Updated: October 09, 2026, 11:08 AM IST
| Kolkata
کولکاتا ایئرپورٹ احاطے میں موجود مسجد کو ہٹائے جانے کے سلسلے میں متنازع اب بھی برقرار ہے۔ مسجد ۱۳۶؍ پرانی ہے جبکہ ایئر پورٹ انتظامیہ کی جانب سے یہ دلیل دی جا رہی ہے کہ مسجد کی وجہ سے سیکوریٹی میں خلل پڑ رہا ہے اور طیاروں کی آمدورفت میں دشواری پیش آرہی ہے۔
کولکاتا ہائی کورٹ۔ تصویر: آئی این این
ایئرپورٹ اتھارٹی آف انڈیا (اے اے آئی) نے بدھ کو کولکاتا ہائی کورٹ کو بتایا کہ کولکاتا کے نیتا جی سبھاش چندر بوس انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے احاطے میں قائم ۱۳۶؍ سالہ بانکڑا مسجدجس زمین پر واقع ہے، اسے دہائیوں پہلے مرکزی حکومت نے حاصل کر لیا تھا، اس لئے مسجد کمیٹی کا اس جائیداد پر کوئی قانونی دعویٰ نہیں بنتا۔ پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق، یہ بیانات بانکڑا مسجد کمیٹی کی جانب سے دائر کی گئی اس درخواست کی سماعت کے دوران دئیے گئے جس میں عدالت سے عبوری راحت مانگی گئی تھی تاکہ مصلیوں کو بالخصوص جمعہ کی نماز ادا کرنے کی اجازت مل سکے۔
یہ بھی پڑھئے: عمر خالد نے بین الاقوامی انسانی حقوق ایوارڈ جیتا
بیورو آف سول ایوی ایشن سیکورٹی (بی سی اے ایس) کی جانب سے حفاظتی خدشات ظاہر کئے جانے کے بعد سے رواں سال جولائی سے مسجد میں عوام کے داخلے اور نماز کی ادائیگی پر پابندی عائد ہے۔ ایئرپورٹ اتھارٹی کی طرف سے پیش ہونے والے سینیئر ایڈووکیٹ ایس این مکھرجی نے عدالت کو بتایا کہ ایئرپورٹ کے رن وے کی توسیع کیلئے حکومت نے بہت پہلے یہ زمین حاصل کی تھی اور متاثرہ رہائشیوں کو معاوضہ بھی ادا کیا جا چکا تھا۔ مکھرجی نے ۷؍ فروری ۱۹۶۱؍ کے نوٹیفکیشن کا حوالہ دیتے ہوئے موقف اپنایا کہ اگرچہ لوگوں کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کا بنیادی حق حاصل ہے، لیکن وہ کسی مخصوص جگہ پر ہی عبادت کرنے کا مطالبہ نہیں کر سکتے، خاص طور پر جب معاملہ ایئرپورٹ کی سیکوریٹی سے جڑا ہوا ہو۔ انہوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ مئی کے مہینے میں ایئرپورٹ سیکوریٹی کے مسائل کو حل کرنے کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز بشمول بانکڑا مسجد کمیٹی کے ساتھ ایک میٹنگ کی گئی تھی۔ حکام نے واضح کیا تھا کہ اس مسجد کی وجہ سے پروازوں کی آمد و رفت، بشمول ٹیک آف اور لینڈنگ کے دوران مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
سینٹرل انڈسٹریل سیکوریٹی فورس (سی آئی ایس ایف ) کی جانب سے پیش ہونے والے ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل دھیرج دوویدی نے کہا کہ نماز پر پابندی کا تعلق امن و امان کی صورتحال سے نہیں ہے۔ انہوں نے ۲۰۲۴ء کی ایک بین الاقوامی ایوی ایشن اتھارٹی کی خفیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے دلیل دی کہ عوام الناس کے مفاد پر قومی سلامتی کو فوقیت حاصل رہے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ تنازع پلیسز آف ورشپ ایکٹ کے دائرہ کار میں نہیں آتا، کیونکہ مسجد کا موجودہ مقام ایئرپورٹ رن وے کی کارروائیوں میں خلل ڈالتا ہے۔ دوویدی نے انکشاف کیا کہ حکام نے مسجد کو منتقل کرنے کیلئے ایک متبادل زمین کی پیشکش کی تھی، لیکن مسجد کمیٹی نے ایئرپورٹ کے احاطے سے ہٹنے سے انکار کر دیا۔
یہ بھی پڑھئے: ووٹ چوری کے الزامات پر۴۲؍ سابق ججوں کا کھلا خط، آئینی اداروں کو بدنام کرنے کی کوششوں پر تنبیہ
مغربی بنگال کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بِلوا دل بھٹاچاریہ نے کہا کہ یہ تنازعہ کسی عبادت گاہ کی تبدیلی یا تاریخی عمارت سے متعلق نہیں ہے، بلکہ دہائیوں پہلے حاصل کی گئی زمین اور ایئرپورٹ کی سیکوریٹی کا معاملہ ہے۔ بھٹاچاریہ نے ۱۱؍ ستمبرکے حملوں اور ہندوستانی پائلٹ اسمت مچھار سے جڑے حالیہ واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر سیکوریٹی میں یہ مبینہ خامیاں برقرار رہیں تو کسی بڑے حادثے کا خدشہ ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف، مسجد کمیٹی نے سیکوریٹی خدشات کے دعوؤں کو مسترد کر دیا۔ کمیٹی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مسجد کی ۱۳۶؍ سالہ تاریخ میں کبھی ایسا کوئی سیکوریٹی کا مسئلہ پیش نہیں آیا۔ انہوں نے بتایا کہ پابندی عائد ہونے سے پہلے روزانہ تقریباً ۷۰؍ مصلیوں کو مختلف وقتوں پر، سی آئی ایس ایف اہلکاروں کو اپنے آدھار کارڈ دکھانے اور سیکوریٹی چیک سے گزرنے کے بعد ہی صبح کے وقت نماز کی اجازت دی جاتی تھی۔