی ہیں۔ ان کے جسم پر گولی کے نشانات ہیں۔مسلح حملہ آوروں نے چند کچے فارم ہاؤسز کو بھی آگ لگا دی۔  مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کئی دیہاتیوں کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔ یہ ہلاکتیں تامینگ لونگ اور نونی اضلاع میں ۲؍ خواتین اور ایک جوڑے سمیت ۴؍افراد کو گولی مار  دیئے جانے کے ۲؍ دن بعد ہوئی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:نیہا بورا نے لکھنؤ میں بھی یوگی آدتیہ ناتھ کو للکارا، یوپی کو نفرت کی علامت بنا دینےکا الزام لگایا

۲؍ دن قبل  جنگجوؤں نے ۴؍ افرادکا قتل کیا

منگل کی رات ہونےوالے اس حملے سے محض  ۲؍ دن قبل ۱۳؍ ستمبر کو تامینگ لونگ ضلع کے ٹولن کوکی گاؤں میں مشتبہ مسلح افراد نے ایک گھر پر حملہ کیا تھا جس میں ایک خاتون اور اس کے شوہر کی موت ہوگئی تھی جبکہ ان کا شیر خوار بیٹا زخمی ہوگیا تھا۔ اسی روز نونی ضلع کے لونگپی گاؤں میں بھی مسلح افراد نے ایک خاتون اور ایک مرد کو گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔ ۳؍ دنوں کے وقفہ میں  تشدد کی مذکورہ ۳؍ وارداتوں میں  ۶؍ افراد ہلاک ہوئے ہیں اور تمام کا تعلق کوکی برادری  سے ہے۔ 

کوکی برادری  نےانتم سنسکار نہ کرنے کا اعلان کیا

چوراچاندپور ضلع میں کوکی برادری کی ایک بڑی تنظیم’کوکی اِنپی منی پور‘   نے محض چند دنوں میں اپنی برادری کے ۶؍افراد جن میں ۴؍ خواتین ہیں، کے قتل کی مذمت کی ہے۔ تنظیم نے کہا ہے کہ منگل کو ہلاک ہونے والی دونوں خواتین کی لاشیں اس وقت تک لی جائیں گی جب تک انصاف نہیں مل جاتا۔

یہ بھی پڑھئے:جوہر ٹرسٹ سے پانچ سو کروڑ روپے وصول کرنے کی تیاری!

مرکزی اور ریاستی حکومتیں کہاں ہیں: کوکی تنظیم

کوکی برادری کی تنظیم نے سوال کیا ہے کہ ’’مرکزی اور ریاستی حکومتیں کہاں ہیں؟ بے قصور کوکی-زو شہریوں پر بار بار ہونے والے حملوں کے باوجود حکام کب تک  خاموش رہیں گے؟‘‘’کوکی اِنپی منی پور‘ نامی اس تنظیم  نے متنبہ کیا ہے بے قصور شہریوں کو مسلسل نشانہ بنانا اور ان  کے تحفظ میں حکام کی ناکامی صورتحال کو انتہائی خطرناک رخ کی طرف لے جا رہی ہے۔تنظیم نے کہاکہ’’منگل کے حملے میں قتل ہونےوالی  دونوں خواتین کی لاشیں اس وقت تک وصول نہیں  کی جائیں گی جب تک انصاف حاصل نہیں ہوجاتا۔‘‘

۲۶ء میں ۲۲؍ کوکی شہری ہلاک کئے گئے 

کوکی-زو کونسل نے پیر کو الزام لگایا  کہ۲۶ء کے آغاز سے اب تک منی پور میں سرگرم’’ناگا مسلح گروہوں‘‘کے ہاتھوں خواتین اور بچوں سمیت کوکی-زو برادری کے۲۲؍ سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ وادی میں رہنے والی میتی اور پہاڑی علاقوں  میں رہنےوالی کوکی برادریوں کے درمیان جاری نسلی تنازع میںگزشتہ ۳؍ برسوں  میں  ۳۰۶؍ افراد  ہلاک ہوچکے ہیں، جبکہ ۴۹؍ افراد   لاپتہ ہیں اور ہزاروں  لوگ بے گھر ہوچکے ہیں۔ وزیر داخلہ امیت شاہ اکتوبر میں منی پور کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK