کیرالا اسمبلی انتخابی مہم کے دوران بی جے پی امیدواروں نے اسلام مخالف بیانئے کو اپناتے ہوئے رائے دہندگان سے اپیل کی ہے کہ وہ ہندو رکن اسمبلی کا انتخاب کریں، ان مہم میں براہِ راست یا بالواسطہ طور پر مسلم ایم ایل اے کے انتخاب پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔
EPAPER
Updated: April 08, 2026, 6:06 PM IST | Thiruvananthapuram
کیرالا اسمبلی انتخابی مہم کے دوران بی جے پی امیدواروں نے اسلام مخالف بیانئے کو اپناتے ہوئے رائے دہندگان سے اپیل کی ہے کہ وہ ہندو رکن اسمبلی کا انتخاب کریں، ان مہم میں براہِ راست یا بالواسطہ طور پر مسلم ایم ایل اے کے انتخاب پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔
کیرالاکے کم از کم دو انتخابی حلقوں میں، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے امیدواروں جن کا تعلق نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) سے ہے، نے اپنی انتخابی مہم میں اسلام مخالف بیانات دئے ہیں۔ ان مہم میں براہِ راست یا بالواسطہ طور پر مسلم ایم ایل اے کے انتخاب پر سوال اٹھائے گئے ہیں اور آنے والے اسمبلی انتخابات میں اس کی بجائے ’’ہندو ایم ایل اے‘‘کو منتخب کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔یہ تنازع گرووایور اور الووا حلقوں سے پیدا ہوا ہے، جہاں انتخابی تقاریر اور ہورڈنگز پر یہ الزام لگایا گیا ہے کہ ماضی کے منتخب نمائندوں کی مذہبی شناخت کو اجاگر کرکے ووٹروں کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی۔واضح رہے کہ گرووایور میں، این ڈی اے امیدوار اور بی جے پی کے سینئر لیڈر بی گوپال کرشنن نے کہا کہ گزشتہ ۵۰؍ سالوں میں اس حلقے نے کوئی ہندو ایم ایل اے منتخب نہیں کیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ گرووایور جیسے قومی یاترا مرکز کی نمائندگی ہندو قانون ساز کیوں نہیں کر رہا، اور الزام لگایا کہ نہ لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ (ایل ڈی ایف) اور نہ ہی یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (یو ڈی ایف) ہندو برادری سے امیدوار کھڑا کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کیلئے کانگریس کے۴۰؍ اسٹار پرچارکوں کی فہرست جاری
دریں اثناءان تبصروں کے بعد، الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) میں شکایت درج کرائی گئی، جس نے معاملہ گرووایور مندر پولیس کو بھیج دیا اور ڈسٹرکٹ کلکٹر کو مناسب کارروائی کرنے کی ہدایت دی۔ اس کے بعد پولیس نے گوپال کرشنن کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہیتا کی دفعہ۱۹۲؍ (فساد بھڑکانے کی نیت سے اشتعال پھیلانا) اور رپریزنٹیشن آف دی پیپل ایکٹ۱۹۵۱ء کی دفعہ۱۲۵؍ (مذہبی بنیادوں پر دشمنی پھیلانے سے متعلق) کے تحت مقدمہ درج کیا۔مقدمے کے باوجود، گوپال کرشنن نے اپنی مہم جاری رکھی۔ جب میڈیا نے ان سے مذہبی بنیادوں پر انتخابی مہم چلانے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اپنے بیانات پر اصرار کیا اور کہا کہ وہ انہیں دہراتے رہیں گے۔ بعد ازاں۲۷؍ مارچ کو کیرالہ ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو ہدایت دی کہ وہ گوپال کرشنن کے خلاف درج کردہ درخواست پر غور کرے۔ یہ درخواست کیرالا اسٹوڈنٹس یونین (کے ایس یو) کے لیڈرگوکل گرووایور نے جمع کرائی تھی۔کچھ دنوں بعد، وہ پھر تنازع میں آ گئے جب انتخابی ہورڈنگز پر الزام لگایا گیا کہ وہ حلقے میں مسلم ایم ایل اے کے بار بار انتخاب پر سوال اٹھا رہی ہیں، جس پر سیاسی مخالفین اور مبصرین نے تنقید کی۔ان کی انتخابی مہم کے تحت لگائی گئی ہورڈنگز میں۱۹۷۷ء سے لے کر اب تک حلقے کی نمائندگی کرنے والے تمام ایم ایل اے کی فہرست تھی جس کی سرخی تھی، ’’کیا آپ نہیں دیکھتے؟‘‘ پوسٹر پر عبارت تھی۵۰؍ سال کی بے اعتنائی۔ یہ بدلنا چاہیے! اور اسے بدلنے کے لیے… ایڈووکیٹ بی گوپال کرشنن— این ڈی اے کے انتخابی نشان کے ساتھ۔‘‘
کیرالا اسمبلی انتخابات سے قبل کے سی وینوگوپال کے وزیر اعلیٰ وجین سے کچھ اہم سوالات
اگرچہ ہورڈنگز میں واضح طور پر مذہب کا ذکر نہیں کیا گیا، تاہم ان کے نام سبز رنگ کے پس منظر میں لکھے گئے تھے، جبکہ بی جے پی امیدوار کی تصویر اور انتخابی نعرہ بھگوا رنگ میں تھا۔اس ہورڈنگ میں کورو کولیت (آزاد ایم ایل اے،۱۹۵۷ء)، کے جی کرو ناکارا مینن (کانگریس ایم ایل اے،۱۹۶۰ء) اور وی وڈاکن (آزاد ایم ایل اے،۱۹۷۰ء) کے ناموں کو خارج کر دیا گیا، کیونکہ ان کا تعلق مسلم برادری سے نہیں تھا۔مزید برآں اسی قسم کی مہم الووا حلقے میں بھی دیکھی گئی، جہاں بی جے پی کے ایم اے برہماراج این ڈی اے کے امیدوار ہیں۔ مکتوب میڈیا نے وہی ہورڈنگ دریافت کی۔جو گرووایور مندر طرز کی تھی۔
تاہم انڈین یونین مسلم لیگ (آئی یو ایم ایل) کے رکن پارلیمنٹ حارث بیران نے مکتوب سے بات کرتے ہوئے اس مہم کی مذمت کی اور کہا کہ یہ تشویشناک ہے کہ مسلمانوں کو الگ تھلگ کرناانتخابی ہتھیار بن گیا ہے۔انہوں نے یاد دلایا کہ اس سے قبل سی پی آئی (ایم) کے وزیر ساجی چیریئن نے بھی کاسرگوڈ میں جیتنے والوں کے مذہب کو دیکھنے کے لیے اسی طرح کے بیانات دیے تھے۔جبکہ آئی یو ایم ایل کے ریاستی لیڈرایڈووکیٹ محمد شاہ نے مکتوب کو بتایا کہ یو ڈی ایف قیادت نے دونوں معاملوں کو بہت سنجیدگی سے لیا ہے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔جبکہ الووا حلقے کے ایک ووٹر ارویند یو نے مکتوب کو بتایا کہ بی جے پی کی ہورڈنگ ’’بہت خطرناک‘‘ہے اور اس پر خاموشی اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔انہوں نے پوچھا،’’ہم انہیں اپنے ایم ایل اے اور ماضی کے نمائندوں کے طور پر دیکھتے ہیں، نہ کہ صرف مسلمانوں کے طور پر۔ کیرالا میں درجنوں حلقے ایسے ہیں جہاں صرف ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے ایم ایل اے منتخب ہوتے رہے ہیں۔ کیا اسے بے اعتنائی نہیں سمجھا جاتا؟ ان جگہوں پر ایسی طرز کی ہورڈنگز کیوں نہیں ہیں؟‘‘