• Tue, 06 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

قبائلی طلبہ کےسرکاری ہاسٹل میں بنیادی اورضروری سہولیات کا فقدان، طلبہ پریشان

Updated: October 06, 2026, 3:30 PM IST | Owais Siddiqui | Mira Road

کانگریس کے وفد نے ہاسٹل کا دورہ کیا ۔میونسپل کارپوریشن میں اپوزیشن لیڈر آفرین مظفر حسین نے احتجاج کا انتباہ دیا۔

A Congress delegation visited the tribal students` hostel. Photo: INN
کانگریس کے وفد نے قبائلی طلبہ کے ہاسٹل کے دورہ کیا۔ تصویر: آئی این این

 یہاں میرا گاؤںعلاقے میں واقع قبائلی طلبہ کے سرکاری ہاسٹل میں ان دِنوں بنیادی اور ضروری سہولیات کا فقدان پایا جارہا ہے۔ صفائی سے لےکر طلبہ کے تحفظ تک طرح طرح کے مسائل  سامنے آئے ہیں۔ حالانکہ مذکورہ ہاسٹل کی عمارت کی تعمیر کو۴؍ سال گزر چکے ہیں ،۳؍ منزلہ یہ ہاسٹل ریاستی حکومت کے زیر انتظام ہے لیکن اب بھی طلبہ بنیادی سہولیات سے محروم ہیں ۔ ہاسٹل انتظامیہ نے ان سہولیات سے متعلق ریاستی حکومت اور پی ڈبلیو ڈی محکمہ کو خطوط کےذریعے بارہا مطلع کیا لیکن اس  تعلق سے خاطرخواہ جواب نہیں مل پایا۔ 

یہ بھی پڑھئے:اسکالرشپ اور دیگر بنیادی تعلیمی سہولیات کیلئے قبائلی طلبہ کا ممبئی مارچ

میرابھائندر کانگریس کمیٹی کے ایک وفد نے ہاسٹل کا دورہ کیا اور طلبہ سے گفتگو کرکے ان کی پریشانیوں کو سنا اورصورتحال کا جائزہ لیا ۔  اس ضمن میں شہر کانگریس کے قبائلی شعبہ کے صدررویندر کھرات نے انقلاب کو بتایا کہ مذکورہ ہاسٹل   ۲۰۲۲ء میںتقریباً۲۱؍ کروڑ روپے کی لاگت کے ساتھ بنایا گیا جس کا افتتاح اس وقت کے قبائلی  امور کے ریاستی وزیروجے کمار گاوت کے ہاتھوں ہوا لیکن اب بھی طلبہ بنیادی سہولیات کیلئے پریشان ہیں۔ انہوں نے ہاسٹل کی صورتحال کے متعلق بتاتے ہوئے کہا کہ وفد کے دورے کے وقت معلوم ہواکہ ہاسٹل میں صاف صفائی کا  معقول انتظام نہیں ہے، جگہ جگہ بجلی کے تار بھی کھُلے ہیں جن سے کسی بھی وقت حادثے کا خدشہ لگا رہتا ہے ،  جب سے ہاسٹل کی شروعات ہوئی ہے تب سے لے کر آج تک لفٹ بند ہے جبکہ پارکنگ ایریا میں جو شیڈ ہیں،  وہ بہت خستہ حال ہیں جن سے کبھی بھی حادثات ہونے کے   امکانات ہیں ، ہاسٹل میں سی سی ٹی وی کیمرے تک موجود نہیں ہیں ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ طلبہ کی حفاظت کا بھی کوئی انتظام نہیں ہے، کوئی سرکاری گارڈ وہاں موجود نہیں ہے جو ہاسٹل عمارت اور احاطے وغیرہ کی نگرانی کرے۔

یہ بھی پڑھئے:انک بیسٹ ڈپو میں بھیانک آتشزدگی، ۱۲؍ سی این جی بسوں کو نقصان

  اکشے پٹلے  نامی  طالب علم جو نندوربار سے تعلق رکھتے ہیں اور ایل ایم ایم کےطالب علم ہیں،   بتاتے ہیں کہ ہاسٹل میں کل ۳۹۷؍  طلبہ کی گنجائش ہے جبکہ تمام طلبہ قبائلی کمیونیٹیز سے تعلق رکھتے ہیں اور غریب و معاشی طور پر کمزور خاندان سے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ گوریگاؤں کی آدیواسی ہاسٹل کی عمارت کے ٹوٹنے کے بعد تقریباً ۱۵۰؍ طلبہ اس ہاسٹل میں رہائش کیلئے آئے جن میں وہ بھی شامل ہے، اس کے باوجود یہاں آنے کے بعد مزید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اکشے نے یہ بھی بتایاکہ ہاسٹل میں حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے سبب رات کو سماج دشمن عناصر یہاں آکر شراب نوشی اور   منشیات کا استعمال کرتے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان تمام مسائل سے طلبہ کو کئی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جس کے سبب ان کی پڑھائی متاثر ہو رہی ہے۔ 

کانگریس کے وفد کی قیادت کررہی میونسپل کارپوریشن میں اپوزیشن لیڈر آفرین مظفر حسین نے انقلاب کو بتایا کہ وفد کے دورے میں طلبہ کے مسائل سنے گئے اور ہاسٹل انتظامیہ سے بھی ان مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیاجس میں اس بات کا نکشاف ہوا کہ ہاسٹل انتظامیہ کی جانب سے ان تما م مسائل سے متعلق شکایات خطوط کے ذریعےریاستی حکومت اور پی ڈبلیو ڈی محکمہ تک پہنچا ئی گئی ہیں لیکن حکومت کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا، نہ ہی کسی مسئلے پر عمل درآمد کیا گیا۔ انہوں نےیہ بھی کہا کہ وفد نےحکومت کو انتباہ دیا ہےکہ اگر جلد اس معاملےمیں کوئی پیش ِرفت نہیں کی جاتی ہے تو شہر کانگریس کمیٹی کی جانب سے احتجاج کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK