Inquilab Logo Happiest Places to Work

جانوروں کی کمی سے تفریح کیلئےقدیم رانی باغ چڑیا گھر آنےوالوں کی تعدادمیں کمی

Updated: May 07, 2026, 12:01 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

۲۰۲۳ء میں ۲۹؍ لاکھ سے زیادہ سیاحوں نے چڑیا گھر کا دورہ کیاتھا جبکہ ۲۶-۲۰۲۵ء میں یہ تعداد کم ہو کر ۲۵؍ لاکھ ۴۲؍ہزارہو گئی ہے ۔ شہری انتظامیہ کاجلد نئے جانور لانے کا اعلان ۔

There Is A Shortage Of Animals In The Ancient Rani Bagh Zoo, Which Has Led To A Decline In The Number Of Visitors For Entertainment. Photo: INN
قدیم رانی باغ چڑیاگھرمیں جانوروں کی کمی ہے جس سے تفریح کیلئے آنے والوں کی تعداد گھٹ گئی ہے۔تصویر:آئی این این
  جانوروں اور پرندوں کی کمی کے سبب بائیکلہ کے قدیم رانی باغ چڑیا گھر تفریح کیلئےآنے والے افراد کی تعداد میں متواتر کمی آ رہی ہے جس سے انتظامیہ فکرمندہے۔۲۰۲۳ء میں ۲۹؍ لاکھ سے زیادہ سیاحوں نے چڑیا گھر کا دورہ کیا تھا جبکہ ۲۶-۲۰۲۵ء میں یہ تعداد کم ہو کر ۲۵؍ لاکھ ۴۲؍ہزار پہنچ گئی ہے ۔ یہاں آنے والوں کا کہنا ہےکہ پرانے جانوروں کے علاوہ نیا کچھ نہیں ہے اس لئے یہاں آنے کاکیامقصد ہے ۔ اس کے پیش نظر شہری انتظامیہ نے جلد نئے جانور لانے کا اعلان کیا ہے ۔واضح رہے کہ پچھلے ۳، ۴؍برس میں نئے جانور متعارف کرانے میں ہونےوالی ناکامی کی وجہ سے یہاں آنے والے سیاحوں کی تعداد کم ہوئی ہے ۔ حال ہی میں ختم ہونے والے مالی سال کی رپورٹ کے مطابق امسال ۲۵؍ لاکھ ۴۲؍ہزار سیاحوں نے چڑیا گھر کا دورہ کیا اور پونے ۱۰؍کروڑ روپے کی آمدنی حاصل ہوئی جبکہ ۲۰۲۳ء میں ۲۹؍لاکھ سے زیادہ افراد تفریح کیلئے آئے تھے۔
رانی باغ چڑیاگھر میں واقع بی ایم سی کے زولوجیکل میوزیم کا سیاح بڑی تعداد میں دورہ کرتے ہیں۔ یہاں روزانہ ۱۰؍ سے ۱۵؍ہزار سیاح آتے ہیں۔ سنیچر ، اتوار اور چھٹی والے دن یہ تعداد ۲۰؍ہزار سے تجاوز کر جاتی ہے ۔ تقریباً ڈھائی ( ۲ء۵)ملین سیاح سالانہ آتے ہیں جبکہ امسال ۲۵؍لاکھ ۴۲؍ہزار سیاحوں نے یہاں کادورہ کیا ۔ اگرچہ یہ تعداد گزشتہ سال کے مقابلے زیادہ ہے لیکن ۲۳-۲۰۲۲ء کے مقابلے  اس میں کمی آئی ہے۔
 
 
رانی باغ چڑیاگھر(ویرجیجاماتا بھوسلے بوٹانیکل گارڈن اینڈ زو) میں پینگوئن   آنے سے پہلے تقریباً ۱۲؍ لاکھ سیاح یہاں آتے تھے اور سالانہ آمدنی تقریباً ایک کروڑ روپے تھی۔ پینگوئن کی آمد کے بعد سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ  ۲۰۱۷ء میں بی ایم سی نے یہاں کی داخلہ فیس میں اضافہ کیا جس سے سالانہ آمدنی میں اضافہ ہوا جس کی وجہ سے چڑیا گھر کو سالانہ ۵؍سے ۷؍کروڑ روپے کی آمدنی ہونے لگی۔ لاک ڈاؤن کے بعد یہاں آنے والے سیاحوں کی تعداد میں قدرے اضافہ ہوا جس سے آمدنی بھی ۱۱؍کروڑروپے سے تجاو زکر گئی ۔ اس کے بعد کے مالی برسوں میں اس تعداد میں کمی آئی ہے ۔ 
 
 
سیاحوں کی کمی کی ایک بڑی وجہ چڑیا گھر میں نئے جانوروں کی کمی بتائی گئی ہے ۔ پینگوئن کی کشش میں آنے والی کمی بھی سیاحوں کی تعداد میں اضافہ نہ ہونے کی وجہ بتائی جا رہی ہے۔بی ایم سی کے اعلیٰ حکام کے مطابق لاک ڈاؤن کے بعد بڑی تعداد میں سیر وتفریح کیلئے باہرنکلنے والوںکی تعداد میں ہونے والے اضافے سے چڑیا گھر کا دورہ کرنے والوں کی تعداد بڑھی تھی۔ اس کے بعد سیاحوں کی تعداد اچانک ۳؍برس  سے کم ہو رہی ہے۔ حالانکہ چڑیا گھر میں ریچھ، ہرن، اژدھا، شتر مرغ اور مختلف اقسام کے پرندوں کے علاوہ ۲۱؍پینگوئن، شیر اور ۶؍ ہزار ۶۱۱؍ درخت اور پودے ہیں۔ رنگ برنگے سارس، مختلف قسم کے بگلے اور آبی پرندے بھی ہیں لیکن نئے شیروں کو لانے کا منصوبہ تعطل کا شکار ہے ۔ نئے شیروںکوجلدلانے کی کوشش جاری ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK