مہاراشٹر یو سی سی کمیٹی سے سابق جج نےبد نظمی اور کمیٹی کی منشاء پر سوال اٹھاتے ہوئے استعفیٰ دے دیا، ساتھ ہی انہوں نےکمیٹی کی میٹنگوں کےدوران ہونے والی بد نظمیوں اور غیر ریاستی افسر کی شمولیت پر بھی سوالات اٹھائے ۔
EPAPER
Updated: September 22, 2026, 10:18 PM IST | Mumbai
مہاراشٹر یو سی سی کمیٹی سے سابق جج نےبد نظمی اور کمیٹی کی منشاء پر سوال اٹھاتے ہوئے استعفیٰ دے دیا، ساتھ ہی انہوں نےکمیٹی کی میٹنگوں کےدوران ہونے والی بد نظمیوں اور غیر ریاستی افسر کی شمولیت پر بھی سوالات اٹھائے ۔
سابق ہائی کورٹ جج، جسٹس آر سی چوہان نے یکساں سول کوڈ (Uniform Civil Code - UCC) کا مسودہ تیار کرنے کیلئے مہاراشٹر حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی کمیٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق، جسٹس چوہان نے سنیچر کو کمیٹی کے طریقۂ کار اور کسی دوسری ریاست کے افسر کی شمولیت پر شدید تحفظات اور اختلافات کا حوالہ دیتے ہوئے اپنا استعفیٰ پیش کیا۔ انہوں نے کمیٹی کے کام کاج پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اہم مسائل پر تفصیلی اور بنیادی بحث و مباحثے کے بغیر ہی میٹنگ ختم کر دی جاتی تھیں۔ واضح رہے کہ حکومت نے رواں سال جولائی میں اس سات رکنی کمیٹی کو قائم کیا تھا، جس کی سربراہی سپریم کورٹ کی سابق جج، جسٹس رنجنا دیسائی کر رہی ہیں۔ پی ٹی آئی کے مطابق، اپنے استعفے کے خط میں جسٹس چوہان نے الزام لگایا کہ کمیٹی کے ایجنڈے میں شامل اہم امورجیسے گزشتہ میٹنگ کی کارروائی کے نقاط کی تصدیق، ویب سائٹ میں تبدیلیاں اور سوالنامے کو حتمی شکل دیناچیئرپرسن کی ہدایت پر بغیر کسی سنجیدہ بحث کے جلد بازی میں نمٹا دئیے جاتے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: وندے ماترم کے تمام ۶؍ بند نہ گانے پر مجرمانہ کارروائی نہیں ہونی چاہئے: سپریم کورٹ
مزید برآں انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ دیر سے شادیاں، بانجھ پن، ناپائیدار ازدواجی تعلقات اور تنازعات جیسے اہم موضوعات پر عوام کی رائے حاصل کرنے کیلئےسوالنامہ تیار کرنے پر ممبران کی طرف سے دی گئی تجاویز پر غور ہی نہیں کیا گیا، کیونکہ چیئرپرسن کی جانب سے پہلے سے تیار کردہ سوالات کا ایک متبادل سیٹ اپ لوڈ کرنے کیلئے بھیج دیا گیا تھا۔جسٹس چوہان نے اپنے خط میں ایک غیر ریاستی افسر کی کمیٹی میں شمولیت پر بھی سوال اٹھائے۔ پی ٹی آئی کے مطابق انہوں نے لکھا، ’’مہاراشٹر کے افسران کو شاید یہ احساس ہو سکتا ہے کہ وہ اس ذمہ داری کے اہل نہیں ہیں، اسی لئے کسی دوسری ریاست سے افسر کو بلانا پڑا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ شاید حکومت کو بھی یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اس افسر کو کمیٹی کی کارروائی میں کہاں سیٹ کیا جائے۔ انہوں نے لکھا، ’’اس مسئلے کے حل کیلئے میں استعفیٰ دے کر کمیٹی میں اپنی جگہ خالی کر رہا ہوں تاکہ حکومت جلد از جلد اس خالی نشست کو پر کر سکے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: گجرات: مودی اور امیت شاہ کے پتلے جلانے پر ۲۱؍ کسانوں پر مقدمہ
واضح رہے کہ کمیٹی کی چیئرپرسن جسٹس رنجنا دیسائی اس سے قبل اتراکھنڈ اور گجرات کیلئے بھی یکساں سول کوڈ کے مسودے تیار کرنے والی کمیٹیوں کی سربراہی کر چکی ہیں۔ اس سات رکنی کمیٹی کے دیگر اراکین میں بامبےہائی کورٹ کے سابق جج ایس جی مہارے، سابق چیف سکریٹری ڈی کے جین، سابق ایڈووکیٹ جنرل ویریندر سراف، آئینی ماہر رمیش پتانگے اور ماہرِ تعلیم سورنا راول شامل ہیں۔ جولائی میں وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے کہا تھا کہ کمیٹی سے چھ ماہ کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی امید ہے کیونکہ حکومت اسمبلی کے سرمائی اجلاس میں اس قانون کا مسودہ پیش کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ یکساں سول کوڈ کا مقصد تمام شہریوں کیلئے شادی، طلاق، وراثت اور بچے گود لینے جیسے شخصی قوانین میں یکساں نظام نافذ کرنا ہے۔ فی الوقت مختلف مذاہب کے پرسنل لا ءان کی مذہبی کتابوں اور روایات پر مبنی ہیں۔ تمام شہریوں کیلئے یکساں پرسنل لاء نافذ کرنا حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کے دیرینہ ایجنڈے کا حصہ رہا ہے اور بی جے پی کی حکمرانی والی متعدد ریاستیں اس سمت میں پیش رفت کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: دہلی فسادات ۲۰۲۰ء: شرجیل امام کو کزن کی شادی میں شرکت کیلئے۷؍روز کی عبوری ضمانت
جنوری ۲۰۲۵ء میں بی جے پی کی حکومت والا اتراکھنڈ آزادی کے بعد یکساں سول کوڈ نافذ کرنے والی پہلی ریاست بن گیا تھا، جبکہ گوا میں ۱۸۶۷ء کے پرتگالی سول کوڈ کے تحت پہلے سے ہی یکساں سول کوڈ نافذ العمل ہے۔ اس کے علاوہ گجرات، آسام اور مدھیہ پردیش کی اسمبلیوں میں بھی یکساں سول کوڈ کے بل پاس ہو چکے ہیں اور راجستھان کابینہ نے بھی بل کو منظوری دے دی ہے۔ مغربی بنگال اور چھتیس گڑھ کی حکومتوں نے بھی یو سی سی کا مسودہ تیار کرنے کیلئے کمیٹیاں تشکیل دی ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے قبل ۱۳؍ ستمبر کو مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے اعلان کیا تھا کہ ۲۰۲۹ء کے اگلے لوک سبھا انتخابات سے پہلے بی جے پی اور اس کے این ڈی اے حلیفوں کی قیادت والی ۲۱؍ ریاستوں میں یکساں سول کوڈ نافذ کر دیا جائے گا۔