• Sat, 28 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

تلنگانہ ہائی کورٹ کا حکم: ۸۰۰؍ سالہ قدیم درگاہ کو نہ چھیڑا جائے

Updated: February 28, 2026, 5:04 PM IST | Hyderabad

تلنگانہ ہائی کورٹ نے ویمولواڈا میں واقع ۸۰۰؍ سال پرانی حضرت سید تاج الدین خواجہ باغ سوار درگاہ کے خلاف کسی بھی مسماری، منتقلی یا ساختی تبدیلی پر روک لگا دی۔ عدالت نے حکام کو زبردستی کارروائی سے باز رہنے کی ہدایت کی اور کہا کہ اگلے احکامات تک تاریخی مزار کو چھیڑا نہ جائے۔

The Telangana High Court ۔Photo: X
تلنگانہ ہائی کورٹ۔ تصویر: ایکس

یہ معاملہ ویمولواڈا، ضلع راجنا سرسیلا میں واقع سری راجہ راجیشور سوامی مندر کے احاطے میں موجود حضرت سید تاج الدین خواجہ باغ سوار درگاہ سے متعلق ہے، جس کی تاریخ ۱۲؍ ویں صدی تک بتائی جاتی ہے۔ درخواست گزار محمد ناظم نے عدالت میں عرضی دائر کی کہ درگاہ کے گرد حالیہ باڑ لگانے اور رکاوٹیں کھڑی کرنے سے رسائی محدود ہو گئی ہے اور کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے ۲۶؍ فروری کو سماعت کے دوران واضح کیا کہ: درگاہ کو نہ ہٹایا جائے، نہ منتقل کیا جائے، اور نہ ہی اس میں کوئی ساختی تبدیلی کی جائے۔ بنچ نے ضلع کلکٹر، مندر کے ایگزیکٹو آفیسر اور پولیس سپرنٹنڈنٹ کی یقین دہانیوں کو ریکارڈ پر لیا اور اگلے احکامات تک کسی بھی زبردستی اقدام سے روک دیا۔

یہ بھی پڑھئے: سپریم کورٹ: ایس آئی آر ٹریننگ ماڈیول پر مغربی بنگال حکومت کے اعتراض خارج

درخواست گزار کے وکیل ذیشان عدنان محمود نے عدالت کو بتایا کہ درگاہ آٹھ صدیوں سے مندر کے ساتھ موجود ہے۔ یہ مقام مشترکہ مذہبی اور ثقافتی تاریخ کی علامت ہے۔ کسی بھی منتقلی یا تبدیلی کا اختیار صرف تلنگانہ اسٹیٹ وقف بورڈ کے پاس ہے، نہ کہ مقامی انتظامیہ یا متولی کے پاس۔ سماعت کے دوران یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ بعض حکام نے درگاہ کی منتقلی پر مبینہ طور پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: تلنگانہ: وقف بورڈ کےاعتراضات کےباوجود ۸۰۰؍ سال پرانی درگاہ کو منہدم کرنے کےبعد حکومت تنقید کی زد میں

واضح رہے کہ ویمولواڈا اپنی مذہبی اہمیت کے لیے معروف ہے۔ مقامی افراد کے مطابق، مندر اور درگاہ کی ایک ہی احاطے میں صدیوں سے موجودگی فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بقائے باہمی کی علامت رہی ہے۔ مسلم کمیونٹی کے نمائندوں نے عدالتی مداخلت کو مذہبی آزادی اور تاریخی ورثے کے تحفظ کی جانب اہم قدم قرار دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK