Inquilab Logo Happiest Places to Work

کرلا حادثہ: انہدامی کارروائی مزدوروں سے کرائی جانی تھی

Updated: August 24, 2026, 12:15 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai

ایس آر اے کے تحت تعمیر کی جارہی عمارت محض ۱۶؍ برسوں میں ناقابل رہائش ہوگئی اور اسے منہدم کرنا پڑا۔

Police personnel gathered at the accident site in Kurla. Picture: PTI
کرلا میں جائے حادثہ پر پولیس اہلکار جمع ہوئے تھے۔ تصویر: پی ٹی آئی

کرلا میں جو کرین گری تھی وہ ایک نامکمل عمارت کو منہدم کرنے کیلئے لائی گئی تھی جس کی تعمیر ایچ ڈی آئی ایل کمپنی کے ذریعہ ایس آر اے کے تحت ۲۱؍ سال قبل شروع کی گئی تھی۔ تاہم کمپنی کے دیوالیہ ہوجانے کی وجہ سے اس کی تعمیر ادھوری چھوڑ دی گئی تھی۔ اس عمارت کو مکمل کرنے کیلئے ایس آر اے یا حکومت نے کوئی اقدام نہیں کئے اور محض  ۱۶؍ برسوں میں اسے ناقابل رہائش پایا گیا جس کی وجہ سے اسے منہدم کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: مریضوں اور تیمارداروں کی سہولت کیلئے فلاحی اداروں سے معاہدہ کیا جائے گا: وزیر اعلیٰ

اس ۶؍ منزلہ عمارت کی تعمیر ۲۰۰۵ء میں  شروع کی گئی تھی جس میں ۶؍ وِنگ اور ۵۰۰؍ فلیٹ کا ڈیزائن تیار کیا گیا تھا۔ تاہم تعمیراتی کام مکمل نہیں ہوا تھا اس لئے یہ عمارت خالی پڑی تھی اور ایچ ڈی آئی ایل کمپنی دیوالیہ ہوجانے کی وجہ سے اس کام کو بند کردیا گیا تھا۔ بعد میں ایس آر اے نے ایک معاہدہ کے تحت اسے ’ممبئی میٹرو پولیٹن ریجن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی‘ (ایم ایم آر ڈی اے) کو اس شرط پر دے دیا گیا کہ اس میں جو خرابیاں اور خامیاں ہیں اس کی ذمہ داری اور جوابدہی ایس آر اے پر نہیں ہوگی۔ ۲۰۲۱ء میں ایم ایم آر ڈی اے نے اس عمارت کے ڈھانچے کی مضبوطی کا آڈٹ کروایا تو پتہ چلا کہ یہ قابل رہائش نہیں ہے۔ یعنی سیمنٹ کنکریٹ سے تعمیر کی گئی اس عمارت کا معیار ایسا تھا کہ محض ۱۶؍ برس میں اسے منہدم کرنے کی نوبت آگئی جس کی وجہ سے ایس آر اے کے تحت تعمیر کی جانے والی عمارتوں کے معیار پر ایک بار پھر سوال اٹھنے لگے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: معذوروں کے ڈبوں میں عام مسافروں کے سفر کرنے پرسخت کارروائی کا انتباہ

عمارت کمزور پائی جانے کی وجہ سے عوامی تحفظ کے پیش نظر اسے منہدم کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور اس کام کی ذمہ داری نئی دہلی کی کمپنی میسرس ٹوٹل کنسٹرکشن پرائیویٹ لمیٹڈ کو دی گئی اور اس عمارت کو بغیر مشین کے مزدوروں کے ذریعہ منہدم کیا جانا تھا۔ تاہم کرین گرنے کے حادثہ پر معلوم ہوا کہ انہدامی کارروائی کیلئے مشین استعمال کی جارہی تھی۔ ابتدائی مرحلے میں ایم ایم آر ڈی اے نے اپنی ساکھ بچانے کیلئے ٹھیکیدار کمپنی پر ۲۵؍ لاکھ روپے جرمانہ عائد کردیا ہے اور زخمیوں کے علاج، جھوپڑوں کو اور گاڑیوں کو پہنچنے والے نقصان کی بھرپائی کی ذمہ داری بھی ٹھیکیدار پر ڈال دی ہے۔ 

یاد رہے کہ ۲۰؍ اور ۲۱؍ اگست کی درمیانی شب تقریباً ۳؍ بجے کرلا کے قریش نگر میں چربی گلی کے قریب کرین جھوپڑ پٹی پر پلٹ گئی تھی جس کی وجہ سے ایک ۳؍ ماہ کے بچے سمیت ۱۲؍ افراد زخمی ہوگئے تھے۔ اس حادثہ میں  جھوپڑ پٹی کے درمیان سے گزرنے والی برما شیل سنگل ریلوے لائن (جس پر سے مال بردار گاڑیاں ہی گزرتی ہیں ) کے اوور ہیڈ کیبل کو نقصان پہنچا اور ٹرین خدمات متاثر ہوگئی تھیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK