تدفین اور دیگر پروگراموں میں بہار کے گورنر عطاء حسنین اور مرکزی وزیر مملکت مارگریٹا ہندوستان کی نمائندگی کریں گے۔
EPAPER
Updated: July 02, 2026, 10:46 AM IST | New Delhi
تدفین اور دیگر پروگراموں میں بہار کے گورنر عطاء حسنین اور مرکزی وزیر مملکت مارگریٹا ہندوستان کی نمائندگی کریں گے۔
ایران نےوزیراعظم نریندر مودی کو مدعو کرنے کے بعدکانگریس صدر ملکارجن کھرگے، سابق وزیر خارجہ سلمان خورشید، کانگریس کے میڈیا شعبہ کے انچارج پون کھیڑا اور بی جےپی صدر نتن نبین کو بھی شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ا مید کی جارہی ہے کہ آخری رسومات کا جو پروگرام ۴؍ جولائی سے شروع ہوگا ،اس میں مجموعی طور پر ۲؍ کروڑ افراد شریک ہوںگے۔
خامنہ ای، جو۲۸؍ فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں ہلاک ہوئے تھے، کی آخری رسومات ۴؍ جولائی سے شروع ہونے والے متعدد پروگراموں کےبعد ۹؍ جولائی کو ادا کی جائیں گی۔ مرکزی وزیر مملکت برائے خارجہ پبترا مارگریٹا اور بہار کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) سید عطاء حسنین اس پروگرام میں ہندوستان کی نمائندگی کریں گے۔
یہ بھی پڑھئے: ناندیڑ: موجودہ حالات کے تناظر میں مسلم نمائندہ کونسل کے زیر اہتمام اہم اجلاس
ذرائع کے مطابق سید عطاء حسنین، جو اس وقت شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے چند آئینی عہدے داروں میں سے ایک ہیں،۴؍ جولائی کو تہران کیلئے روانہ ہوجائیں گے۔گزشتہ ہفتے ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی آخری رسومات میں شرکت کی دعوت دی تھی۔ تاہم وزیر اعظم مودی چونکہ اس وقت پہلے سے طے شدہ پروگراموں میں ہوںگے اس لئے وزیر مملکت اور بہار کے گورنر ان کی نمائندگی کریں گے۔ایران نے چین، روس، پاکستان اور قطر کے لیڈروں کو بھی اس تقریب میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ پاکستان کی جانب سے ایک سرکاری وفد آخری رسومات میں شرکت کرے گا۔ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق خامنہ ای کی تدفین۹؍جولائی کو امام رضا کے روضے میں کی جائے گی جبکہ اس سے قبل ۶؍جولائی کو تہران،۷؍ جولائی کو قم اور۹؍ جولائی کو مشہد میںتعزیتی پیغام منعقد ہوں گی۔
یہ بھی پڑھئے: ناندیڑ میں شری کانت شندے کے قافلے کو سیاہ جھنڈے دکھائے گئے
ایران نے جین مُنی کو بھی دعوت بھیجی
جین مذہبی پیشوا اور اہنسا وِشو بھارتی کے بانی آچاریہ لوکیش مُنی کو ایران نے آیت اللہ علی خامنہ ای کی سرکاری آخری رسومات میں شرکت کی باضابطہ دعوت دی ہے۔ دعوت نامے میں کہا گیا ہے کہ آچاریہ لوکیش مُنی کی شرکت دونوں ممالک کے درمیان باہمی احترام اور دوستی کی علامت ہوگی۔